اردو میں دخیل الفاظ کی روایت

جب ایک زبان کے الفاظ کسی دوسری زبان میں داخل ہوں تو انھیں دخیل الفاظ کہا جاتا ہے۔ دوسری زبان میں داخل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پوری طرح اس زبان کا حصہ بن جائیں اور اس زبان کے بولنے والے ان الفاظ سے اپنی زبان کے سانچوں اور قواعد کے تحت ویسا ہی برتاؤ کریں جیسا وہ اپنی زبان کے الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں۔ لفظ دو طرح سے کسی زبان میں داخل ہوتے ہیں ایک براہ

Read more

کچھ نثری نظم کے بارے میں

نثری نظم شاعرانہ نثر سے اس لیے ذرا مختلف ہے کہ اس میں زبان و بیان شاعرانہ ہو نہ ہو، خیال شاعرانہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ نثر سے اٹھی ہوئی اور شعر کے قریب پہنچی ہوئی شے ہے جبکہ شاعرانہ نثر میں کسی بھی موضوع کو شاعرانہ زبان و بیان میں ادا کر دیا جاتا ہے اس لیے وہ شاعری ہونے کا دعویٰ نہیں کرتی۔ رہا معاملہ جذبات کا تو جذبات خالص شعری شے ہیں جن کا

Read more

سماجی لسانیات اور اس کی اصطلاحات

امریکی ماہرِ لسانیات ویلیم لیبوف کو تغیر پسند سماجی لسانیات کا بنیاد گزار سمجھا جاتا ہے۔ جنھوں نے لوگوں سے میل جول کے دوران ان کے لب و لہجے اور زبان کی ساخت اور نوعیت میں تبدیلی کو محسوس کیا یہاں سے ان کا اضطراب بڑھا اور وہ زبان کے سماجی دائرہ کار پر غور کرنے لگے۔ اس ضمن میں برطانوی ماہرِ لسانیات باسل برنسٹائن اور رچرڈ ہڈسن نے قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں۔ ان لسانیات کے ماہرین کا کام

Read more

ایموجی: ایک نئی عالمی زبان

لفظ معنی کی ترسیل کا واحد ذریعہ نہیں ہیں۔ جب لفظ نہیں تھے معنی تب بھی موجود تھے اور ان کے ابلاغ کا کوئی نہ کوئی ذریعہ بھی موجود تھا۔ وہ ذریعہِ ابلاغ کیا تھا؟ انسانی عقل کا مشاہدہ بتاتا ہے کہ وہ ذریعہ اشارے، علامتیں، چہرے کے تاثرات اور لمس تھا یعنی آج کا ترسیلِ معنی کا تیز ترین ذریعہ ایموجی، معنی کی ترسیل کا قدیم ترین ذریعہ ہے یوں کہیے کہ جب لفظ بھی نہیں تھے تب ایموجیز

Read more

لیاقت علی عاصم فن اور فکر

معاصر غزل گو لیاقت علی عاصم کا شمار شعرا کی اس قبیل سے ہوتا ہے جو عوام کے دلوں کو چھوتے ہوئے اور خواص کی توجہ حاصل کرتے ہوئے غزل کی روایت کو آگے بڑھاتے ہیں۔انھوں نے نہ تو جدت سے منہ موڑا نہ روایت سے دامن چھڑایا بلکہ روایت سے شعر کہنے کا سلیقہ سیکھ کر آج کے مسائل و موضوعات کو غزل کے دامن میں سمویا۔ انھی کے بقول تمھاری طرح سے لکھتا تو مٹ چکا ہوتا یہ

Read more

زوال آمادہ معاشرے میں مشاعرہ

مشاعرہ تہذیب کی علامت ہے۔ مشاعرہ مذہبی مجلس نہیں ہے۔ سیاسی جلسہ نہیں ہے۔ اسمبلی ہال نہیں ہے۔ نیلام گاہ نہیں ہے۔ اسٹیج شو نہیں ہے اور نہ ہی کوئی دوسری جائے ہلڑ بازی ہے۔ مشاعرے میں گہرے افکار اور عمیق جذبات کو لطیف پیرائے میں بیان کیا جاتا ہے جسے سننے کا سلیقہ آنا از حد لازم ہے۔ بد قسمتی سے شعرا اور سامعین نے مشاعرے کو تماشا گاہ بنا دیا ہے۔ اس میں مجموعی معاشرتی فضا کے علاوہ

Read more

معاصر اردو غزل کے خد و خال

معاصر غزل دو انتہاؤں پر کھڑی ہے ایک طرف جدیدیت کے نام پر پھکڑ بازی ہے تو دوسری طرف روایت کے نام پر فرسودگی ہے۔ ایک دو موضوعات اور شعر کہنے کی ایک آدھ تکنیک ہاتھ آ جائے تو اس سے کتنی دیر تک دلچسپی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ یہی ایک دو موضوعات اور ایک آدھ تکنیک آج کم و بیش سبھی کے ہاں ایک جیسی ہے۔ ستم تو یہ ہے کہ موضوعات سطحی، تکنیک عامیانہ اور زبان ادبیت

Read more

جواں سال محقق فرہاد احمد فگار کے ساتھ ایک شام اور مشاعرہ

اپنے عہد کے باشعور شخص کو پہچاننا، اس کی خدمات کا اعتراف کرنا اور اس کی تعظیم کرنا تہذیب یافتہ معاشروں اور صاحب بصیرت اشخاص کا خاصا ہے۔ اگر وہ شخص اپنے ہی شعبے کا ہو تو اس کی قابلیت اور اہلیت کا اعتراف، اس کے فن کی ستائش اور اس کی تعظیم کرنا بڑے ظرف کی بات ہے۔ یہ تعظیم، ستائش اور اعتراف اس کی زندگی ہی میں ہونا چاہیے اس سے اس شخص کو زمانے کی ناقدری کا

Read more

عورت عورت کے تناظر میں : منتخب نظموں کا تانیثی مطالعہ

تانیثیت انگریزی لفظ feminism کا اردو متبادل ہے۔ یہ ایک کثیر الجہتی اصطلاح ہے جس میں حقوق نسواں اور آزادی نسواں کے نظریے اور تحریک کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ عورت اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہے، اپنے استحصال کے خلاف بولتی ہے اور بلا جنسی تفریق وہ اپنے لیے مرد کے برابر آزادی اور حقوق طلب کرتی ہے یہی رجحان تانیثیت ہے جو تحریک کی شکل اختیار کرتا ہے۔ عورت سمجھتی ہے کا اس کا مرد سے

Read more