تحریکِ انصاف اور سوشل میڈیا کا زہر

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان کی سیاست میں جو سب سے بڑا ہتھیار بن کر ابھرا ہے، وہ بندوق نہیں، قلم نہیں، بلکہ سوشل میڈیا ہے۔ ٹویٹر، فیس بک، یوٹیوب اور اب اسپیسز جیسے پلیٹ فارمز پر ایک ایسا بیانیہ پروان چڑھایا گیا ہے جس کا مقصد صرف سیاسی مخالفین پر تنقید نہیں، بلکہ ریاست کے بنیادی ستونوں کو مشکوک بنانا، تقسیم پیدا کرنا اور ادارہ جاتی اعتماد کو مجروح کرنا ہے۔
یہ بات اب ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ تحریکِ انصاف کے بعض سوشل میڈیا اکاؤنٹس، بالخصوص اوورسیز نیٹ ورکس سے جڑے افراد، ایک مخصوص ریاست مخالف بیانیہ منظم انداز میں پھیلا رہے ہیں۔ یہ بیانیہ محض تنقید نہیں بلکہ واضح دشمنی پر مبنی ہے۔ ایسی دشمنی جو فوج، عدلیہ اور ریاستی ڈھانچے کو ”طاقت کا مرکز“ قرار دے کر عوام کے ذہنوں میں بغاوت کے بیج بوتی ہے۔
سوال یہ ہے : کیا ایک سنجیدہ سیاسی جماعت، جو ایٹمی ریاست کی باگ ڈور سنبھالنے کی خواہش رکھتی ہے، ایسی مہمات کا حصہ بن سکتی ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی قومی جماعت ریاستی اداروں کے خلاف زہر گھولے اور پھر ”نیا پاکستان“ کے خواب دکھائے؟
ایسے میں جب تحریکِ انصاف کے کئی رہنما گرفتاریوں، مقدمات اور سیاسی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں، پارٹی کی سینئر قیادت کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ شاہ محمود قریشی جیسے سیاستدان، جنہیں تدبر، حکمتِ عملی اور قومی سوچ کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے، کیا واقعی اس بیانیے سے اتفاق کرتے ہوں گے؟
قریشی صاحب جیسے سیاستدان کا کیریئر ملک کے اہم سفارتی اور سیاسی موڑوں سے جڑا رہا ہے۔ ان کا ماضی، چاہے وزیرِ خارجہ کے طور پر ہو یا پارلیمانی رہنما کے طور پر، ہمیشہ توازن، گفتگو اور ریاستی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی کا مظہر رہا ہے۔ کیا وہ اس خطرناک بیانیے کا حصہ بن سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ بلکہ یقیناً نہیں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ تحریکِ انصاف کی قیادت کھل کر یہ اعلان کرے کہ وہ ان تمام عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کرتی ہے جو سوشل میڈیا پر ریاست مخالف جذبات ابھار رہے ہیں۔ یہ اعلان صرف اخلاقی نہیں بلکہ سیاسی، آئینی اور قومی ذمہ داری بھی ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی بلوغت اور قیادت کی اصل پہچان سامنے آتی ہے۔ کیا پارٹی اپنے بیانیے کو شفاف اور قومی مفاد کے مطابق بنانے کی ہمت رکھتی ہے؟ کیا وہ ان اوورسیز نیٹ ورکس اور ”انقلابی دانشوروں“ سے نجات حاصل کر سکتی ہے جو صرف آگ لگاتے ہیں مگر خود دور کھڑے تماشا دیکھتے ہیں؟
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی ریاست ہے، ایک حساس ریاست، ایک ذمہ دار ریاست۔ یہاں کسی سیاسی تجربے کی گنجائش نہیں۔ اداروں کے ساتھ محاذ آرائی نہ صرف پارٹی کے لیے بلکہ ریاست کے لیے بھی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔
کیا یہ ممکن ہے کہ ایک طرف فوج مخالف جذبات ابھارے جائیں، اور دوسری طرف عوام کو یقین دلایا جائے کہ ہم ہی ریاست کی بہتری چاہتے ہیں؟ یہ تضاد ہی اس پورے بیانیے کی کمزوری ہے۔
اگر تحریکِ انصاف کو واقعی ایک قومی جماعت بننا ہے، اگر وہ کل کو اقتدار میں آ کر ملک چلانا چاہتی ہے، تو آج اسے ثابت کرنا ہو گا کہ وہ آئینِ پاکستان، ریاستی اداروں اور قومی وقار پر یقین رکھتی ہے۔ یہ صرف نعرے لگانے کا وقت نہیں، یہ ایک فیصلہ کن امتحان ہے۔ کردار کا، قیادت کا، اور حب الوطنی کا۔
آخر میں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ریاستی اداروں پر تنقید سیاست کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر ان کی تذلیل اور نفرت پھیلانا ملک دشمنی کے زمرے میں آتا ہے۔ آج وقت ہے کہ کوئی سچ بولے، کھل کر، بے خوف ہو کر کیونکہ خاموشی اب جرم بن چکی ہے۔


میرے خیال میں تحریک انصاف کو اس چلن کا ذمہ دار ٹہرانا بے سود ہوگا۔
2018 کے الیکشن کے وقت سے ن لیگ بھی ایسا ہی چلن اپنائے ہوئے تھے۔ وہ بس الیکٹرانک میڈیا پر زیادہ تھے سوشل میڈیا کو اس وقت انہوں نے نہیں پکڑا تھا کیونکہ چینلز اور لفافہ صحافیوں سے ان کا کام چل رہا تھا۔
خان صاحب کی حکومت میں جب جج اور فوجیوں کے خلاف ٹوٹوں اور جعلی ویڈیوز اور اسکینڈل کی مہم چلی کیا وہ کسی سے کم تھی۔ یہ درست ہے کہ اگر ن لیگ کو 100 میں 70 ملیں گے تو انصافیوں کو 90۔ لیکن گالم گلوچ میں کوئی بھی پیچھے نہیں کیا پیپلز پارٹی اور کیا جمیعت علمائے والے۔
خان صاحب چونکے خود بھی دوسروں کی پھبتی اڑاتے ہیں تو ان کے چاہنے والے ان سے دو قدم آگے ہیں۔ اگر کوئی سنجیدہ اور باشعور شخص ان کی جگہ حکمراں ہوتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی۔