ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا پھیلاؤ اَور زرعی زمینوں کا تحفظ۔ ایک قومی چیلنج
پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور شہروں کی جانب نقل مکانی نے رہائش کے بحران کو جنم دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں ہاؤسنگ سوسائٹیوں کا جال بچھ چکا ہے۔ یہ سوسائٹیاں بظاہر جدید، منظم اور پرکشش نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کی توسیع کے پیچھے ایک سنگین حقیقت پوشیدہ ہے۔ یعنی ہمارے قیمتی زرعی وسائل کا خاتمہ ہے۔
جب کبھی ہم لاہور سے ملتان کا سفر کرتے تھے تو ملتان میں داخل ہونے سے پہلے سڑک کے کے دونوں جانب آم کے خوشبودار باغات ہمارا استقبال کرتے تھے۔ وہ باغات جن میں فطرت اپنی پوری شان سے جلوہ گر ہوتی تھی۔ آج اُن کی جگہ کشادہ سڑکوں والے گیٹ، بلند و بالا دیواریں اور پرتعیش ہاؤسنگ سوسائٹیوں نے لے لی ہے۔ نہ صرف ملتان بلکہ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، کراچی اور دیگر شہروں کے اطراف بھی یہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ زرعی زمینیں تیزی سے کنکریٹ کے جنگلوں میں بدل رہی ہیں۔
یہ عمل صرف ایک سماجی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ماحولیاتی اور معاشی بحران کا پیش خیمہ بھی ہے۔ زرعی زمینیں وہ اثاثہ ہیں جن پر قوم کی خوراک کا دار و مدار ہوتا ہے۔ اگر یہی زمینیں رہائشی منصوبوں میں بدلتی رہیں تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پچھلے چند برسوں میں بڑے شہروں کے مضافاتی علاقوں میں ہزاروں ایکڑ زرعی زمین ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی نذر ہو چکی ہے۔ بعض اوقات یہ سوسائٹیاں غیر قانونی طور پر زرعی زمین پر قائم کی جاتی ہیں، اور بعد ازاں قانونی شکل دے دی جاتی ہے۔ مقامی کسان جو اپنی زمینوں سے وابستہ ہوتے ہیں، مجبوراً انہیں فروخت کر کے شہروں کی چکاچوند میں کھو جاتے ہیں۔
حکومت کی سطح پر اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ رجحان ایک خطرناک صورت اختیار کر سکتا ہے۔ ایک وقت ایسا آ سکتا ہے کہ حکومت کو قبضہ مافیا کی طرح ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے خلاف کارروائیاں کرنا پڑیں، اور زمینوں کو واپس زرعی مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کے لیے گھر گرانے پڑیں۔ یہ ایک المیہ ہو گا۔ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک مربوط اور مضبوط حکمتِ عملی مرتب کریں۔
اگر آج ہم نے ہوش مندی سے اقدامات نہ کیے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ خوراک کی قلت، مہنگائی، ماحولیاتی آلودگی اور معاشرتی ناہمواری ہمارے مستقبل کی حقیقت بن جائیں گی۔ ہمیں رہائش کی سہولتوں کی ضرورت ہے، مگر اس کی قیمت ہماری زمینوں کا خاتمہ نہیں ہونی چاہیے۔ ہمیں ترقی کی ایسی راہ چننی ہے جو پائیدار ہو، متوازن ہو اور انسان اور فطرت دونوں کے لیے سودمند ہو۔

