دریاؤں کے بہاؤ میں کمی اور پانی کا مستقبل


پاکستان کے وہ علاقے جو صدیوں سے سندھُو دریا اور اس کے معاون دریاؤں کے فیضان سے سرسبز رہے ہیں، آج ایک ایسے سنگین آبی بحران کے دہانے پر کھڑے ہیں جو اس کے زرعی ڈھانچے، ماحولیاتی توازن اور توانائی کے نظام کو جھنجھوڑ سکتا ہے۔ اور یہ بحران سندھ پہلے ہی سے جھیل رہا ہے۔ 1980 سے 2022 تک دریاؤں کے بہاؤ کے اعداد و شمار کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ مغربی دریاؤں (سندھُو، جہلم، چناب) اور مشرقی دریاؤں (راوی، ستلج) دونوں کے بہاؤ میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت، بھارت کو مشرقی دریاؤں پر مکمل اختیار حاصل ہے، اس لیے وہاں سے پانی کی بندش سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں۔ پاکستان کو ان دریاؤں سے صرف مون سون کے موسم میں کچھ پانی ملتا ہے، اور وہ بھی اس صورت میں جب مغربی دریا بھی بھرے ہوں، اس لیے وہ پانی عملی طور پر استعمال کے قابل نہیں ہوتا۔ ادھر پاکستان کے اندر بالائی علاقوں میں بیٹھے لوگ مغربی دریاؤں سے اپنے حصے سے زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں قلت یا کمی کی نہ تو خبر ہے اور نہ فکر۔

ماحولیاتی تبدیلی، اپ اسٹریم بندشیں اور ناقص آبی پالیسیز اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔

اعدادی انتباہ (اسٹیٹسٹیکل وارننگ) :

دریاؤں کے بہاؤ کا ڈیٹا (ملین ایکڑ فٹ میں ) 41 سال کی ایک حقیقت بیان کرتا ہے، جسے دو ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے : 1981۔ 2000 اور 2001۔ 2022۔ مغربی دریاؤں کا اوسط مجموعی بہاؤ 137 MAF سے کم ہو کر 116 MAF رہ گیا۔ یعنی 15 فیصد کمی! سندھُو دریا کا بہاؤ 88 سے 72 MAF، جہلم کا 23 سے 21، اور چناب کا 27 سے 23 MAF پر آ گیا۔

مشرقی دریاؤں کی صورتحال تو اور بھی تشویشناک ہے۔ ان کا اوسط بہاؤ 8.55 MAF سے گھٹ کر صرف 2.88 MAF رہ گیا۔ یعنی 66 فیصد کمی! زیادہ سے زیادہ بہاؤ 16.58 سے 7.10 MAF اور کم سے کم بہاؤ 1.08 سے گھٹ کر 0.30 MAF ہو گیا۔ تغیر (variance) بھی 19.01 سے کم ہو کر 4.12 MAF ہو گیا، جو ظاہر کرتا ہے کہ نہ صرف پانی کم ہو گیا ہے، بلکہ وہ کمی اب مستقل ہو چکی ہے۔

رجحانات کیا بتاتے ہیں؟

لینیئر ریگریشن سے معلوم ہوتا ہے کہ مغربی دریاؤں میں اوسط سالانہ کمی تقریباً 1 MAF کے برابر ہے، اور اس میں سب سے بڑی کمی سندھُو دریا میں ہے۔ 0.78 MAF سالانہ! جہلم ( 0.07 ) اور چناب ( 0.16 ) کی کمی شماریاتی طور پر کم اہمیت رکھتی ہے۔ مطلب سب سے زیادہ متاثر سندھُو ہے۔ جس پر ہی سب سے زیادہ انحصار بھی ہے اور سب سے زیادہ دباؤ بھی۔

مشرقی دریاؤں کا بہاؤ ہر سال 0.24 MAF گھٹ رہا ہے۔ اور یہ یاد رہے کہ یہ دریا ایوب خان کے دور میں پہلے ہی بھارت کو منتقل کیے جا چکے تھے۔

پانچ سالہ موونگ ایوریج/ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہوئی اوسط کے ذریعے بھی رجحانات واضح ہیں۔ مغربی دریا 1993۔ 94 میں 151 MAF پر تھے، جو 2018۔ 19 میں کم ہو کر 112 MAF رہ گئے۔ مشرقی دریا 1993۔ 94 میں 10.02 MAF پر تھے، لیکن 2000 کے بعد مسلسل 1 سے 4 MAF کے درمیان گھٹتے چلے گئے۔ یہ تیز کمی بھارت کے اپ اسٹریم کنٹرول کی عکاسی کرتی ہے۔ جو سندھ طاس معاہدے کی بنیادی روح کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ اس کا منطقی نتیجہ ہے۔

بحران کی وجوہات:

ہمالیہ میں بڑھتے درجہ حرارت سے گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار تو بڑھی ہے، مگر برفباری میں کمی کے باعث مستقبل میں پانی کی شدید قلت کا خدشہ ہے۔ کچھ رپورٹس کے مطابق 2100 تک ہندوکش، ہمالیہ کے ایک تہائی یا نصف گلیشیئرز ختم ہو سکتے ہیں۔

پاکستان کے اندر، خاص طور پر خریف کے موسم میں، زرعی ضرورتوں سے زائد پانی نکالا جاتا ہے، جس سے مغربی دریاؤں پر دباؤ بڑھتا ہے۔ اس کے علاوہ مون سون کی بے ترتیبی بھی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

انسانی اور معاشی اثرات:

مغربی دریا پاکستان کی 90 فیصد آبپاشی ضروریات پوری کرتے ہیں، جو دیہی معیشت کا 70 فیصد اور 80۔ 90 ارب ڈالر کی زرعی معیشت سنبھالتے ہیں۔ 21 MAF کی کمی گندم، چاول، گنے اور کپاس کی پیداوار کو براہ راست متاثر کر رہی ہے، اور 25 کروڑ آبادی کے لیے غذائی قلت کے خطرے کو بڑھا رہی ہے۔ پچھلی/آخری حصے کی زمینیں، چھوٹے کاشتکار، اور سندھ کے کسان سب اس کی زد میں ہیں۔

1960 کا معاہدہ۔ ایک پرانی زنجیر:

سندھ طاس معاہدہ بظاہر برابری پر مبنی تھا، لیکن اس نے بھارت کو مشرقی دریاؤں پر مکمل اختیار دے دیا۔ اس معاہدے کے بعد پاکستان کو مستقل کم ہوتے ہوئے مغربی دریاؤں پر انحصار کرنا پڑا۔ افسوس کی بات ہے کہ سندھ اور ڈیلٹا کے لیے نہ تب کوئی سنجیدہ منصوبہ بندی کی گئی، نہ آج کی جا رہی ہے۔ آئین، جمہوریت، اور انصاف کے نعرے بھی سندھ کے لیے محض الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔

آج کے دن تک ڈیموں میں 3.5 MAF پانی موجود ہے، اور دریاؤں میں 2 لاکھ کیوسک سے زائد بہاؤ جاری ہے۔ مگر سندھ میں 35 فیصد پانی کی قلت ہے، اور بڑھتی گرمی میں زمین، چرند و پرند اور انسان تڑپ رہے ہیں۔ اور کوئی سننے والا نہیں۔

حل کیا ہو؟

اس بحران کا حل صرف بیانات میں نہیں، بلکہ عملی اقدامات میں ہے۔ مغربی دریاؤں کے لیے ریئل ٹائم مانیٹرنگ/ہمہ وقت جانچ/معلومات، موسمی ماڈلنگ، اور منصفانہ تقسیم کی ضرورت ہے۔ ڈِرِپ ایریگیشن، لائننگ آف کینالز، اور خشک سالی میں مزاحم فصلیں موسمی خطرات کم کر سکتی ہیں۔

مشرقی دریاؤں کے لیے معاہدے میں ماحولیاتی بہاؤ کو شامل کرنا ازحد ضروری ہے۔ اور سندھُو دریا کے لیے بھی ماحولیاتی بہاؤ لازم ہے۔ اگر ہم سمجھیں۔

چھوٹے ڈیم، بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے، شمسی و ہوائی توانائی کے ذرائع کا فروغ، اور عالمی اداروں سے علمی تعاون کے ذریعے مربوط آبی انتظام کے نئے راستے کھولے جا سکتے ہیں۔ سندھ اور ڈیلٹا کے دکھوں کو قومی دکھ مان کر، شراکتی اور پائیدار ترقی کی طرف بڑھنا ہو گا۔ یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ پانی کی مقدار کم ہو چکی ہے۔ اور اس کا سب سے بڑا بوجھ سندھ کے کسان، ماہی گیر، ڈیلٹا کے رہائشی اور زرعی مزدور اُٹھا رہے ہیں۔

بھارت کو اب سمجھ میں آ گیا ہو گا کہ وہ جنوبی ایشیائی بدمعاش نہیں ہے اور اس کو پاکستان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر سندھ طاس معاہدے سمیت ہر مسئلے پر بات کرنی پڑے گی۔ افغانستان کے ساتھ بھی علاقائی پانی پر ڈائیلاگ/ گفت و شنید کی جانی چاہیے۔ جس طرح چاروں صوبے، کشمیر اور گلگت پوری قوم بھارت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوئی، اسی جذبے کے تحت مرکز اور حکومت وقت کو چھوٹے صوبوں کے پانی کے حقوق کو یقینی بنانا چاہیے۔

پاکستان کو اندرونی طور پر بھی یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ سندھ جیسے زیریں علاقوں کے ساتھ برابری کا سلوک کیا جائے، ورنہ پورے وفاق کی اکائی کمزور پڑتی جائے گی۔

اہم نکات کی تکرار:

پاکستان کے دریا ایک خاموش وارننگ دے رہے ہیں۔ مغربی دریاؤں میں سالانہ 1.01 MAF اور مشرقی دریاؤں میں 0.24 MAF کی کمی۔ جو 2000 سے 66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ ایک خطرناک مستقبل کی طرف اشارہ ہے۔ معاہدے کی سخت پابندی نے مشرقی دریاؤں کو بے جان بنا دیا ہے، اور پاکستان سکڑتے پانی کے نظام پر انحصار پر مجبور ہے۔

اس بحران کی قیمت واضح ہے : غذائی قلت، توانائی کا بحران، معیشت کا زوال۔ اور سندھُو ڈیلٹا کا زیاں! مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جب موجودہ نظاموں کے لیے بھی پانی میسر نہیں، تو ہم نئی نہروں کے خواب کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ سندھ ان منصوبوں کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔ کیونکہ سندھُو دریا، جو پہلے ہی سب سے زیادہ متاثر ہے، اب مزید دباؤ برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر یہ نئے منصوبے نافذ ہوئے تو نہ صرف سندھ کی زراعت، بلکہ پورا ڈیلٹا اور زیریں علاقہ ناقابل تلافی نقصان کا شکار ہو جائے گا۔

مگر امید باقی ہے۔ سفارتی عزم، تکنیکی جدت، عالمی تعاون، اور بہتر طرز حکمرانی کے ساتھ بہتری ممکن ہے۔ فیصلہ کن گھڑی آ چکی ہے : یا تو ہم اپنے دریاؤں کا مستقبل بچائیں، یا ہمیشہ کے لیے کھو دیں۔ اب عمل کا وقت ہے۔

Facebook Comments HS