پرما کی اٹھارہویں سالگِرہ پہ فینی کے محبت بھرے خطوط (سلسلہ وار 16 )
ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا گھر ہو وہ اسے سجائے سنوارے اور اس میں خوش رہے۔ مکان کو گھر بنانا اصل بات ہے مکان گھر اس وقت بنتا ہے جب وہاں رہنے والے ایک دوسرے کے ساتھ مخلص ہوں ایک دوسرے کی فکر کرتے ہوں اور ہر خوشی اور غمی میں ساتھ کھڑے رہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں میں خوشی تلاش کرنا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ایک دوسرے کا خیال رکھنا۔ کسی بھی حالت میں مایوس نہ ہونا اور ایک دوسرے کی طاقت بنے رہنا۔ زندگی میں وقت کیسا بھی ہو یہ ہم پر ہے کہ ہم اسے کیسے گزارتے ہیں۔ اگر انسان خوش رہنا اور شکر ادا کرنا جانتا ہے تو وہ زندگی اور گھر دونوں کو جنت بنا سکتا ہے۔
گھر میں ہر انسان کو اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ ہم جب دبئی آئے تھے تو پاکستان میں اپنے سب پیاروں کو چھوڑ کر آئے تھے۔ یہاں ہم نے نئے سرے سے گھر بنایا جو آسان نہیں تھا مگر ہم یہ اس لئے کر پائے کہ ہم سب ایک ساتھ تھے اور ہم نے سب کچھ مل کر کیا ایک دوسرے کی طاقت بنے اور ہم خوش رہنا جانتے تھے۔ ہمیں معلوم تھا کہ زندگی کو کبھی بھی اور کہیں سے بھی شروع کیا جا سکتا ہے شرط یہ ہے کہ چاہنے والوں کا ساتھ ہو اور اپنے اوپر یقین ہو کہ ہم ہر طرح کے حالات میں جی سکتے ہیں۔
میں نے ہمیشہ زندگی کو کھل کر جیا ہے اور میرا یہ ماننا ہے کہ کیسا بھی وقت ہو آپ اس وقت تک نہیں ہارتے جب تک آپ کے پیارے آپ کے ساتھ ہوں اور آپ کو ہر طرح کے حالات میں خوش رہنا آتا ہو۔
پرما تم اور فرجاد دونوں نے گھر کو گھر بنانے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے جس طرح تم دونوں مل کر گھر میں خوشیاں بکھیرتے ہو کاموں میں ہاتھ بٹاتے ہو کوئی پریشانی کی بات ہو تو طاقت اور ہمت دیتے ہو۔ تم سے گھر میں روشنی ہے تم گھر کی دھڑکن ہو تم ہو تو سب ہے۔ یہ تو ہو گئی گھر کی بات پاکستان بھی ہمارا گھر ہے پہچان ہے۔ زندگی میں کچھ ایسا ضرور کرنا کہ تم دونوں اس گھر میں بھی اجالا پھیلا سکو۔ مجھے معلوم ہے تم جہاں بھی جاؤ گے تمہاری اچھائی ساتھ جائے گی اور تم اپنے حصے کی روشنی دنیا میں ضرور پھیلاؤ گے۔


