کیا پاکستان میں عورت واقعی خوش ہے؟


”پاکستان میں عورتوں کے حالات تو بہت اچھے ہیں، وہ تو خوشحال ہیں، انہیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟“

یہ جملہ اکثر سننے کو ملتا ہے۔ سنجیدہ مباحثے ہوں یا سوشل میڈیا کی بحثیں، کچھ مرد ہی نہیں، اکثر خواتین بھی یہی کہتی سنائی دیتی ہیں کہ ”ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں ہمارے سب حقوق ملے ہوئے ہیں“ ۔

مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ایسا ہے، تو پھر ہر سال سینکڑوں خواتین غیرت کے نام پر کیوں قتل ہو رہی ہیں؟ کیوں بیٹیوں کو وراثت سے محروم کیا جا رہا ہے؟ کیوں بچیاں تعلیم سے محروم ہیں اور ہر روز درجنوں خواتین گھریلو یا جنسی تشدد کا شکار ہو رہی ہیں؟

تو کیا ہم ایک اجتماعی انکار (Denial) کی کیفیت میں جی رہے ہیں؟

اسی طرح جب بھی عورتوں کے حقوق کی بات کی جائے تو مذہب کا سہارا لیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اسلام نے عورت کو سب حق دیا ہے۔

درست فرمایا۔
مگر حق دینا اور حق دلوانا دو مختلف باتیں ہیں۔

اسلام نے عورت کو تعلیم، شادی میں مرضی، وراثت، کمائی، طلاق اور گواہی کے واضح حقوق دیے، مگر پاکستانی معاشرہ ان میں سے کتنے حقوق پر عمل کر رہا ہے؟

آج بھی بیٹی کی پیدائش پر افسوس منایا جاتا ہے۔
وراثت میں حصہ مانگنے والی عورت کو خاندان سے خارج کر دیا جاتا ہے۔
ہزاروں خواتین ہر سال گھریلو تشدد، تیزاب گردی اور ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں۔
بے شمار لڑکیاں اسکول سے محروم، کم عمری میں بیاہی جاتی ہیں۔

تو کیا اسلام کے نام پر عورت کو صرف زبان بند رکھنے کا پیغام دیا گیا ہے؟ یا پھر ہم نے دین کی تعلیمات کو اپنے سماجی تعصبات کی چادر اوڑھا دی ہے؟

جب کوئی عورت کہتی ہے کہ وہ خوش ہے، تو ہمیں رک کر یہ سوچنے کی ضرورت ہے :
کیا وہ واقعی خوش ہے یا اسے یہی سکھایا گیا ہے کہ چپ رہنا ہی اصل خوشی ہے؟
ہماری سوسائٹی میں عورت کو سکھایا جاتا ہے :
زبان بند رکھو، یہی تمہاری عزت ہے۔
شوہر کا ہر ظلم برداشت کرو، یہی تمہاری جنت ہے۔
سوال نہ اٹھاؤ، یہی تمہاری تربیت ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کئی عورتیں اپنی آزادی، خواہش اور حق کے تصور سے بھی ناآشنا رہتی ہیں۔
انہیں کبھی خواب دیکھنے کی اجازت ہی نہیں ملی، تو وہ ناآسودگی کو بھی ”سکون“ سمجھ بیٹھی ہیں۔
کسی معاشرے کی اصل تصویر اس کے اعداد و شمار سے عیاں ہوتی ہے، نہ کہ سوشل میڈیا پر خوشنما پوسٹس سے :

پاکستان میں ہر سال سینکڑوں خواتین غیرت کے نام پر قتل ہوتی ہیں (HRCP)
ڈیڑھ کروڑ سے زائد بچیاں اسکول سے باہر ہیں (UNESCO)
ہر روز درجنوں خواتین ریپ اور ہراسانی کا شکار ہوتی ہیں
صرف 3 فیصد خواتین کو ان کا شرعی وراثتی حصہ ملا ہے
کام کرنے والی خواتین کو مساوی تنخواہ، تحفظ اور ترقی کے مساوی مواقع میسر نہیں
یہ صرف اعداد نہیں، یہ کہانیاں ہیں، زخم ہیں، سچائیاں ہیں۔

مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ جب بھی کوئی عورت کے حقوق کی بات کرتا / کرتی ہے، تو فوراً اسے فیمینسٹ کہہ کر بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ایک عورت تعلیم مانگے، جائیداد میں حصہ مانگے، نوکری کرنا چاہے، اپنی زندگی کے فیصلے خود کرنا چاہے تو کیا یہ سب مطالبے ”غیر اسلامی“ یا ”مغربی ایجنڈے“ کا حصہ ہیں؟ ہرگز نہیں۔
فیمینزم صرف ایک نعرہ نہیں، بلکہ ایک ضرورت ہے، ایک جہد ہے، ایک سوال ہے، ایک مزاحمت ہے۔
یہ پدرشاہی نظام کے اس چہرے کو بے نقاب کرتا ہے جس نے عورت کو صدیوں سے خاموشی کا زیور پہنا رکھا ہے۔
اس لیے،
ہمیں انکار کی چادر کو ہٹانا ہو گا۔
خواتین کو ان کی کہانی خود سنانے دینا ہوگی۔
تعلیم، میڈیا اور ادب کے ذریعے شعور پیدا کرنا ہو گا۔
اسلامی تعلیمات کے نام پر کیے گئے استحصال کو بے نقاب کرنا ہو گا۔
اور سب سے بڑھ کر عورت کو انسان سمجھنا ہو گا۔

جب تک عورت کو آدھی عقل، آدھی گواہی، اور آدھی زندگی کے خانے میں رکھا جائے گا، تب تک فیمینزم کا نعرہ نہ صرف بلند ہوتا رہے گا، بلکہ اس کی گونج مزید طاقتور ہوگی۔

خواتین کے مسائل ایک ”ایلیٹ کلاس کا ایشو“ نہیں، بلکہ ایک گاؤں، ایک بستی، ایک محلے اور ایک گھر کی روزمرہ حقیقت ہیں۔

یہ خوش فہمی کہ عورت خوش ہے۔ ایک سماجی فریب ہے۔
اور اس فریب کو توڑنے کے لیے قلم، آواز، شعور اور مزاحمت سب لازم ہیں۔

Facebook Comments HS