جنگ کھیڈ نی ہوندی زنانیاں دی
1965 کی جنگ میں ڈاکٹر رشید انور کے ترانے ”جنگ کھیڈ نہیں ہوندی زنانیاں دی“ نے بڑی شہرت حاصل کی یہ ترانہ سالہا سال زبان زد عام تھا جب بھی پاکستان کو بھارتی جارحیت کا سامنا کرنا پڑتا یہ ترانہ لوگوں کی زبان پر آ جاتا۔ 60 سال گزرنے کے بعد بھی یہ ترانہ پاکستان کے عوام کو یاد ہے جب 6 مئی سے 10 مئی کے درمیان ہونے والی دنیا کی مختصر لیکن خوفناک فضائی جنگ میں پاکستان نے بھارت کو نہ صرف دھول چٹا کر سیز فائر پر مجبور کر دیا بلکہ ہماری فضائیہ نے 1965 ء کی جنگ کی طرح بھارت کو ایسا زخم لگایا ہے جو اسے سالہا سال بھلا نہ سکے گا آج ایک بار پھر یہ نغمہ لوگوں کی زبان پر ہے بہت کم لوگوں کو یاد ہو گا اس ترانے کا خالق کون ہے لیکن ترانہ یاد ہے۔
پاکستان کا بھارت کے ساتھ جنگی ساز و سامان میں کوئی مقابلہ ہی نہیں یہی وجہ ہے بھارت اپنی جنگی قوت کے باعث ”دہشت گردی“ سپانسر کرنے کا الزام عائد کر کے پاکستان کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دیا کرتا ہے اسے فرانسیسی ساخت کے طیاروں ”رافیل“ پر بڑا ناز تھا لیکن جب چینی ساخت کے JF۔ 17 تھنڈر طیاروں نے 3 رافیل طیارے مار گرا کر رافیل طیاروں کی بالا دستی کا تصور پاش پاش پاش کر دیا۔ پوری دنیا جنگی طیاروں کی مختصر لیکن خوفناک جنگ کا نظارہ کر رہی تھی چینی ساخت کے JF۔ 17 تھنڈر کے ہاتھوں رافیل کی پٹائی پر پاکستان کے عوام تو خوشیاں منا رہے تھے لیکن چینی ٹیکنالوجی کے ہاتھوں یورپی ٹیکنالوجی کی شکست پر جتنی خوشی عوامی جمہوریہ چین کو ہوئی اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا دراصل یہ چینی اور یورپی ٹیکنالوجی کے درمیان جنگ تھی جس میں پاکستان کے شاہینوں نے یورپی ٹیکنالوجی کو شکست دے دی۔ کہا جاتا ہے جنگ میں سب سے زیادہ سچائی کا قتل ہوتا ہے فریقین نہ صرف کامیابی کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں بلکہ انی ناکامیوں کو عوام سے چھپاتے ہیں جب بھارت نے 6 اور 7 مئی کی رات پاکستان پر حملہ کرنے کے لئے 80 کے لگ بھگ طیاروں سے آسمان پر چھاؤں ڈال دی یہ پاکستان کے 35، 40 JF۔ 17 تھنڈر طیارے ہی تھے جنہوں نے بھارتی طیاروں کو پاکستان کی حدود میں داخل نہیں ہونے دیا اس دوران پاکستان نے بھارت کا پورا فضائی نظام جام کر دیا جس کے باعث پوری بھارتی فضائیہ کی آسمانوں پر حکمرانی ختم کر دی بھارت کا دفاعی نظام ہیک ہونے کے بعد بھارتی فضائیہ پاکستانی طیاروں کے سامنے بے بس ہو گئی اسی لئے تو برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف نے پاک فضائیہ کو آسمانوں کی ”بادشاہ قرار دیا بھارت کو اس جنگ میں اپنے 6 + 1 طیاروں جن میں 3 رافیل اور مگ 29 شامل ہیں سے ہاتھ دھونا پڑے پاکستان نے بھارت کی طرف سے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد اس کے 28 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا۔ بھارت کی شکست کی بنیادی وجہ اس کا پاکستان کو فوجی میدان میں انڈر ایسٹیمیٹ کرنا ہے اسے پاکستان کی عسکری قوت کا اندازہ ہی نہیں تھا۔
بھارتی وزیر اعظم طاقت کے نشے میں پہلگام واقعہ کی آڑ میں پاکستان کو سزا دینے کا اعلان کر رہا تھا لیکن پاکستان کی بھرپور جوابی کارروائی کے بعد فوری طور پر جنگ بندی پر تیار ہو گیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اپنے آپ کو پاک بھارت قضیئے سے الگ تھلگ رکھ رہے تھے نے اچانک مداخلت کر کے سیز فائر کرا دی بھارت جو سعودی عرب، ایران، قطر سمیت دیگر دوست ممالک کی جنگ نہ کرنے کی درخواستوں خاطر میں نہیں لا رہا تھا پاکستان کی جوابی کارروائی سے زچ ہو کر امریکہ سے جنگ بندی کرانے کی درخواست کر دی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان پر جنگ مسلط کر کے ممکنہ کامیابی حاصل کر کے سیاسی فوائد اٹھانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی لیکن اسے اندازہ ہی نہ تھا ”آہنی دیوار“ اس کے جارحانہ عزائم کو پاش پاش کر دے گی مودی نے پاکستان پر جنگ مسلط کر کے خود شکست خریدی ہے جس سے نہ صرف وہ اپنے ہی دیس میں مقبولیت کھو بیٹھا ہے بلکہ ”بنیان المرصوص آپریشن“ نے فارم 47 کی کمزور حکومت کو مستحکم بنا دیا ہے فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کو ہیرو بنا دیا ہے اس میں کوئی شک نہیں پہلگام واقعہ کے بعد پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے مودی کے عزائم کو بھانپتے ہوئے پاکستان کی مسلح افواج میں جذبہ جہاد بیدار کر دیا تھا اس میں کوئی شک نہیں جنگیں اسلحہ اور ٹیکنالوجی کے زور پر لڑی جاتی ہیں لیکن ان کے پیچھے صلاحیت، جذبہ اور جرات کار فرما نہ ہو تو بھارت جیسا انجام ہوتا ہے۔ اس جنگ میں ایک بار پھر چین نے پاکستان سے دوستی کا حق ادا کر دیا ہے اس کی فراہم کردہ ٹیکنالوجی نے پاکستان کی پیٹھ نہیں لگنے دی۔ کہا جاتا ہے چین نے پاکستان کو فضا میں برتری قائم کرنے کے لئے 40 J۔ F 35 فراہم کیے ہیں جس سے پاکستان کو بھارت کے مقابلے میں آسمانوں پر برتری حاصل ہو گئی ہے تاہم سرکاری طور اس خبر کی تصدیق نہیں کی گئی کہا جا رہا ہے J۔ 35 ٹیکنالوجی چین اور امریکہ کے بعد صرف پاکستان کے پاس ہے اور چین نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود پاکستان کو J۔ 35 طیارے فراہم کیے ہیں یہی وجہ ہے آسمانوں پر پاکستان کی برتری کے خوف نے بھارت کو پاکستان کا رخ کرنے کا حوصلہ نہیں دیا اور اس نے امریکہ سے جنگ بند کرانے کی درخواست کی۔
کانگریس کے لیڈر راہول گاندھی نے بھارتی پارلیمنٹ میں مودی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ان کا سب سے بڑا جرم بھارت کے مقابلے میں پاکستان اور چین کو اکٹھا کرنا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے ”کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی“ کا اجلاس طلب کرنے کے اعلان نے بھی پوری دنیا کو دہشت زدہ کر دیا تھا امریکہ جو پاک بھارت جنگ کا تماشا دیکھ رہا تھا فوری طور متحرک ہوا اور پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بند کرا دی امریکہ نے دونوں ملکوں کو متنبہ کیا کہ اگر لڑائی بند نہ کی تو امریکہ تجارت روک دے گا زخم خوردہ بھارتی وزیر اعظم سیز فائر کی درخواست لے کر امریکی صدر کے پاس پہنچا بھارت کا سپر پاور کا تصور پاش پاش ہو گیا ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان پر حملہ کرنے کے خطرے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ مودی کا ٹریک ریکارڈ خراب ہے اس کی سیاست ہی پاکستان دشمنی کے گرد گھومتی ہے تاہم امریکی صدر کا فرمان ہے کہ یہ مستقل سیز فائر ہے مجھے بہت فخر ہے کہ دونوں ملکوں کی قیادت نے صورت حال کی سنگینی کو سمجھا۔ امریکی صدر نے سعودی عرب کے دورے کے دوران بھی پاک بھارت جنگ بند کرانے کے کریڈٹ کا ذکر کیا ہے اور دونوں ملکوں کی قیادت کو کھانے کی میز پر مدعو کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لئے اپنی ثالثی کی بھی پیش کش کی ہے جس پر مودی نے اپنے پرانے موقف کا اعادہ کیا ہے کہ اب صرف دہشت گردی اور آزاد کشمیر پر بات ہو سکتی ہے۔ سر دست بھارت کا غرور خاک میں مل گیا ہے ڈی جی ایم اوز کے درمیان ہاٹ لائن پر رابطہ میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے پر اتفاق رائے کیا گیا ہے۔

