پُر نظر پیری کلیس اور عمران خان
منروا کا مندر جس کی چھت گر چکی ہے مگر ستون ابھی تک ایستادہ ہیں۔ دنیا کا خوبصورت ترین کھنڈر یونان کے شہر ایتھنز میں اکروپولس کی پہاڑی پر موجود ہے۔ دو ہزار برس پہلے جب یہ مندر تعمیر ہوا تو اُس وقت یہ دنیا کی خوبصورت عمارت تھی۔ جسے یونان کے ایک پُر نظر حکمران پیری کلیس ( 495۔ 429 ق۔ م) نے تعمیر کروایا تھا۔ سیالکوٹ میں پیدا ہونے والے اردو کے ایک معتبر اور نامور ادیب مختار مسعود نے لکھا ہے کہ جب میں یہ کھنڈر دیکھنے کے لئے گیا اور داخلے کا ٹکٹ خریدا تو اس ٹکٹ کی پشت پر یہ جملہ لکھا ہوا تھا۔ کہ ”پیری کلیس کے عہدِ حکومت میں ملک مالا مال اور لوگ نہال ہو گئے مگر وہ اتنا پُر نظر تھا کہ اس کی ذاتی ملکیت میں پھوٹی کوڑی کا بھی اضافہ نہ ہوا“
مختار مسعود یہ ٹکٹ سنبھال کر اپنے ساتھ پاکستان لے آئے کہ یہ جملہ شاید کبھی کسی صاحبِ اختیار کی نظر سے گزرے۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ٹکٹ ابھی تک میرے پاس موجود ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کس کو بھیجوں۔ مختار مسعود پاکستان میں اس ٹکٹ کا حقدار ملنے کی حسرت دل میں لئے 15 اپریل 2017 کو لاہور میں اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
عمران خان نے اپنے دورِ حکومت میں کسی قسم کی کوئی بد دیانتی یا کرپشن نہیں کی۔ جس کی پاکستان اور بیرونِ پاکستان سے کروڑوں لوگ حلفاً گواہی دینے کو تیار ہیں۔
ایک دفعہ سینیٹ کے الیکشن کے موقع پر کرپشن کرنے پر خیبر پختونخوا کے 20 جیتے ہوئے ایم پی ایز کو یک جنبشِ قلم پارٹی سے نکالنے کا جرات مندانہ فیصلہ کر کے کم از کم اپنی پارٹی میں کرپشن کا وہ راستہ بند کر دیا۔ جس کو گزشتہ چالیس برس میں صاحبانِ اقتدار و اختیار نے آمد و رفت کی بہت بڑی شاہراہ بنا دیا تھا۔
پاکستانی رواج کے مطابق حکومت گرانے کے بعد اس جماعت کے مالکان، کرتا دھرتا اور کابینہ کے ارکان پر مسلمہ ثبوتوں کے ساتھ کرپشن کے سچے مقدمات درج ہوتے تھے۔ اور اس پارٹی کی قیادت کرپشن کے مقدمات کے معاملات میں الجھ جاتی تھی۔ اور عوام بھی کرپشن کی وجہ سے اس پارٹی سے بدظن ہو جاتے تھے۔
ن لیگ ( شریف مافیا) کا ہمیشہ سے یہ طریقہ کار رہا ہے۔ کہ بغیر کسی ثبوت کے مخالفین پر الزامات کی بارش کر دی جائے اور زر خرید میڈیا کے ذریعے الزامات کی تشہیر کر کے عوام میں بدنام کیا جائے۔ بھلے کوئی الزام ثابت ہو یا نہ ہو۔ اس کی کوئی پرواہ نہیں۔
اپریل 2022 میں عمران خان کی حکومت گرانے کے بعد طاقت اور دولت کے زور کے زیر اثر پاکستانی میڈیا اور سرکاری اداروں نے پی ٹی آئی پر بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ لیکن عوام میں اس بیانیے کو پذیرائی نہ مل سکی۔ بلکہ بے بنیاد الزامات کی وجہ سے عوام میں عمران خان کی مقبولیت کا گراف آخری حد کے قریب جا پہنچا۔ حکومت کی انتہائی کوششوں کے باوجود دو سالوں میں پی ٹی آئی کی قیادت پر کرپشن کا کوئی ثبوت نہ مل سکا۔ اس لئے نو مئی کرنا پڑا۔ اس کے بعد سے اب تک ملک کے تمام طاقتور اداروں کے ظلم و جبر اور فسطائیت کا احوال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایک دیانتدار شخص کو بد دیانت ثابت کرنے کے لئے عوام کے علاوہ تمام طاقتیں بد دیانت ہو چکی ہیں۔
اگر مختار مسعود زندہ ہوتے تو فخر کے ساتھ منروا کے مندر کے کھنڈر کی داخلہ ٹکٹ کی پشت پر لکھا جملہ پُر نظر عمران خان کی نذر کر دیتے۔

