یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن ملازمین کے ساتھ ظلم و زیادتی


وطن عزیز میں طویل عرصہ سے ایک نرالی روایت قائم ہے، جس کے تحت ملک کے اقتصادی مسائل کی آڑ میں آئے روز معاشی نا انصافی کے شکار عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، جبکہ مراعات یافتہ طبقے کے اللے تللوں اور عیاشیاں کم کرنے کے بجائے، ان میں مزید اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ ایسی ہی نہ انصافی کا شکار پاکستان بھر سے یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ہزاروں ملازمین ہیں، جنھیں ارباب اختیار نے یک جنبش قلم سے ملازمت سے برطرف کر کے ہزاروں غریب پاکستانیوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل بنا دیا ہے۔

یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن آف پاکستان ایک وفاقی سرکاری ادارہ ہے، جو وفاقی وزارت صنعت و پیداوار کے ماتحت کام کرتا ہے۔ یہ ادارہ 1971 میں ایک سرکاری کمپنی ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد معاشی طور پر کمزور طبقات کو سبسڈی پر معیاری اشیائے خورونوش فراہم کرنا تھا۔ اس وقت یہ ادارہ مالی بحران کا شکار ہے، یو ایس سی کے ذمہ تقریباً 14 ارب روپے کے واجبات ہیں، جبکہ اس کے اثاثوں کی مالیت 8.3 ارب روپے کے قریب ہے۔ بحران سے قبل ادارے میں ملازمین کی تعداد 11 ہزار سے زائد تھی، جن میں 5 ہزار مستقل، جبکہ 6 ہزار کنٹریکٹ اور ڈیلی ویج پر کام کر رہے تھے۔

اس وقت وفاقی حکومت یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کی نجکاری کا عمل شروع کیے ہوئے ہے، جس کے تحت 6 ہزار تقریباً 6,000 کنٹریکٹ اور ڈیلی ویج ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے، جبکہ 5,000 مستقل ملازمین کو ”سرپلس پول“ میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ملک بھر میں، 1,700 سے زائد اسٹورز بند کر دیے گئے ہیں، اور صرف 1,500 اسٹورز کو نجکاری کے بعد فعال رکھنے کا فیصلہ ہوا ہے۔

رواں سال فروری میں ملازمین نے اسلام آباد سمیت ملک گیر احتجاج کیا۔ متاثرہ ملازمین نے قانونی چارہ جوئی بھی کی، پنجاب، سندھ اور پشاور ہائی کورٹس نے ملازمین کی برطرفیوں کے خلاف حکم امتناعی جاری کیے۔ متاثرہ ملازمین نے اسلام آباد میں بھی متعلقہ فورم پر وفاقی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کر رکھی ہے۔ برطرف ملازمین کے مطابق، وفاقی حکومت نیشنل انڈسٹریل ریلیشن کمیشن اسلام آباد کی عدالتی میں حاضر ہونے کی زحمت نہیں کر رہی۔ حکم امتناع کے باوجود برطرفیوں پر ملازمین نے حکومت پر عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔

ایسے میں کہ جب عوام غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پہلے ہی پس رہے ہیں، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے ہزاروں ملازمین کو نوکری سے برطرف کر کے وفاقی حکومت ملک میں بے روزگاری میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔ حکومتی فیصلے سے ہزاروں گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں، اور برطرف ملازمین اور ان کے خاندانوں کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ 17 سال سے ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک اسٹور میں کانٹریکٹ پر کام کرنے والے غلام عباس کا کہنا تھا، ”حکومت کہتی ہے یوٹیلٹی سٹور کارپوریشن خسارے میں ہے، جبکہ یہ ادارہ خود اپنا کماتا ہے اور اپنا کھاتا ہے، اسلام آباد بلیو ایریا ادارے کی اپنی بلڈنگ ہے۔

کراچی کمپنی اسلام آباد میں اپنا پلازہ ہے۔ لاہور، پشاور، کوئٹہ اور کراچی سمیت ملک بھر میں ادارے کی املاک ہیں۔ حکمران اس پراپرٹی کے دشمن ہیں، اس کو سستے داموں میں خریدنا چاہتے ہیں، سنا ہے ایک وفاقی وزیر کا سمدی ادارے کا کوڑیوں کے بھاؤ خریدنا چاہتا ہے۔ برطرف ملازمین کو کوئی پیکج دیا جا رہا ہے اور نہ کسی دوسرے ادارے میں کھپایا جا رہا ہے، بس ٹرمینیشن لیٹر جاری کر دیے ہیں، جس پر ہماری یونین نے 28 مئی تک اسٹے لیا ہوا ہے۔“

ہزاروں ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کا فیصلہ غیر دانشمندانہ ہے۔ حکومت نے سالوں ملازمت کرنے والے ملازمین کو برطرف کرتے ہوئے، ایک لمحے کے لیے بھی ان غریب خاندانوں کی مشکلات سے متعلق نہیں سوچا۔ اگر یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کی تنظیم نو اور نج کاری ضروری ہے تو ان ملازمین کو کسی اور سرکاری ادارے میں کھپایا جا سکتا تھا۔ وفاقی حکومت نے ان ملازمین کو کسی قسم کا مالی پیکج دینے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی، بلکہ نا انصافی پر مبنی فیصلے سے ہزاروں افراد کو بے روزگار کر کے ان کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کر دیا ہے۔

ملازمین الزام عائد کر رہے ہیں کہ وفاقی حکومت میں شامل کچھ عناصر اس ادارے کو اونے پونے داموں خریدنا چاہتے ہیں، ان کی للچائی ہوئی نظریں، کارپوریشن کے 8 ارب سے زائد اثاثوں پر ٹکی ہیں۔ یہ عناصر خسارے کا بہانا بنا کر ادارہ خرید کر اس سے خود منافع کمانا چاہتے ہیں۔

ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ جب مخلتف صوبائی ہائی کورٹس میں ملازمین کی برطرفی کے خلاف حکم امتناعی برقرار ہے، اور اسلام آباد میں بھی متعلقہ فورم پر ملازمین کی یونین نے اسٹے لیا ہوا ہے، تو پھر ملازمین کو برطرف کرنے اور ان کی تنخواہیں روکنے کا غیرقانونی حکم کیوں صادر کیا گیا؟

وفاقی حکومت میں شامل پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف زرداری سے بھی سوال ہے کہ آپ کی جماعت تو روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرہ لے کر سیاست میں داخل ہوئی تھی، آج آپ کی حکومت میں عوام کو روٹی، کپڑے اور مکان سے محروم کیا جا رہا ہے۔ آپ حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ہزاروں ملازمین سے ہونے والی زیادتی کو روک نہیں رہے، جس پر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگ نواز اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ آپ بھی اس زیادتی میں برابر کے شریک ہیں۔

کمر توڑ مہنگائی کے دور میں عوام کو بے روزگار کرنا ظلم و زیادتی اور بے انصافی ہے۔ اشرافیہ اپنے اللے تللے کم کرنے کے بجائے عوام پر معاشی بوجھ ڈال رہی ہے۔ حال ہی میں حکومت نے وفاقی و زراء کی تنخواہوں میں 159 فیصد، جبکہ وزرائے مملکت اور مشیروں کی تنخواہوں 188 فیصد اضافہ کیا۔ بیوروکریسی کے لیے آئے روز نئی گاڑیاں امپورٹ کرنا بھی معمول ہے۔ ایک طرف حکومت اشرافیہ کی مراعات میں اضافہ کر رہی ہے، جب کہ عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کیا جا رہا ہے۔ اشرافیہ پر مبنی حکمران طبقہ غریب عوام کا پیٹ کاٹ کر اپنی عیاشیوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ ملک کو معاشی مسائل درپیش ہیں تو اشرافیہ کی مراعات میں کمی کیوں نہیں کی جا رہی؟ ظلم پر مبنی یہ نظام کب تک چلے گا؟

یوٹیلٹی اسٹور کارپوریشن کے ہزاروں ملازمین کو بغیر مالی پیکج اور متبادل روزگار فراہم کیے بنا برطرف کرنا، ظلم و زیادتی کی بدترین مثال ہے، جس کی ذمہ دار حکومت میں شامل تمام جماعتیں، خاص کر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز ہیں۔ برطرف ملازمین کو متبادل روزگار اور مالی پیکج فراہم کرنا وفاقی حکومت کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے، جسے ادا نہ کرنے کی صورت وفاقی حکومت ملک میں غربت و بے روزگاری میں اضافے کا موجب بنے گی۔ اس لیے وفاقی حکومت کو چاہیے کہ فی الفور اس مسلے کا مناسب حل نکالے۔

Facebook Comments HS