اماں کے فون سے لے کر بھارتی میڈیا تک: فیک نیوز کی جنگ
رات کا پہر، کراچی کی خاموش فضا اور میں اپنے بستر پر نیم دراز، لیپ ٹاپ پر پاک بھارت کشیدگی کی تازہ ترین خبریں کھنگال رہا تھا۔ بھارتی میڈیا نے ایسی ”جنگی صورتحال“ تراشی ہوئی تھی جیسے پورے لاہور کو بندرگاہوں کا گڑھ بنا دیا گیا ہو، اور خبر دے دی کہ بھارتی فوج نے کراچی کی بندرگاہ پر قبضہ جما لیا ہے۔
میں ابھی ان ”نئی نویلی“ جنگی خبروں پر قہقہے مار ہی رہا تھا کہ اماں کا فون آیا۔
”بیٹا! کراچی کی بندرگاہ پر حملہ ہو گیا ہے! بہت نقصان ہوا ہے، تم کہاں ہو؟“
میں نے ہنسی دباتے ہوئے کہا، ”اماں، میں تو کراچی میں ہی ہوں۔ یہاں تو قل پیراں دا خیر ہے، کوئی حملہ شملہ نہیں ہوا۔“
”نہیں نہیں، واٹس ایپ گروپ میں ابھی ابھی ویڈیو آئی ہے، خبریں بتا رہی ہیں!“
میں نے پھر اطمینان دلایا، ”اماں، ان ویڈیوز پر یقین نہ کریں، یہ سب فیک نیوز ہے۔“
اماں کا اصرار برقرار رہا: ”نہیں، نوکری چھوڑو، ابھی کے ابھی حیدر آباد آ جاؤ!“
میں نے مزاحاً کہا، ”اماں، بھارت حیدرآباد پہ بھی حملہ کر دے تو؟ پھر کہاں جاؤں؟ کوہِ قاف؟“
یہ واقعہ سادہ سا تھا، لیکن دل میں ایک بھاری سوال چھوڑ گیا: اماں جیسی مخلص، سادہ لوح اور فکرمند خاتون اگر ایسی جھوٹی خبروں پر یقین کر سکتی ہیں، تو اندازہ لگائیے کہ ہمارے معاشرے کا باقی طبقہ کہاں کھڑا ہے؟
اب ذرا بھارتی میڈیا کی ”فوجی فینٹیسی“ کی بھی داد دیں۔ انہوں نے ایسی خبریں گھڑیں کہ خود پروپیگنڈا کے ”ابا حضور“ ڈاکٹر گوئبلز بھی قبریں چیر کے آ بیٹھتے تو کہتے، ”بھائی، تھوڑا سا سچ بھی ملا لو!“ لاہور میں جہاں نہ ساحل ہے نہ سمندر، وہاں بھارتی میڈیا نے بندرگاہ قائم کی، اس پر حملہ کیا، تباہ کیا، اور اگلے دن دوبارہ تعمیر بھی کر دی۔ ایسے کمال کا ڈرامہ تو پی ٹی وی کے کلاسک دور میں بھی نہ ہوا ہو گا۔
انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی گرفتاری کی بھی خبر بریک کر دی، جیسے کراچی کی بندرگاہ نہیں بالی ووڈ کا سیٹ ہو جہاں کوئی بھی کردار اچانک گرفتار ہو جاتا ہے۔
اصل مسئلہ بھارتی میڈیا نہیں، بلکہ ہمارا میڈیا لٹریسی سے عاری معاشرہ ہے۔ واٹس ایپ یونیورسٹی آج کل سب سے بڑی درسگاہ بن چکی ہے۔ وہاں ہر دوسرا ”فاروَرڈ“ ایک نئی جنگ چھیڑتا ہے، ہر وائرل ویڈیو ایک نیا انقلاب لاتی ہے، اور ہر تصویر بریکنگ نیوز بن جاتی ہے چاہے وہ سن 2003 کی عراق جنگ کی کیوں نہ ہو۔
مسئلہ صرف جھوٹی خبر کا نہیں، بلکہ اس کے اثرات کا ہے۔ یہ جعلی خبریں معاشرے میں خوف، بے چینی اور ذہنی انتشار پھیلاتی ہیں۔ ایک ویڈیو، ایک جھوٹ، اور ہزاروں لوگ بے چین، پریشان، اور گمراہ ہو جاتے ہیں۔
تو بھائیو اور بہنو، اگلی بار اگر کوئی ”کراچی پر حملے“ یا ”لاہور کی بندرگاہ“ کی بریکنگ نیوز لے کر آئے تو پہلے ایک گہری سانس لیں، گوگل کریں، اور کسی ہوش مند سے تصدیق کر لیں، کیونکہ فیک نیوز کے اس دور میں واٹس ایپ کی ہر ویڈیو اور یوٹیوب کی ہر چیخ و پکار سچ نہیں ہوتی۔ اپنی اماں کو بھی سمجھا دیں کہ ہر فارورڈ شدہ ویڈیو ”آخری خبر“ نہیں بلکہ بعض اوقات کسی بے روزگار کا شوقیہ ڈرامہ ہوتا ہے۔ میڈیا لٹریسی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ صحافی بن جائیں، بس اتنا کافی ہے کہ خبر کو آنکھ بند کر کے نہ مانیں، تھوڑی عقل، تھوڑا نیٹ پیکج، اور تھوڑا صبر لگا لیں۔ خبر کی تاریخ دیکھ لیں، ماخذ چیک کریں، مختلف ذرائع سے تصدیق کریں، اور اگر کہیں ”لاہور کی بندرگاہ“ یا ”آرمی چیف کی گرفتاری“ جیسے لطیفے نظر آئیں تو بس سمجھ جائیں کہ بھارتی میڈیا نے آج پھر کوئی نئی فلم ریلیز کی ہے۔ فیک نیوز صرف ہنسی کا باعث نہیں، یہ خوف، انتشار اور بے چینی بھی پھیلاتی ہے۔ اس لیے خبروں کو کھانے سے پہلے فیکٹ چیک کا چمچ ضرور گھمائیں، کیونکہ جھوٹا ٹماٹر تو صرف سالن خراب کرتا ہے، مگر جھوٹی خبر پورا دماغ، معاشرہ اور امن تینوں بگاڑ دیتی ہے۔
لکھاری الیکشن کمیشن آف پاکستان میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر میڈیا کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

