تنہا۔ سابق مشرقی پاکستان پر لکھا گیا اثر انگیز ناول۔ قسط نمبر : 6


1946 کا زمانہ مقام باریسال کا گاؤں صاحب رائے :

”سؤر کہتا ہے پاکستان نہیں بنے گا۔ کہو نا ایک بار پھر۔ نہ میں تیرا جبڑا توڑ دوں تو میرا نام بھی شلپی نہیں۔“

یہاں تاڑ کے درختوں کے پاس کھڑا وہ قہر بھری نظروں سے اسے گھور رہا تھا۔ جس کی ٹھوڑی پر ابھی ابھی اس نے ایک زور دار مُکہ رسید کیا تھا۔ وہ قد کاٹھ میں اس سے خاصا لمبا تھا اور کاہی رنگی چارخانہ دھوتی کو ہندوانہ سٹائل سے باندھے ہوئے تھا۔ اس نے اپنے جبڑے کو سہلایا  اور اپنے نوکا کی طرف جاتے ہوئے بولا۔

”اب تم اپنی خیر منانا۔“

” جاؤ جاؤ سیار (گیدڑ ) کہیں کے، دھمکیاں دیتا ہے۔ پوربو بنگال سے تمہاری قوم کو جوتے مار مار کر نکالیں گے۔ ہمارا خون پی پی کر کُپا  ہو گئی ہے۔ “

شلپی کا زہریلا لہجہ تھا۔

پر وہ دھمکیاں دیتا لڑکا جاتے جاتے رکا۔ سامنے سے ایک نوکا تیز رفتاری سے اس کی طرف آر ہی تھی۔ اس نے پہچانا۔ اس میں شنکر، کرشن داس، لگن اور اجیت تھے۔ وہ واپس پلٹا۔ اس نے دایاں بازو ہوا میں لہرایا اور گرجا۔

”جے بھارت ماتا کی۔“
اس پر ان سب نے زوردار آواز میں نعرہ لگایا۔
”پاکستان جندہ باد۔“

ان کی جندہ باد کی یہ مشترکہ آواز بہت دور تک سنائی دی۔ ان کے گلوں کی ایک ایک رگ پھولی تھی اور ان کی سوکھی سڑی چمڑیوں کے نیچے سینوں کے پنجر بہت نمایاں ہو گئے تھے۔ ان کے گندمی اور سانولے چہروں پر شوق و آرزو کی ایک دنیا امنڈی تھی۔

پر اس سمے ناریل اور تاڑ کے جھومتے ہوئے درختوں کے نیچے، ان دبلے پتلے لڑکوں کے چہروں پر ان ہندو لڑکوں کو اپنی جانب آتے دیکھ کر ذرا بھی خوف نہ تھا۔ تمیز الدین نے لال بھبھوکا ہو کر کہا تھا:

”ہم تمہارے باپ دادا کی جائیداد مانگتے ہیں جو تمہارے پیٹ میں پاکستان کا نام سن کر یوں درد اٹھنے لگتا ہے۔“

”ذرا دیکھو تو ان ملیچھ مسلمان چھیلوں (لڑکوں ) کو کیسے پر لگ گئے ہیں؟ پاکستان اور جناح نے سب کو پاگل بنا دیا ہے۔ ہم دیکھیں گے بھارت ماتا کے ٹکڑے کون کرتا ہے؟“

اجیت بولا۔

”ہم کریں گے ٹکڑے۔ ہم۔“ شلپی نے اپنی چھاتی پر ہاتھ مارا۔ جوش غضب سے اس کی آنکھیں ابلی پڑ رہی تھیں۔ ”چند ماہ بعد ہی پورے ہندوستان کے الیکشن تمہیں بتائیں گے کہ ہم نے تمہاری بھارت ماتا کا گلا کاٹ دیا ہے۔“

اور جب مخالف پارٹی کے لڑکوں کو انہوں نے جاتے دیکھا تو وہ اونچے اونچے چلائے۔
”آمارنیتا قائداعجم۔ قائداعجم۔ قائداعجم جندہ باد۔ لے کے رہیں گے پاکستان۔ پاکستان جندہ باد۔“

وہ نظروں سے اوجھل ہوئے تو انہوں نے بھی واپسی کا قصد کیا۔ کھلے پانیوں پر ایک دوسرے کے پیچھے جب وہ انوار الابصار کے ٹیلے کے قریب پہنچے تو انہیں وہاں بہت بڑا مجمع نظر آیا۔ ایک گونج دار آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔

”یہ کیا ہو رہا ہے؟“ ۔ ابو عبد اللہ نے حیرت سے پوچھا۔

”ہونا کیا ہے۔ پرشاد ساہا بکواس کر رہا ہے۔ پرسوں کلکتے سے آیا ہے۔ یہ بھی ایک نمبر حرامی ہے۔ جب آئے گا ایک نئے فلسفے کا پرچار کرے گا۔ سالا بڑا آیا روس کا حامی بن کر۔“

”ارے تو چلو سنتے ہیں۔“ شلپی نے نو کے کا رخ ٹیلے کی جانب موڑ دیا۔
اور اس بڑے ہجوم میں بمشکل جگہ بنا کر جب انہوں نے دائرے میں اندر جھانکا، پرشاد ساہا کہہ رہا تھا۔

”میں کہتا ہوں کمر ہمت باندھ لو، کمر ہمت یارو! وگرنہ سرمایہ داری جونکیں ہمارا رہا سہا خون بھی چوس جائیں گی۔ یہ پرشکوہ راجباڑیاں ہمارے ہی خون پسینہ سے بنائی گئی ہیں۔ انسانوں کے درمیان تفاوت کیوں ہے؟ ہم بھوکے مرتے ہیں اور وہ عیش کرتے ہیں۔ یارو ایسا کب تک ہو گا؟ شنگھرام (انقلاب) آنا چاہیے۔ یہ ہندو پاکستان کے نعرے سب سرمایہ داروں کے سسٹنٹ ہیں۔ وہ ہماری کاوشوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ سوراج  (آزادی) چاہیے۔ دال بھات چاہیے۔“

مجمع میں موجود ہندو اور چند مسلمانوں نے اس کے جواب میں کہا۔
” شنگھرام۔ شنگھرام۔ مکیتر شنگھرام۔“
پر چند مسلمان جواباً ً بولے۔
” ہم نہیں چاہتے شنگھرام ونگرام، ہمیں پاکستان چاہیے۔ پاکستان ملے گا تو شنگھرام آپ ہی آپ آ جائے گا۔“
تمیز اور شلپی کا گروہ چلایا۔ ”پاکستان جندہ باد۔“
پرشاد ساہا کو بہت غصہ آیا۔ بدک کر عبد المتین سے بولا۔
” تمہاری یہ کیا بُری عادت ہے کہ ہر بات کی تان پاکستان پر توڑتے ہو؟“

”ارے تو کیوں نہ ٹوٹے؟ پرشاد ساہا! نصف صدی سے اوپر ٹاپے ہوئے جیون نے تو تمہاری قوم کا مسلمانوں کے ساتھ شودروں اور ملیچھوں جیسا سلوک ہی دیکھا۔ انصاف سے بتاؤ تم شادی بیاہوں میں ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھا پی سکتے ہو، حقے کے دو کش لے سکتے ہو۔ ارے ہمارا تو کوئی معصوم سا بچہ بھی اگر تمہاری رسوئی میں چلا جائے تو تمہارے برتن بھانڈے، تمہاری جگہ، تمہارا کھانا سب بھرشٹ ہوجاتا ہے۔ تم کھانا پھینکتے ہو، برتن توڑتے  ہو اور جگہ صاف کرتے ہو۔ اب تمہی بتاؤ مسلمان مزارع ٹھاکر جی کی حویلی میں ٹاٹ پر بیٹھے اور ہندو مزارع سترنگ (کپڑا) بچھے فرش پر۔ بولو کچھ غلط تو نہیں کہہ رہا میں؟

تم لوگ یہ بھی شرم نہیں کرتے کہ ہماری مسجدوں کے سامنے سے گزرتے ہوئے شور نہ کرو۔ ڈھول تاشوں سے پرہیز کرو۔ پر تم یہ سب ذلیل کام کرتے ہو۔ بولو، تمہارے ساتھ کیسے رہا جا سکتا ہے؟ ”

عبد المتین نے جونہی بات ختم کی۔ فضا میں پاکستان جندہ باد کی آوازیں پھر گونجیں۔
مجمع میں سے کسی نے کہا۔
”یہ پرشاد سالا کمیونسٹ ہے۔“
تمیز الدین نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”میرا خیال ہے یہ سب باتیں اس لئے کرتا ہے کہ مسلمانوں کی توجہ پاکستان سے ہٹ جائے۔“
”بھئی اب چلنا چاہیے۔ دادو انتظار میں ہوں گے۔ مجھے تو ابھی ماچھ (مچھلی) بھی پکڑنی ہے۔“
”ارے شلپی مجھے یاد آیا۔“ پھول محمد نے اسے مخاطب کیا۔

”مستفیض السلام بھیا ہوڑا سے آئے ہیں۔ ان سے تو ملیں، جا کر ادھر کا حال احوال سنیں۔“ اور مستفیض السلام کا نام سنتے ہی شلپی کو نہ دادو کا انتظار یاد رہا نہ مچھلی پکڑنی۔ ”چلو چلو چلتے ہیں۔“ کہتے ہوئے اس نے نوکا کا رخ موڑ دیا۔
جاری ہے۔

Facebook Comments HS