قرۃ العین حیدر کے ناول ”سیتا ہرن“ کا لسانیاتی جائزہ


قرۃ العین حیدر اردو ناول کی ایسی ادیبہ ہیں جنہوں نے زبان کے جمالیاتی، فکری اور تہذیبی امکانات کو ایک نیا اسلوب عطا کیا۔ ان کا ناول ”سیتا ہرن“ نہ صرف ایک تخلیقی بیانیہ ہے بلکہ زبان کی تہذیبی نفسیات، تاریخی لحن، اور علامتی اظہار کا بہترین مظہر ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں ناول ”سیتا ہرن“ کا لسانیاتی تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ قرۃ العین حیدر نے زبان کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور علامتی نظام کے طور پر کس طرح استعمال کیا۔

قرۃ العین حیدر کی زبان شعوری طور پر تشکیل پاتی ہے۔ وہ نہ صرف جملوں کی ساخت پر توجہ دیتی ہیں بلکہ الفاظ کے انتخاب، بیان کے انداز، اور فقرہ سازی میں بھی خاص تہذیبی اور تاریخی شعور جھلکتا ہے۔

”سیتا کے ہرن کا پیچھا کرنے والا رام صرف رام نہیں، ہر وہ مرد ہے جو کسی ’خواب‘ ، کسی ’علامت‘ کے تعاقب میں سب کچھ چھوڑ آتا ہے۔“

یہ جملہ محض علامتی نہیں، بلکہ اس میں ”خواب“ ، ”علامت“ اور ”چھوڑ آنا“ جیسے الفاظ ایک تہذیبی۔ نفسیاتی معنی رکھتے ہیں۔

قرۃ العین کی نثر میں مختلف ثقافتوں، داستانوں، اور مقدس متون کی جھلک موجود ہے۔ وہ مختلف تہذیبی استعاروں کو زبان کے اندر اس طرح سمو دیتی ہیں کہ وہ قاری کے لاشعور میں تہذیبی رابطے قائم کرتے ہیں۔

”رامائن کا وہ منظر جب سیتا ہرن کے پیچھے جاتی ہے، مجھے ہمیشہ انسانی کمزوری کا استعارہ لگا۔“
یہاں رامائن کا ذکر صرف بیانیہ نہیں بلکہ ایک لسانی رمز (semiotic code) کے طور پر آتا ہے۔

قرۃ العین کی زبان علامتی (Symbolic) اور تہذیبی (Cultural) سطح پر کام کرتی ہے۔ ناول ”سیتا ہرن“ میں لفظ ”ہرن“ ایک فطری جانور ہونے کے ساتھ ساتھ خواب، آرزو، اور فرار کی علامت بھی ہے۔

”ہرن کی آنکھوں میں جو نیند تھی وہ شاید سیتا کی آنکھوں میں جا بسی تھی۔“
یہ جملہ صرف شاعرانہ نہیں بلکہ علامتی بھی ہے، جہاں ہرن اور سیتا ایک دوسرے کے لسانی عکس بنتے ہیں۔

فردینان دی سوسئیر کے مطابق زبان ”signifier“ (اظہار) اور ”signified“ (مراد)  پر مشتمل ہے۔ قرۃ العین کی زبان میں اکثر ”اظہار“ ایک چیز ہے اور ”مراد“ کچھ اور۔

”رات کے اندھیرے میں وہ چپکے سے چلی گئی جیسے کوئی صدیوں پرانا خواب رخصت ہو رہا ہو۔“

یہاں ”چپکے سے چلی گئی“ صرف کردار کی حرکت نہیں بلکہ تہذیبی زوال، یادداشت کے فراموش ہونے، اور فرد کی داخلی کشمکش کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

ہر کردار کی زبان، اس کی سماجی حیثیت، تعلیم، اور فکری رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔ خواتین کرداروں کی زبان میں نرمی، شاعری، اور اشاراتی انداز غالب ہے جبکہ مرد کردار زیادہ براہِ راست، فیصلہ کن، اور استدلالی لہجہ رکھتے ہیں۔

”ہم سب کسی نہ کسی  ہرن کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، جس کا کوئی وجود نہیں۔“
یہ لسانی جملہ صرف بیانیہ نہیں بلکہ اس کردار کی فکری بے یقینی کو بیان کرتا ہے۔

قرۃ العین حیدر کی زبان رومن جاکبسن کے مطابق ”Poetic Function“ ادا کرتی ہے، یعنی زبان محض ابلاغ نہیں بلکہ جمالیاتی اظہار کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان کے ہاں زبان ایک تہذیبی مظہر، تاریخی شعور کا آئینہ اور فکری و وجودی سوالات کا اظہار ہے۔

قرۃ العین حیدر کے ناول سیتا ہرن کا لسانیاتی جائزہ لیتے ہوئے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کی زبان محض بیانیے کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیبی اور ثقافتی عناصر کے اظہار کا ایک موثر وسیلہ ہے۔ اس ناول میں ہندو دیومالا، روایات اور مذہبی پس منظر کو اجاگر کرنے کے لیے مصنفہ نے اردو زبان کے ساتھ ساتھ ہندی اور سنسکرت کے الفاظ کا بھی بھرپور استعمال کیا ہے۔ ہندی اور سنسکرت کے الفاظ مثلاً دھرم، کرم، مایا، موکش، یگیہ، آتما، پُنر جنم جیسے الفاظ نہ صرف کہانی کی فضاء کو مضبوط کرتے ہیں بلکہ قاری کو اس مخصوص تہذیبی ماحول میں داخل ہونے میں بھی مدد دیتے ہیں جسے مصنفہ بیان کرنا چاہتی ہیں۔ ان الفاظ کی موجودگی ناول کو ایک تاریخی اور ثقافتی حقیقت سے جوڑتی ہے اور اس میں بیان کردہ واقعات کو مزید مستند بناتی ہے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ سیتا ہرن میں محض ہندی اور سنسکرت الفاظ کا استعمال نہیں بلکہ اردو کی فطری روانی کو برقرار رکھنے کے لیے فارسی اور عربی کے الفاظ کا بھی امتزاج موجود ہے۔ قرۃ العین حیدر کی نثر اپنی کلاسیکی روایت سے جڑی ہوئی ہے، جس میں اردو زبان کی خوبصورتی اور اس کے روایتی اسلوب کو برقرار رکھا گیا ہے۔ فارسی اور عربی الفاظ مثلاً تقدیر، حقیقت، سرگزشت، حکایت، نصیب، عبادت جیسے الفاظ بیانیے کو زیادہ اثر انگیز اور ادبی طور پر مضبوط بناتے ہیں۔ یہ امتزاج اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ قرۃ العین حیدر کی زبان صرف کسی ایک تہذیب یا روایت تک محدود نہیں، بلکہ وہ برصغیر کے مشترکہ تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے مختلف لسانی اور ثقافتی اثرات کو اپنے بیانیے میں سمو لیتی ہیں۔

اس ناول کا اسلوب بھی قرۃ العین حیدر کے عمومی طرزِ تحریر سے ہم آہنگ ہے، جہاں تجریدیت، استعاراتی زبان، اور تاریخی و تہذیبی گہرائی نمایاں ہوتی ہے۔ ان کا طرزِ بیان بیک وقت شاعرانہ بھی ہے اور فکری طور پر بھی نہایت گہرا۔ سیتا ہرن میں یہ رجحان اس طرح سامنے آتا ہے کہ زبان نہ صرف کہانی سنانے کا ایک ذریعہ بنتی ہے بلکہ ایک مخصوص تہذیبی اور فکری تناظر کو بھی پیش کرتی ہے۔ مکالموں میں زبان کا استعمال بھی خاصا دلچسپ ہے، جہاں مذہبی اور فلسفیانہ مکالمے زیادہ سنسکرت زدہ ہندی میں ہیں، جبکہ عام کرداروں کے مکالمے زیادہ سادہ اور روزمرہ اردو کے قریب ہیں۔ یہ لسانی تبدیلیاں کرداروں کے سماجی اور فکری پس منظر کو واضح کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے کہانی کے اندرونی تضادات اور ثقافتی پیچیدگیاں مزید نمایاں ہوتی ہیں۔

مجموعی طور پر، سیتا ہرن کی زبان ایک تہذیبی آہنگ کی حامل ہے، جو اردو، ہندی، سنسکرت، فارسی اور عربی کے امتزاج سے وجود میں آتی ہے۔ قرۃ العین حیدر نے بڑی مہارت سے مختلف زبانوں کے عناصر کو اس انداز میں برتا ہے کہ نہ تو اردو کی اصل شناخت متاثر ہوتی ہے اور نہ ہی ہندی و سنسکرت کے الفاظ اجنبی محسوس ہوتے ہیں۔ اس لسانی تکنیک کے ذریعے وہ نہ صرف برصغیر کی مختلف تہذیبوں کے باہمی ربط کو اجاگر کرتی ہیں بلکہ اس خطے کی مشترکہ تاریخ اور ثقافت کو بھی زبان کے ذریعے قاری کے سامنے لے آتی ہیں۔ اس لحاظ سے سیتا ہرن کا اسلوب اور زبان اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اور یہ ناول اردو فکشن میں ایک اہم تہذیبی اور لسانی تجربے کی حیثیت رکھتا ہے۔

Facebook Comments HS