آزادی کا امتحان: کیا انسان محبت چنتا ہے یا ظلم؟ رِدم زیرو کی گواہی


انسانی فطرت، ایک گہری اور پراسرار سمندر کی مانند، صدیوں سے فلسفیوں، شاعروں، اور سائنسدانوں کو اپنی گہرائیوں میں غوطہ زن ہونے کی دعوت دیتی رہی ہے۔ اس سمندر کی سب سے بڑی موج، سب سے بڑا سوال شاید یہ ہے کہ  اگر انسان کو مکمل آزادی، مطلق اختیار کی کشتی سونپ دی جائے تو اس کا رخ کس ساحل کی طرف ہو گا؟ کیا وہ محبت، ہمدردی اور تخلیق کے جزیروں پر لنگر انداز ہو گا، یا ظلم، بربریت اور تباہی کے طوفانوں میں گھر جائے گا؟ یہ سوال صرف فکری موشگافی نہیں، بلکہ انسانی تاریخ کا کڑوا سچ ہے اور اسی سچ کو ایک آرٹسٹ نے اپنے جسم، اپنی روح اور سامعین کے بے لگام رویے کے ذریعے دنیا کے سامنے عریاں کر دیا۔ وہ آرٹسٹ تھیں مارینا ابرامووچ، اور وہ تجربہ تھا ”رِدم زیرو“ (Rhythm 0 ) ، 1974 کی وہ سرد رات جس نے انسانی فطرت کے چہرے سے تہذیب کا نقاب نوچ پھینکا۔

اٹلی کے شہر ناپولی میں ایک گیلری کے اندر، مارینا ابرامووچ نے خود کو چھ گھنٹے کے لیے ناظرین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ اصول سادہ تھا: مارینا بالکل غیر متحرک بیٹھی رہیں گی، کوئی ردعمل نہیں دیں گی، اور ناظرین ان کے ساتھ جو چاہیں سلوک کر سکتے ہیں یہ آزادی کا مکمل اختیار تھا، ایک ایسا خلا جہاں سماجی اصول، قانون کا خوف، اور اخلاقی پابندیاں بظاہر معطل ہو گئیں۔

شروع کے دو گھنٹے، ماحول مہذب رہا۔ کسی نے انہیں پھول پیش کیا، کسی نے گال پر بوسہ دیا، کسی نے ہاتھ تھاما۔ یہ انسانی فطرت کا وہ پہلو تھا جو خوبصورت، نرم اور تخلیقی نظر آتا ہے۔ انسان اپنی آزاد مرضی سے نیکی ہی کا انتخاب کرتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے وقت گزرا، اور یہ یقین گہرا ہوتا گیا کہ مارینا واقعی کوئی ردعمل نہیں دیں گی، ماحول کا رنگ بدلنے لگا۔ جھجک کم ہوئی، تجسس نے بے باکی کی شکل اختیار کی، اور پھر۔ تہذیب کا پردہ چاک ہونے لگا۔ پہلے ایک تھپڑ پڑا۔ یہ ایک شرمناک جھٹکا تھا، جس نے فضا کو بوجھل کر دیا۔ پھر کسی نے قینچی اٹھائی اور ان کے کپڑے کاٹنے شروع کر دیے۔ ایک ناظر نے شرمندگی سے کہا، ”کیا ہم واقعی ایسا کر رہے ہیں؟“ لیکن ہجوم کا جنون غالب آنے لگا۔ کپڑے کٹتے گئے، یہاں تک کہ وہ برہنہ ہو گئیں۔ ان کی برہنہ جسم کی تصاویر لی گئیں اور ان کے سر پر چپکا دی گئیں۔ یہ تذلیل تھی، انسانی وقار کو پامال کرنے کا عمل۔

صورتحال مسلسل بگڑتی گئی۔ لوگ ان کے جسم کو چھونے لگے، پہلے ہچکچاتے ہوئے، پھر بے باکی سے۔ کسی نے ان کے گلے پر استرا رکھ کر دیکھا کہ وہ ردعمل دیتی ہیں یا نہیں۔ کسی نے ان کے ہاتھ میں پکڑے پھول میں کانٹا چبھو دیا۔ اور پھر، خوفناک انتہا: ایک شخص نے لادی ہوئی بندوق اٹھائی اور مارینا کے ماتھے پر رکھ دی۔ یہ موت کا اختیار تھا، زندگی لینے کی طاقت۔ اس لمحے بھی، مارینا غیر متحرک رہیں، ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، خاموش گواہی دیتے۔ ہجوم میں سے کچھ مہذب لوگ تھے جنہوں نے مداخلت کرنے کی کوشش کی۔ یہ انسانیت کا وہ پہلو تھا جو ظلم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، جو خطرے میں بھی محبت اور تحفظ کا علم بلند کرتا ہے۔ لیکن مجموعی طور پر، چھ گھنٹے کے اختتام تک، مارینا جسمانی اور روحانی طور پر زخمی ہو چکی تھیں۔ ان کا جسم تشدد اور تذلیل کا نشان بن چکا تھا۔

جب چھ گھنٹے پورے ہوئے اور مارینا نے آہستہ آہستہ حرکت کرنا شروع کی، اپنی جگہ سے اٹھیں، تو وہ لوگ جو لمحہ بھر پہلے ان پر ظلم ڈھا رہے تھے، ان سے آنکھیں چرانے لگے۔ کوئی ان کی زخمی، سوال کرتی آنکھوں میں نہیں دیکھ پا رہا تھا۔ شرمندگی، خوف، یا شاید اپنے اندر کے تاریک پہلو کو دیکھ لینے کا ڈر؟ پرفارمنس ختم ہو چکی تھی، لیکن اس نے پیچھے ایک لافانی سوال چھوڑ دیا تھا: جب انسان کو مکمل اختیار دیا جائے تو وہ محبت کا انتخاب کرے گا یا ظلم کا؟

حیاتیاتی سطح پر، انسان بقا کے لیے پروگرام کیا گیا ہے۔ ہمارے دماغ میں قدیم حصے ہیں جو خطرے کو بھانپتے ہیں اور ”لڑو یا بھاگو“ (fight or flight) کا ردعمل دیتے ہیں۔ جارحیت، بعض اوقات، بقا کا ایک ذریعہ رہی ہے۔ ڈارون کا نظریہ ارتقا ”اہلیت کی بقا“ (survival of the fittest) کی بات کرتا ہے، جس میں مسابقت اور بعض اوقات جارحیت شامل ہوتی ہے۔ ہمارے دماغ کا ایک جدید حصہ، پری فرنٹل کورٹیکس (prefrontal cortex) ، اعلیٰ سطح کی سوچ، منصوبہ بندی، ہمدردی اور اخلاقی فیصلے کرنے کا ذمہ دار ہے۔ آکسیٹوسن (oxytocin) جیسے ہارمونز، جو سماجی تعلقات اور اعتماد میں کردار ادا کرتے ہیں، اس کی حیاتیاتی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ رِدم زیرو میں، ایسا لگتا ہے کہ جب بیرونی پابندیاں ہٹ گئیں، تو دماغ کے قدیم حصے، جو فوری تسکین اور طاقت کے احساس سے منسلک ہو سکتے ہیں، غالب آ گئے۔ پری فرنٹل کورٹیکس کا کنٹرول کمزور پڑ گیا جب سماجی اصول اور نتائج کا خوف ختم ہوا۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ حیاتیات صرف امکانات پیدا کرتی ہے، حتمی فیصلہ ماحول اور نفسیاتی حالت پر منحصر ہوتا ہے۔

نفسیات کی رو سے، رِدم زیرو کا تجربہ کئی اہم مظاہر کو اجاگر کرتا ہے۔ سب سے نمایاں ”ڈی انفرادی کاری“ (Deindividuation) کا تصور ہے۔ جب لوگ کسی ہجوم کا حصہ بن جاتے ہیں، اور ان کی انفرادی شناخت کمزور پڑ جاتی ہے، تو وہ ایسے کام کر سکتے ہیں جو وہ اکیلے میں کبھی نہ کریں۔ ”ذمہ داری کا پھیلاؤ“ (Diffusion of Responsibility) بھی یہاں کارفرما ہو سکتا ہے۔ جب بہت سے لوگ موجود ہوں تو ہر شخص یہ سمجھتا ہے کہ کوئی اور مداخلت کرے گا، اس طرح کوئی بھی فرد کارروائی نہیں کرتا یا دوسروں کے غلط کاموں میں شامل ہو جاتا ہے۔ ”حالت کی طاقت“ (Power of the Situation) بھی ایک کلیدی عنصر ہے۔ اسٹینفورڈ جیل تجربے (Stanford Prison Experiment) جیسے مطالعات نے دکھایا ہے کہ کیسے عام لوگ جب خاص حالات میں رکھے جاتے ہیں (جیسے جیل گارڈز یا قیدی) ، تو ان کا رویہ ڈرامائی طور پر بدل سکتا ہے۔ رِدم زیرو میں، مکمل اختیار اور غیر متحرک شکار کی موجودگی نے لوگوں کے اندر چھپی طاقت کی ہوس، کنٹرول کی خواہش، اور بعض اوقات سادیارانہ (sadistic) رجحانات کو ابھارا۔ جب سماجی اصول (social norms) ۔ کیا قابل قبول ہے اور کیا نہیں۔ غیر واضح ہو جائیں یا ٹوٹ جائیں، تو انسان غیر متوقع اور اکثر منفی رویہ اپنا سکتے ہیں۔ آرٹ کے سیاق و سباق نے شاید کچھ لوگوں کو یہ یقین دلایا ہو کہ یہ سب ”صرف آرٹ“ ہے، جس سے ان کے اخلاقی ضابطے کمزور پڑ گئے۔

عمرانیات کے مطابق، انسانی رویہ بڑی حد تک سماجی ڈھانچے، اصولوں، اقدار اور اداروں (جیسے قانون، خاندان، تعلیم) سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ ادارے اور اصول ہی معاشرے کو منظم رکھتے ہیں اور افراد کے رویوں پر کنٹرول رکھتے ہیں۔ رِدم زیرو میں، ان تمام بیرونی سماجی کنٹرولز کو عارضی طور پر ہٹا دیا گیا۔ اس خلا میں، طاقت کا ایک نیا ڈھانچہ ابھرا جہاں ناظرین (جو تعداد میں زیادہ تھے اور متحرک تھے ) کے پاس مکمل طاقت تھی اور مارینا (جو اکیلی اور غیر متحرک تھی) مکمل طور پر بے اختیار تھی۔ عمرانیات یہ بتاتی ہے کہ طاقت کا یہ غیر متوازن ارتکاز اکثر استحصال اور جبر کا باعث بنتا ہے۔ جب سزا کا خوف نہ ہو اور سماجی تنقید کا خطرہ کم ہو جائے (کیونکہ سب ایک ہی کام کر رہے ہیں ) ، تو گروہی رویہ تیزی سے منفی سمت اختیار کر سکتا ہے۔ یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح سماجی اصول اور قوانین محض پابندیاں نہیں ہیں، بلکہ وہ تہذیب، تحفظ اور باہمی احترام کے ستون ہیں۔ ان ستونوں کے بغیر، معاشرہ افراتفری اور ظلم کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔

فلسفیانہ سطح پر، رِدم زیرو کا تجربہ انسانی فطرت کے بارے میں پرانے سوالات کو زندہ کرتا ہے۔ کیا انسان پیدائشی طور پر اچھا ہے جیسا کہ روسو (Rousseau) نے دعویٰ کیا، اور سماج اسے خراب کرتا ہے؟ یا کیا وہ فطری طور پر خودغرض اور ظالم ہے جیسا کہ ہابس (Hobbes) نے ”قدرتی حالت“ (state of nature) میں بیان کیا، اور صرف ایک مضبوط حکومت اسے قابو میں رکھتی ہے؟ اس حالت میں، ہابس کا نظریہ زیادہ درست نظر آیا: ”ہر ایک کی جنگ ہر ایک کے خلاف“ (war of all against all) ۔ اختیار یا آزادی کا فلسفہ بھی یہاں اہم ہے۔ کیا مطلق آزادی واقعی مطلوبہ چیز ہے؟ کیا آزادی بغیر ذمہ داری کے تباہ کن ہے؟ سارتر (Sartre) جیسے وجودی فلسفیوں نے انسانی آزادی اور اس کے ساتھ آنے والی بھاری ذمہ داری پر زور دیا۔ رِدم زیرو بتاتا ہے کہ بہت سے لوگ اس ذمہ داری کو اٹھانے کے بجائے طاقت کے نشے میں بہہ سکتے ہیں۔ یہ تجربہ اخلاقیات کے سوال کو بھی اٹھاتا ہے : کیا اخلاقیات بیرونی قوانین کا نتیجہ ہیں یا وہ انسانی ضمیر میں پیوست ہیں؟ تجربہ بتاتا ہے کہ بیرونی قوانین کی غیر موجودگی میں، اندرونی ضمیر کی آواز آسانی سے دبائی جا سکتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جب اخلاقیات کی بنیاد محض سماجی دباؤ یا سزا کا خوف ہو، تو آزادی ملنے پر وہ بکھر جاتی ہے۔

تاریخ انسانی، بدقسمتی سے، رِدم زیرو کے تاریک پہلو کی بازگشت سے بھری پڑی ہے۔ جب بھی سماجی نظام درہم برہم ہوا ہے، یا طاقت کا ارتکاز چند ہاتھوں میں آیا ہے بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے، ظلم اور بربریت کے ہولناک مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں۔ جنگوں میں سپاہیوں کا عام شہریوں پر تشدد، ہجوم کا لنچنگ (lynching) ، نسل کشی (genocide) کے دوران عام لوگوں کا اپنے پڑوسیوں پر ظلم، آمرانہ حکومتوں میں ریاستی جبر۔ یہ سب ایسے تاریخی لمحات ہیں جہاں حالات نے لوگوں کے اندر کے تاریک ترین پہلوؤں کو سامنے لایا ہے۔ رِدم زیرو، ایک چھوٹے پیمانے پر ہی سہی، تاریخ کے ان بڑے المیوں کا ایک علامتی مظہر ہے۔

یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ رِدم زیرو کا تجربہ ایک مصنوعی صورتحال تھی۔ کیا ہم اس تجربے کو انسانی فطرت پر حتمی فیصلہ قرار دے سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ یہ ممکن ہے کہ عام حالات میں، جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ طویل مدتی تعلقات رکھتے ہوں، جہاں سماجی نتائج کا خوف ہو، اور جہاں اخلاقی تربیت اور ہمدردی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو، لوگ مختلف رویہ اختیار کریں۔

مزید برآں، رِدم زیرو میں موجود تمام لوگ ظالم نہیں بنے۔ کچھ نے مارینا کا دفاع کرنے کی کوشش کی، کچھ خوفزدہ ہو کر خاموش رہے، اور کچھ نے صرف تجسس کا مظاہرہ کیا۔ یہ انسانی فطرت کے مثبت پہلو، ہمدردی، اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی صلاحیت کی موجودگی کا ثبوت ہے۔ تجربہ یہ نہیں کہتا کہ انسان صرف ظالم ہے، بلکہ یہ کہ انسان کے اندر ظلم کی صلاحیت موجود ہے جو خاص حالات میں، بالخصوص جب اسے مکمل آزادی اور اختیار ملے اور کوئی جوابدہی نہ ہو، تو بیدار ہو سکتی ہے۔ رِدم زیرو نے انسانی فطرت کے چہرے سے تہذیب کا میک اپ دھو دیا اور ایک خوفناک سچ کو بے نقاب کیا۔ محبت، ہمدردی، اور احترام پیدائشی نہیں، یا کم از کم وہ آسانی سے دبائے جا سکتے ہیں جب ان کی آبیاری سماجی اصولوں، اخلاقی تعلیم، اور خود پر قابو پانے کی تربیت سے نہ کی جائے۔

کیا انسان محبت کا انتخاب کرے گا یا ظلم کا؟ رِدم زیرو کا جواب مایوس کن ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ جب آزادی کا مطلب لاقانونیت بن جائے، جب اختیار کا مطلب بے لگامی ہو، اور جب جوابدہی ختم ہو جائے، تو انسان کا تاریک پہلو آسانی سے حاوی ہو سکتا ہے۔ یہ ایک تکلیف دہ یاد دہانی ہے کہ تہذیب ایک نازک پردہ ہے جسے باقاعدہ محنت، قوانین کی پاسداری، اخلاقی بیداری، اور ایک دوسرے کے لیے ہمدردی کے مسلسل فروغ سے ہی قائم رکھا جا سکتا ہے۔ آزادی ایک عظیم نعمت ہے، لیکن رِدم زیرو نے سکھایا کہ بے لگام آزادی، بغیر ذمہ داری اور ضمیر کے، ایک خوفناک عفریت کو جنم دے سکتی ہے۔ یہ ہم سب کے لیے ایک ابدی سوال اور ایک مسلسل چیلنج ہے کہ ہم اپنے اندر اور اپنے معاشروں میں محبت کے پودے کو ظلم کے کانٹوں سے کیسے بچائیں۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سنتوش کامرانی

ڈاکٹر سنتوش کامرانی حیدرآباد، سندھ کی ایک نجی یونیورسٹی میں انسانی رویے، منطق و تنقیدی سوچ، فلسفہ، انسانی علوم اور تعلیمی نفسیات جیسے مضامین کی تدریس میں مشغول ہیں۔ ان کے تعلیمی پس منظر میں میڈیکل سائنسز، ماس کمیونیکیشن، تعلیم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن شامل ہیں۔ آپ یونیسکو پاکستان کے پلیٹ فارم سے امن، انسانی حقوق اور تنازعہ حل کرنے کی تعلیم پر مرکزی کردار ادا کرتے رہے ہیں

dr-santosh-kamrani has 33 posts and counting.See all posts by dr-santosh-kamrani