سوشل میڈیا اور احتیاط کے تقاضے
سوشل میڈیا، میڈیا کی جدید ترین شکل ہے اسے جدید میڈیا بھی کہا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا ایک شخص سے دوسرے شخص تک خیالات اور رویوں کو منتقل کرنے کا عمل ہے۔ آج دنیا میں اسے پرنٹ میڈیا سے بھی زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور اس کی اہمیت، افادیت اور وسعت دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر قوم، ملک اور تحریک اپنی بات لوگوں تک پہنچانے اور ان کو ملک و قوم کے مسائل سے باخبر رکھنے کے لئے میڈ یا کا ہی سہارا لیتی ہے۔ میڈیا یا ذرائع ابلاغ ایک ایسا ہتھیار ہے جو بہت ہی کم وقت میں کسی بھی مسئلہ یا ایشو کے متعلق لوگوں کے ذہنوں کو ہموار کرتا ہے بلکہ ان کی رائے بھی بناتا ہے۔ آسان پیغام رسانی، تعمیر ِ افکار، سستے اور آسان تعلیمی ذرائع تک رسائی، نفع بخش محفوظ کاروبار کے لئے سوشل میڈیا اہمیت کا حامل ہے۔
آج کے دور میں لوگوں کی دلچسپیاں اور ان کی ترجیحات سوشل میڈیا متعین کرتا ہے۔ سوشل میڈیا ہے جو کسی کام پر اکساتا ہے اور کسی اہم کام سے توجہ بھی ہٹاتا ہے۔ آج فرد سے لے کر حکومت تک کی تکمیل میڈیا کے ہاتھ ہی میں ہے۔ بہت عرصے سے مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کو کسی بھی ریاست کے تین اہم ستون تصور کیا جاتا ہے اور ان تینوں اہم اداروں کے ذریعے کوئی بھی تبدیلی لائی جا سکتی ہے لیکن اب کسی بھی ریاست یا جمہوری ملک کا چوتھا ستون میڈیا کو گردانا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کی اہمیت اور ضرورت ہر لحاظ سے پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ یہ نہ صرف رائے عامہ کو ہموار کرنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ بلکہ لوگوں کے ذہن و فکر کو بھی تبدیل کرنے میں کلیدی رول ادا کرتا ہے یہ لوگوں کے ذہنوں کو بتانے اور بگاڑنے میں سب سے اہم ذریعہ ہے۔
اگر بات کی جائے اس کے بہروپ کی تو آج کے دور میں اس کا بہروپ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر بہت سے جعلی اکاؤنٹ بنا کر لوگوں کو گمراہ کیا جاتا ہے، عوام اس پر یقین بھی کرلیتے ہیں، بغیر سوچ و بچار کیے اسے آگے شیئر کر دیا جاتا ہے۔ اور ایک دوسرے کے ساتھ شیئرنگ کا سلسلہ اس قدر بڑھتا ہے کہ ایک فتنہ کا روپ اختیار کر لیتا ہے جیسا کہ لاہور میں پنجاب کالج پر ایک جھوٹی افواہ چلائی گئی اور یہ افواہ ملک گیر فساد اختیار کر گئی جبکہ بعد از تحقیق اس تحریک میں نمائندگی کرنے والوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا اس جیسی کئی مثالیں معاشرے میں موجود ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس بہروپ کا شکار زیادہ تر نوجوان ہے۔ نوجوان کسی بھی معاشرے و سماج، خاندان و گھر، ملک و ملت کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں، ملک کے مستقبل کی باگ ڈور آگے چل کر نوجوان نسل کو ہی سنبھالنا ہوتی ہے۔ معاشرے و سماج کی نمائندگی نوجوان نے کرنی ہوتی ہے۔ خاندان و گھر کا سہارا نوجوان نے بننا ہوتا ہے۔ ملک و ملت کی پہچان نوجوان بنتا ہے مگر وہ جب اس بہروپ کے سحر میں جکڑ جاتا ہے، جوش میں ہوش کھو بیٹھتا ہے۔ تو انجام ِ سے دور چار ہونے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ لگ جاتا ہے تو مائیں بہنیں، بیٹیاں، کچہریوں کے چکر لگاتی، جیل کی سلاخوں کے پیچھے ملاقات کرتی، سسکتی، آہیں بھرتی عبرت کی تصور بن جاتی ہیں۔
دوسری طرف نوجوان طبقہ سے اوپر کے با شعور لوگ بھی اس بہروپ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایک جھوٹی خبر چلتی ہے اور اس پر محاذ آرائی شروع ہوتی ہے اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے مدتوں کی دوستی دشمنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جبکہ بعد میں پتہ چلتا ہے کہ وہ خبر تو جھوٹی تھی مگر بھائی بھائی کا دشمن ہی رہتا ہے، دوست دوست نہیں رہتا ہے۔ سوشل میڈیا کا بہروپ خونی کشش کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے دور رَس اثرات کی بدولت رویوں، تعلقات میں بیگانگی پیدا ہو جاتی ہے اور انجام مقدمہ بازی سے ہوتا ہوا قتل و غارت تک پہنچ جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کے بہروپ کا تدارک ممکن ہے جس کے لئے چند ایک تجاویز پر عمل کر کے منفی اثرات سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں۔ اول:اپنے عقل و شعور کو بروئے کار لائیں، جب آپ کا دل ہی نہ مانے تو کبھی بھی ضد بازی میں جھوٹی خبر کا حصہ نہ بنیں۔ دو : کسی خبر پر جلد بازی نہ کریں، نہ اس پر یقین کریں نہ اسے آگے شیئر کریں، دانا کہتے ہیں :جلد بازی شیطان کی طرف سے ہوتی ہے، دیر میں خیر ہے۔ کچھ دن بعد تک سچ و جھوٹ میں تفریق ہو جاتی ہے، اس کا انتظار کریں۔ سوم : مستند نشریاتی چینل پر توجہ دیں، اگر خبر سچی ہے تو ذمہ دار نشریاتی ادارہ اسے ضرور نشر کرے گا، اگر نہیں کر رہا تو اس افواہ پر کان نہ دھریں۔ چہارم:اگر اپنے عقل و شعور کو برائے کار نہیں لا سکتے، تو تحقیق کریں، اور تحقیق کا پہلا اور آسان پہلو کمنٹس میں جا کر دیکھنا ہے کئی ایک با شعور اور مستند ذرائع نے اس کی تحقیق کی ہوتی ہے۔ پنجم:بغیر تصدیق و تحقیق کے کسی کی عزت و آبرو کے پے در پے نہ ہوں، کسی پر طعن و تشنیع نہ کریں، کسی کے بارے میں بد گمانی میں بہ پڑیں، کسی کی ٹوہ میں نہ لگیں رہیں، کسی کے عیب تلاش کرنے میں نہ لگے رہیں، کسی فتنہ و فساد کا حصہ نہ بنیں، ممکن ہے بقول مجروح سلطان پوری کہ: ”میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر ۔“ ”لوگ ساتھ آتے کیے کارواں بنتا گیا۔“ کہیں ایسا نہ ہو کہ برائی، فساد، قتل و غارت، بد اخلاقی، معاشرتی و سماجی بگاڑ کا ایک کارواں چلے اور اس کے چلانے کا ثواب و عتاب آپ کے نامہ اعمال کا حصہ بن جائے۔

