تحریک انصاف اور طاقتور حلقے، برف کیسے پگھلے گی؟
پاکستان کی سیاست ایک طویل عرصے سے اضطراب اور کشمکش کی زد میں ہے لیکن حالیہ برسوں میں یہ بحران ایک نئی نہج پر پہنچ چکا ہے۔ تحریک انصاف جو عوامی طاقت اور ووٹ کی بنیاد پر ابھری اور عمران خان، جو ایک خودمختار سیاسی قیادت کے طور پر سامنے آئے، اب طاقتور حلقوں کے ساتھ ایک غیرعلانیہ سرد جنگ میں الجھے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا سیاسی بیانیہ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی سے نہیں، بلکہ عوامی حمایت، احتساب اور خودمختاری پر کھڑا ہے۔ جو روایتی طاقت کے مراکز کو ہمیشہ سے چبھتا رہا ہے۔
نو مئی 2023 کے المناک واقعات نے اس کشیدگی کو شدت ضرور دی، مگر یہ کہنا کہ تحریک انصاف کی ریاستی اداروں سے براہ راست لڑائی ہے، سچائی کی مکمل تصویر نہیں۔ یہ اختلاف زیادہ تر بیانیاتی، قانونی اور سیاسی نوعیت کا ہے، جس میں دونوں جانب سے غلط فہمیاں اور شدت نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اس کے بعد ریاستی اداروں نے سخت ردعمل دیا۔ پارٹی پر کریک ڈاؤن، ہزاروں کارکنوں کی گرفتاریاں اور بنیادی شہری آزادیوں پر قدغنیں۔ جس نے صورتحال کو مزید الجھا دیا۔
تحریک انصاف کے لاتعداد مخلص کارکن آج پابندِ سلاسل ہیں، جن میں کئی نوجوان اور خواتین شامل ہیں۔ بدقسمتی سے، چادر اور چاردیواری کا تقدس بھی پامال ہوا، جس سے عام شہری کے دل میں نظامِ عدل اور ریاستی رویوں کے بارے میں سوالات نے جنم لیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک کو سیاسی استحکام، معاشی بہتری اور قومی یکجہتی کی اشد ضرورت ہے۔
دوسری جانب، پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا سیل کی طرف سے بعض اوقات ایسا لب و لہجہ اختیار کیا گیا جو اداروں اور نظام کے لیے غیر ضروری اشتعال کا باعث بنا۔ جذباتی نعروں اور بیانیاتی شدت نے حقیقت اور افواہ کے درمیان فرق کو مٹا دیا۔ جب فریقین ایک دوسرے کو مکمل طور پر ایک دوسرے کے خلاف سمجھنے لگیں، تو مذاکرات کا در بند ہو جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ یہ برف کیسے پگھلے گی؟ کیا سیاسی اور ریاستی قیادتیں اس بات پر تیار ہیں کہ وہ انا اور انتقام کی دیوار گرا کر مفاہمت کا دروازہ کھولیں؟ اس کا جواب صرف اسی وقت ممکن ہے جب دونوں طرف سنجیدگی، دیانت اور نرمی کا مظاہرہ کیا جائے۔
اس برف کو پگھلانے کے لیے کچھ بڑے اور معتبر کرداروں کو سامنے آنا ہو گا۔ صرف وہی شخصیات جو فریقین کا اعتماد رکھتی ہوں، ایک بامعنی اور نتیجہ خیز مکالمے کی بنیاد رکھ سکتی ہیں۔ یہ مکالمہ خاموش کمروں میں نہیں، بلکہ شفاف ماحول میں، آئین و قانون کی روشنی میں اور قومی مفاد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہونا چاہیے۔
شدت پسند رویے، خواہ وہ کسی بھی طرف ہوں، اس عمل کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ سیاست میں لچک اور نرمی کو کمزوری سمجھنا چھوڑنا ہو گا۔ ریاست کو طاقت کے استعمال کے بجائے تحمل اور انصاف کا مظاہرہ کرنا ہو گا جبکہ تحریک انصاف کو بھی بیانیے میں توازن لانا ہو گا۔
یہ راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناگزیر بھی ہے اگر ریاستی ادارے اور تحریک انصاف واقعی ملک سے مخلص ہیں تو دونوں کو ایک قدم پیچھے اور ایک قدم آگے بیک وقت لینا ہو گا۔ اس میں ہی ملک کی سلامتی، خودمختاری، سیاسی استحکام اور قومی یکجہتی کا راز پوشیدہ ہے۔
برف پگھل سکتی ہے۔ شرط صرف اتنی ہے کہ سب اسے پگھلانا چاہیں۔

