خادم اعلیٰ شکریہ: راحیل راؤ واپس مل گیا!

راحیل راؤ گھر پہنچے اور بچو ں کو بلایا۔ بچوں کو کہا کہ آپ سے سب پولیس والے انکل معافی مانگنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ معاف کرنا چاہیں تو کر دیں ورنہ ان کو بہت بری سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ اب یہ سارا فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔۔بچے جیسے دل کے سیدھے ہوتے ہیں اور معاف کرنے میں وسیع القلبی کا مظاہرہ کرتے ہیں اسی لیے راحیل راؤ کی بیٹی نے فورا کہا، "بابا جانے دیں معاف کر دیں غلطی ہو جاتی ہے۔۔کوئی بات نہیں”
یہ وہی بیٹی تھی جو اس رات کورو رہی تھی اور گذشتہ کالم میں یہ تذکرہ کرنا بھول گیا تھا کہ جب کہرام مچا ہوا تھا عین اس وقت یہ بیٹی بھاگتے ہوئے گھر کے اندر گئی اور راحیل راؤ کے موٹر سائیکل کی کاپی اٹھا لائی۔ وہ کاپی ایک پولیس والے کو دی اور کہتی رہی روتی رہی کہ۔۔”یہ دیکھیں موٹر سائیکل میرے بابا کی اپنی ہے انہوں نے چوری نہیں کی” حالانکہ معاملہ کچھ اور تھا لیکن بچی کا معصوم ذہن یہ سب سمجھنے سے یکسر قاصر تھا۔
سہ پہر کو راحیل کا فون آیا کہ کیا کروں؟ میں نے کہا جو آپ کو صحیح لگتا وہ کریں ہم اس معاملے میں کیا کہہ سکتے ہیں۔ آپ اور آپ کے 
کچھ دیر بعد ایک سرکاری اعلیٰ افسر جس کا تعلق پولیس سے نہیں تھا کا فون آیا۔ اس نے کہا ، راحیل صاحب معاف کر دیں۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کی سنی گئی۔ یہاں کیا کچھ نہیں ہوتا کس کی شنوائی ہوتی ہے۔ بجائے اس کےکہ آپ شکر کریں آپ ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔
بس اس فون کے بعد راحیل راؤ بپھر گئے کہ یہ مجھ سے معافی مانگ رہے ہیں یا احسان کر رہے ہیں۔ راحیل نے اس اس افسر کو کہا کہ میں معاف کرنے کو تیار ہوں لیکن میری ایک شرط ہے؟
افسر خوش ہو کر کہنے لگا کیا شرط ہے ؟
راحیل راؤ نے کہا کہ وہ تمام اہلکار میرے گھر کی گلی میں ایسے آئیں گے کہ انہوں نے نیکریں اور بنیانیں پہنی ہوں گی۔ میں ان کو تھپڑ ماروں گا اور پھر معاف کر دوں گا۔
اس معاملے میں اس افسر کو چھوڑ کر باقی تمام پولیس کے اعلیٰ افسران کا رویہ بہت شائستہ اور خالص شرمندگی والا تھا۔ بالخصوص ڈی آئی جی آپریشنز اور ایس ایس پی وغیرہ کا۔ یہ وہ لہجہ تھا جو راحیل راؤ کو سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر رہا تھا۔ ڈی آئی جی سمیت کسی افسر کے لہجے میں کوئی مصنوعی بناوٹ نہیں تھی۔ ان کی باتو ں سے کہیں نہیں لگتا تھا جیسے وہ دل سے شرمندہ نہ ہوں اور وہ فقط سرکاری فریضہ سرانجام دے رہے ہوں۔ اب چاہے یہ سب کچھ بھی اعلی سطح پر دباؤ کا نتیجہ ہو لیکن بات کرنے کا مناسب ڈھنگ بہت سارے معاملات کو ٹھیک کر دیتا ہے۔پولیس افسران نے اپنے طور ہم سب میں شائع ہونے والے کالم پر محلے کی سطح پر تحقیقات بھی کر لیں تھیں اور جانتے تھے کہ انکے اہلکاروں سے بہت بڑی زیادتی سر زد ہوئی ہے۔
رات راحیل راؤ نے فون پر بتایا کہ تمام اہلکاروں کو میرے گھر لایا گیا، محلے والوں کو اکٹھا کیا گیا۔ معطل اہلکار قطار بنا کر کھڑے تھے۔ 
یہ سارا قصہ سننے کے بعد میں نے پوچھا۔۔کیا راحیل راؤ واپس مل گیا ہے ہمیں؟
فرمانے لگے یا ر مل تو گیا ہے۔ کچھ زخم وقت کے ساتھ مندمل ہو تے ہیں۔ لیکن ایک خیال ذہن میں آتا ہے کہ جیسے گلگت بلتستان کی پولیس یہاں فنی تربیت کے لیے آتی ہے تو کیا پنجاب کی پولیس گلگت بلتستان میں اخلاقی تربیت کے لیے نہیں بھیجی جا سکتی؟ دونوں اطراف کی پولیس اور عوام کو یکساں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ یہی بات ایکسپریس کے نیوز اینکر عمران خان نے کہی کہ ایک وہ پولیس ہے اور ایک یہ پولیس۔۔
راحیل راؤ اور عمران بھائی کی باتیں سن کر یادوں کے دریچے کھلتے چلے گئے۔ مستنصر حسین تارڑ اور بین الاقوامی مصنفین کی کتابیں یاد آتی چلی گئیں جن میں گلگت بلتستان کی پولیس کی تعریفیں ہی تعریفیں ہیں۔ یہ تمام سیاح اور مصنفین لاکھ ایک دوسرے سے مختلف موضوعات پر اختلاف کریں لیکن آخر گلگت بلتستان کی پولیس کی اعلیٰ اخلاقیات پر سب کا اتفاق کیوں ہے؟

