دہشت گردی، پولیس، مقتدرہ اور ہمارے رویے

پولیس کے اسی طرح کے رویے جس سے پولیس اور عوام میں اعتماد اور دوستی کی فضا کا ناپید ہونا جرائم پیشہ افراد اور دہشت گردوں کے لئے کسی نعمت غیر مترقبہ سے کم نہیں، حالانکہ لاہور میں تیرہ فروری کے دہشت گردی کے واقعے کے بعد جس میں پولیس کے اعلیٰ افسران شہید ہوئے تھے پولیس کو روائتی سوچ اور طریقہ کار کو خیر آباد کہہ دینا چاہے تھا ۔ دنیا بھر میں کسی بھی برائی، جرائم یا دہشت گردی کا خاتمہ عوام کے تعاون کے بغیر مکمن نہیں لیکن یہاں پولیس ہر شہری کو جب مجرم سمجھتے ہوئے اسے اسی نظر سے دیکھے بلکہ بیچ سڑک میں کھڑا کر کے اس کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کرے تو کیا ’توہین انسانیت ‘ کا یہ مظاہرہ ”دوستی اور اعتماد“ کی بنیاد بنے گا؟ یا کسی کی گرفتاری کے وقت گھروں میں داخل ہونے اور پورئے گھر والوں کے ساتھ جس سلوک کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کیا اس کے بعد ”محبت“ بڑھتی ہے؟ اصلاح اوپر سے لیکر نیچے تک ہونی چاہیے۔پولیس کے یونیفارم کی ظاہری مثبت تبدیلی” ذہنی اور روئیوں میں تبدیلی لائے بنا رائیگاں ہو سکتی ہے۔
آئے روز ہونے والے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں صرف لوگ ہی نہیں مرتے بلکہ پورے شہر کی نفسیات تبدیل ہو جاتی ہے حالانکہ ٹریفک حادثات میں اس سے کئی گنا زیادہ افراد جاں بحق اور زخمی ہوتے ہیں ۔ صرف کراچی شہر میں سالانہ 30 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات میں 1200 سے زائد شہری جان سے جاتے ہیں، 5 ہزار سے زائد معذور ہوتے ہیں، مرنے والوں کی اکثریت راہگیر اور موٹر سائیکل سواروں کی ہوتی ہے۔جبکہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان بھر میں ہر سال اوسطاً 17 ہزار سے زائد افراد ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں جبکہ بعض رپورٹوں کے مطابق یہ تعداد 30 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ ہلاک ہونے والے لوگوں کی بڑی تعداد کے علاوہ سالانہ 40 ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوکر عارضی یا مستقل معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ صرف صوبہ پنجاب میں گزشتہ سالوں کی ایک رپورٹ کے مطابق 1 لاکھ 67 ہزار حادثات میں 11 ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 9 ہزار کے قریب لوگ معذور ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ پاکستان ان 80 ممالک میں شامل ہے جن کے پاس اموات رجسٹریشن کا مناسب ڈیٹا موجود نہیں ہے۔پاکستان کے پاس کسی قسم کی نیشنل روڈ سیفٹی پالیسی اور اموات میں کمی کا ہدف بھی متعین نہیں کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان میں موجودہ سٹرکوں کے باقاعدہ معائنہ کا طریقہ کار بھی موجود نہیں۔
اگر ہم دہشت گردی کے واقعات پر نظر دوڑائیں تو یہ ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات سے کئی گنا کم ہیں لیکن پوری ریاستی مشنیری فوج اور سیکورٹی پر مامور ادارے اسی کے سدباب میں لگے ہوئے ہیں جس میں جزوی کامیاں مل رہی ہیں لیکن خاتمہ ممکن نہیں ہو سکا، اس پر ہم آگے چل کر بات کرتے ہیں پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی میں دہشت گردی کے واقعات میں کتنے افراد جان بحق ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں گزشتہ 15سالوں کے درمیان 451 خودکش دھماکے ہوئے جس میں 6ہزار 932افراد شہید جبکہ 15ہزار 201سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ سب سے زیادہ 76خودکش حملے 2009ء میں ہوئے جن میں 949 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ دہشت گردی کے دیگر واقعات اس سے الگ ہیں۔
انسانی جان تو ایک بھی بہت قیمتی چیز ہے جو ایک بار ہی ملتی ہے اور اس کا ضیاع کسی بھی طریقے سے ہو وہ ناقابل تلافی ہے۔ جس گھر کا کوئی فرد ناحق دنیا سے چلا جاتا ہے یہ تو وہ خاندان ہی جانتا ہے کہ اس پر کیا بیتتی ہے اور اگر گھر کا کفیل ہو تو اس گھر کے بچوں اور خواتین کے ساتھ کیا بیتتی اور سلوک روا رکھا جاتا ہے اس طرح کی کہانیوں کو منظر عام پر لاکر اس معاشرئے کا گھناونا چہرہ بھی دنیا کے سامنے لایا جانا چاہے۔
لیکن دہشت گردی کیونکہ خوف پیدا کرتی ہے اور اس کا ہدف ”کوئی“ بھی ہو سکتا ہے اس لئے ہماری ہیت مقتدرہ، انتظامیہ اور حکومت کی ساری توجہ اس کے سدباب کے طرف ہے حالانکہ ٹریفک حادثات کی سنگینی بھی کم نہیں ہے لیکن نہ ہی ٹریفک حادثات کی وجوہات کو کم یا ختم کرنے کی طرف حقیقی معنوں میں توجہ دی جارہی ہے اور نہ ہی دہشت گردی کی حقیقی وجوہات کو ختم کیا جارہا ہے۔ سیکورٹی کے نام پر روز بروز شہری آزادیوں، نقل وحمل کھیل تماشوں اور تفریح سرگرمیوں پر پابندیوں کو مسائل کا حل سمجھ لیا گیا ہے جس کے نقصان کا اندازہ شاید ہماری مقتدرہ نہیں کر پا رہی۔
تبدیلی صرف ہمارا عصری ومذہبی نصاب ہی نہیں مانگتا اسے پڑھانے والے اذہان کی تبدیلی پہلی ترجیح ہونی چاہے تھی جبکہ شہروں کی مساجد کے پیش اماموں کے بارے بھی جانکاری کی جائے کہ کون کہاں سے آیا ہے اور کس طرح کی تبلیغ کر رہا ہے دور حاضر کے تقاضوں اور سماجی مسائل پر گفتگو کو ابلاغ کا زریعہ بنانا چاہیے تھا جو ہمارا موضوع سخن ہی نہیں مختلف تنظیمیوں کے زریعے جو چندے اکٹھے کئے جارہے ہیں ان کا مصرف کیا ہے؟۔
مرض کا علاج اور مسائل انسانی عقل اور اس کے احاطہ ادراک سے بڑے نہیں ہوتے بات صرف ڈاریکشن کو سیدھا کرنے، مرض کی درست تشخیص اور وژن کی ہے۔ورنہ ہر واقعے کی مذمت کے رٹے رٹائے جملے برسوں سے بولے جا رہے ہیں بولتے رہیں آسان کام تو پھر یہی جس میں کچھ کرنا نہ پڑئے اور”فرض“ بھی ادا ہو جائے۔

