لبرل ہمارے معاشرے کو کیسے تباہ کرنا چاہتے ہیں؟


لبرل ہماری جدید ترین اخلاقی اقدار کو تباہ کر کے ہم پر فرسودہ مغربی روایات مسلط کرنے پر مصر ہیں۔ ان کے اس خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے عمران خان صاحب بتا چکے ہیں کہ لبرل وطن عزیز کا کچرا ہیں۔ عدالتی ریمارکس آ چکے ہیں کہ لبرل دہشت گرد ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر ظفر اللہ صاحب بتا چکے ہیں کہ وہ مذہبی دہشت گردوں سے بڑے دہشت گرد ہیں کیونکہ خودکش دھماکے تو صرف ستر ہزار افراد مارتے ہیں جبکہ لبرلوں کا منطقی اندازِ فکر کروڑوں افراد کو متاثر کرتا ہے۔ سب سے بڑی بات کہ نواز شریف جیسا شخص خود کو لبرل کہتا ہے اور عمران خان سمیت دیگر اصحاب اس بات پر متفق ہیں کہ نواز شریف ملک کو تباہ کر رہے ہیں۔ لبرلوں کی پسندیدہ مغربی فرسودہ اور گمراہ کن اخلاقیات کیا ہیں جن کا مقصد ہمارے رسوم و رواج اور اخلاقی حالت کو تباہ کرنا ہے؟ آئیے جانتے ہیں۔

لبرل چاہتے ہیں کہ ہم خلافت کی بجائے جہموریت لائیں جو ایسا نظام ہے جس میں ہر نااہل شخص ووٹ دینے کا اہل قرار پاتا ہے اور ایک سو جہلا ایک عالم پر بھاری پڑتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسی تناسب سے ووٹ پا کر صاحب کردار لوگوں کی پارٹیاں الیکشن ہار جاتی ہیں۔ ہمیں ایسا نظام قبول نہیں ہے۔ نظام ایسا ہونا چاہیے کہ حاکم وقت کے انتخاب کے وقت عام لوگوں سے رائے نہ لی جائے۔ کسی ایک شخص کو صرف مستند دینی علما سے رائے لے کر تاحیات حکمران مقرر کر دیا جائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ عالم ہونے کا دعوی کرنے والا ہر شخص عالم نہیں ہوا کرتا ہے۔ کچھ لوگ علمائے حق ہوتے ہیں اور کچھ علمائے سُو۔ ان کی پہچان نہایت آسان ہے، جو ہماری طرح حق کو پہچانتے ہیں وہ علمائے حق ہیں۔ جب یہ علمائے حق ایک حکمران کا انتخاب کر لیں تو اس کے بعد عوام کو اس کی بیعت کا حکم دیا جائے اور جو نہ مانے اسے فساد فی الارض کا مرتکب جانتے ہوئے اس کا سر تن سے جدا کر دیا جائے۔ بلاشبہ فتنہ قتل سے بڑا جرم ہے۔

لبرل یہ چاہتے ہیں کہ قانون سب انسانوں کو برابر سمجھے۔ ایک برگزیدہ شخص اور ایک گنہگار کیسے ایک برابر ہو سکتے ہیں؟ کیا یہ بات مناسب ہے کہ ایک صالح اور ایک لبرل کو قانون ایک ہی نگاہ سے دیکھے؟ کیا ان دونوں کی گواہی کا ایک ہی وزن لیا جائے گا؟ ہرگز نہیں۔ ہم ایسا اندھیر نہیں مچنے دیں گے۔

برابری کی بات چلی ہے تو عورتوں کا معاملہ بھی دیکھ لیں۔ لبرل چاہتے ہیں کہ عورتوں کو مردوں ہی کی طرح تعلیم پانے اور کام کاج کرنے کی کھلی آزادی دے دی جائے۔ جو مرد تعلیم پاتے ہیں ان کا حال ہم دیکھ چکے ہیں کہ وہ لہو و لعب کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ کیا ہم عورتوں کا بھی وہی حال کرنا چاہتے ہیں؟ مغرب کی اندھی پیروی کرنے کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ عورت گھر میں بیٹھ کر بچے پالنے کی بجائے مردوں سے برابری کی سطح پر بات کرنے لگیں گی۔ مرد اس کی ذرا سی تادیب کرے گا اور سمجھانے کی خاطر ہلکا سا تشدد کر دے گا تو یہ کھٹ سے جا کر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دے گی اور خلع مانگے گی۔ عورتیں بھی مادر پدر آزاد ہو جائیں گی۔ مرد اور عورت کا ربط بڑھے گا تو بے راہ روی پھیلے گی اور یہ لڑکیاں اپنی مرضی سے شادی کرنے لگیں گی اور مردوں کی غیرت کا جنازہ نکال دیں گی۔ لبرلوں کی ایسی روایات ہماری غیرت کو گوارا نہیں ہیں۔ عورتیں ناقص العقل ہوتی ہیں اور ان کا برا بھلا ان کے باپ بھائیوں سے بہتر کوئی دوسرا نہیں جانتا ہے۔ انہوں نے کیا پہننا اوڑھنا ہے، کیا کھانا پینا ہے، کیسے زندگی بسر کرنی ہے، یہ سب سوچنے کی نہ انہیں ضرورت ہے اور نہی ہی اجازت کیونکہ یہ ہماری روایات کے خلاف ہے۔

لبرلوں کا ایک مطالبہ آزادی اظہار کے حق کا بھی ہے۔ یہ بات تسلیم کہ آئین میں کمزوری کی وجہ سے ایسی کچھ شقیں شامل ہیں جو آزادی اظہار کو شہریوں کا ایک بنیادی حق بتاتی ہیں مگر اس کمی کو چند دوسری شقیں دور کر دیتی ہیں۔ اگر عالم اور جاہل کی تفریق کیے بغیر ہر ایک کو اپنی بات کہنے کا حق دے دیا گیا تو معاشرے میں کیا کیا فساد برپا نہیں ہو گا؟ کیا ہم علمائے سُو، یہود و ہنود کے ایجنٹوں، غیر ملکی ایجنڈے پر چلنے والوں، بلاتفریق عقیدہ سب کی برابری کی بات کرنے والوں، بھارت اور امریکہ سے دوستی کرنے والوں، اور طے شدہ امور کو چھیڑنے والوں کو معاشرے میں انتشار پھیلانے کی اجازت دے سکتے ہیں؟ کیا ہمیں یہ علم نہیں ہے کہ یہ فکری گمراہی کی دہشت گردی، بارودی دہشت گردی سے کہیں بڑی دہشت گردی ہے؟ ایسی بات نہیں ہے کہ ہم آزادی اظہار کے حق کی حمایت نہیں کرتے ہیں مگر یہ حق حدود و قیود کے اندر رہ کر دیا جانا چاہیے۔ صرف حکومت کے منتخب کردہ برگزیدہ لوگوں کو ہی آزادی اظہار کی اجازت دی جانی چاہیے اور ایسا ہرگز نہ ہو کہ ہر ایرا غیر جو منہ میں آئے بول دے۔

اسی حیلے سے لبرل افراد بھارتی اور مغربی ٹی وی چینل بھی پاکستان میں عام کرنا چاہتے ہیں۔ ٹی وی ویسے تو حرام رہا ہے، مگر اب چونکہ علما بھی اس کا استعمال کرنے لگے ہیں تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسے لبرلوں کے کنٹرول میں جانے سے روک دیا جائے تو اس کا خیر اس کے شر سے بڑھ کر ہے اور اس صورت میں یہ مباح ہے۔ مگر یہ بات ضروری ہے کہ عوام ہر پروگرام مت دیکھیں تاکہ ہماری روایات کو نقصان نہ پہنچے۔ حکومت کو کیبل وغیرہ پر کنٹرول کرنے کے علاوہ سیٹلائٹ چینل کو بھی ملکی قوانین کی پاسداری پر مجبور کرنا چاہیے اور بلا اجازت کوئی سیٹلائٹ اگر پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہو تو پاک فضائیہ کو حکم دے کر ایف سولہ ہوائی جہازوں کے ذریعے اسے گرا دینا چاہیے۔ اس طرح ہم یہودی اور بھارتی میڈیا کی یلغار سے محفوظ ہو سکتے ہیں۔

لبرل یہ مطالبہ بھی کرتے ہیں کہ غیر مسلموں کو بھی انسان سمجھا جائے اور جیسا کہ آئین وعدہ کرتا ہے، ان کو بھی وہی حقوق دیے جائیں جو کہ مسلمانوں کو حاصل ہیں۔ یہ مضحکہ خیز مطالبہ ہے۔ جب ہم غیر مسلموں سے امتیازی سلوک کر کے ان کو عام مسلمانوں سے زیادہ حقوق دے رہے ہیں تو پھر اس مطالبے کی کیا تک بنتی ہے؟ ایسے کئی شعبے ہیں جن میں سرکاری ملازمت کی اہلیت ہی یہ رکھی گئی ہے کہ ان کے لئے صرف غیر مسلم ہی درخواست دے سکتے ہیں۔ آپ کو ہماری بات پر اعتبار نہیں ہے تو اپنے علاقے کے کسی خاکروب سے بھی اس کی تصدیق کر لیں۔ یہ مطالبہ صرف ملک میں بد امنی پھیلانے کی نیت سے کیا جاتا ہے۔ صدر اور وزیراعظم کے علاوہ ہر ملکی عہدے پر کسی بھی غیر مسلم کو تعینات کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ عہدہ حساس نہ ہو ورنہ ایسا شخص اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذہب کے لوگوں کی حکومت تک قائم کر سکتا ہے۔ بندہ بشر ہے، کسی کی نیت بگڑے بھلا کتنی دیر لگتی ہے؟

جہاں تک لبرلوں کے اس مطالبے کا تعلق ہے کہ معاشرے میں رواداری پیدا کی جائے، تو بھلا ہم سے زیادہ روادار کون ہے؟ ہم تو دہشت گردوں کے بچوں کو بھی تعلیم دے کر دہشت گردوں کو قومی دھارے میں لانا چاہتے ہیں۔ مگر یہ فکری دہشت گرد لبرل اس ملک سے چلیں جائیں تو ان کے حق میں بہتر ہو گا کیونکہ رواداری کی بھی حد ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar