چین، پاکستان اور افغانستان مذاکرات۔ ایک نئی راہ کی تلاش


حالیہ دنوں میں پاکستان افغانستان اور چین کے درمیان کئی بار مشاورتی بیٹھکیں ہو چکی ہیں اور کئی اہم معاملات پر اتفاق رائے بھی حاصل ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کا جغرافیہ اسے خطے میں ایک اہم مقام دیتا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے کہ اسی جغرافیے کی وجہ سے افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ کی صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔ موجودہ افغان عبوری حکومت کے اپنے قیام کے اعلان کے بعد سے کئی ایسے اہم معاملات ہیں جن میں ماضی کے مقابلے میں افغان حکومت کے رویے میں کافی سمجھداری نظر آتی ہے لیکن دنیا کی نظریں اب اس خطے پر یوں زیادہ ہوں گی کہ امریکی موجودگی کے کسی نہ کسی احساس کے ساتھ کیا افغان عبوری حکومت خطے کی بدلتی سیاسی صورتحال میں وہ فیصلے کر سکے گی جس کا فائدہ افغان باشندوں کو ہو؟ اپریل 2025 میں، پاکستان، چین اور افغانستان کے درمیان سہ فریقی مذاکرات کا ایک اہم سلسلہ جاری رہا جس میں افغانستان کے چین پاکستان اقتصادی راہداری میں شامل ہونے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔ یہ مذاکرات اس لحاظ سے اہم ہیں کہ افغانستان، جو وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے درمیان ایک جغرافیائی پل کی حیثیت رکھتا ہے، اگر سی پیک میں شامل ہو جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے کی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ چین کے ”بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا دائرہ کار بھی وسیع ہو گا۔

اکیس مئی کو، کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی مرکزی کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اور وزیر خارجہ وانگ ای نے بیجنگ میں چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کی غیر رسمی ملاقات کی صدارت کی، جس میں پاکستانی نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، اور افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ امیر متقی نے شرکت کی۔ تینوں وزرائے خارجہ نے چین، افغانستان اور پاکستان کے سہ فریقی مذاکرات کے نتائج کو سراہا اور باہمی تعاون کو آگے بڑھانے کے بارے میں گہرائی سے تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس کے نتائج میں سات کلیدی نکات شامل رہے : پہلا، سیاسی باہمی اعتماد کو بڑھانا اور ہمسایوں کے ساتھ دوستانہ رویہ برقرار رکھنا۔ دوسرا، چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے مذاکراتی میکنزم کے کردار کو بڑھانا۔ تیسرا، باہمی قریبی رابطے کو بڑھانا اور سفارتی تعلقات کو مضبوط کرنا۔ چوتھا، بیلٹ اینڈ روڈ کی مشترکہ تعمیر میں گہرائی سے تعاون کو بڑھانا، چین  پاک اقتصادی راہداری کو افغانستان کی جانب وسعت دینا۔ پانچواں، عملی تعاون کے شعبوں کو بڑھانا اور تعاون کی سطح کو بلند کرنا۔ چھٹا، دہشت گردی کی تمام صورتوں کی مخالفت کرنا، قانون نافذ کرنے والے اور سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا اور ساتواں، خطے میں امن و استحکام کا تحفظ، اور ترقی کی ترویج کے لیے ایک مثبت بیرونی ماحول تشکیل دینے کی کوشش کرنا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک ٹرانزٹ ہب کی حیثیت سے افغانستان پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تجارتی راستے کو مختصر کر سکتا ہے، جس سے وقت اور لاگت پر اثر پڑے گا۔ سی پیک کا حصہ بننے میں اور دنیا کے اس سب سے بڑے مواصلاتی منصوبے کا حصہ بننے سے افغانستان کے لئے کئی اور اہم مواقع بھی میسر آئیں گے۔ افغانستان میں سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور لیتھیم، تانبا اور دیگر نایاب معدنیات کے و سییع ذخائر میں سرمایہ کاری افغانستان کی مستقبل کی راہ کا بہتر تعین کر سکتی ہے۔ کئی دہائیوں سے جنگ کی حالت میں ہونے کی وجہ سے کچھ اہم شہروں کے علاوہ افغانستان میں انفرا اسٹرکچر کی تباہی سے یہاں کے باشندوں کو اچھی اور صاف ستھری زندگی میسر نہیں۔ ایسے میں توانائی اور انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں سمیت سڑکیں اور ریلوے کے منصوبوں سے افغانستان کے معاشی حالات میں بہتری کی خاصی بہتر صورت نکل سکتی ہے جس کا طویل مدتی فائدہ افغانی عوام کو ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے حوالے سے افغانستان کی جغرافیائی حیثیت کی بات کی جائے تو افغانستان چین کو ایران اور وسطی ایشیا سے جوڑتا ہے، جو چین کے لیے انرجی سیکورٹی اور نیا تجارتی راستہ بن سکتا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو سی پیک کا مرکز ہوتے ہوئے پاکستان افغانستان کو سی پیک سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، خاص طور پر گوادر پورٹ کے ذریعے افغانستان کو بین الاقوامی تجارت تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے لیکن اس سلسلے میں جو سب سے اہم معاملہ ہے وہ سکیورٹی خدشات ہیں۔ حالیہ کچھ عرصے میں پاکستان کئی بار افغان عبوری حکومت کو یہ نشاندہی کر وا چکا ہے کہ پاکستان میں تحریک طالبان پاکستان کی مختلف کارروائیوں کے تانے بانے افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی حکام سے ملتے ہیں جس کے لئے افغانستان کی عبوری حکومت کو فیصلہ کن اقدامات اختیار کرنے ہوں گے تا کہ ان کی سر زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ امن کے قیام کی افغان حکومت کی پالیسی اگر کارگر نہ ہوئی تو افغانستان کے اپنے امن سمیت کسی بھی بیرونی اور بڑے منصوبے کے کامیاب ہونے کے امکانات اس کے آغاز ہونے کے امکانات پر ہی ختم ہو جائیں گے جو ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو گا۔

طالبان حکومت کی بین الاقوامی تسلیم شدگی کا فقدان بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ بیشتر ممالک طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی معاہدے مشکل ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ نئی عبوری حکومت کو تسلیم نہ کرنے اور خاص طور پر خواتین کے امور میں اندرونی افغان پالیسیوں کی وجہ سے بین الاقوامی پابندیاں اور زرِمبادلہ کے بحران کی وجہ سے بڑے منصوبوں کے لیے فنڈنگ میں بھی مشکل ہو سکتی ہے۔

اس صورتحال مین ایک صورت اور بن سکتی ہے اور وہ ہو گی جزوی شمولیت جس میں افغانستان کو سی پیک کے کچھ محدود منصوبوں میں شامل کیا جا سکتا ہے، جیسے کابل پشاور ہائی وے کو سی پیک سے جوڑنا۔ افغانستان چین ریلوے لنک پر کام شروع کرنا، اور توانائی کے منصوبوں کا آغاز۔ اس صورتحال میں بھی جو اقدامات اور صورتحال ممکنات کی جانب لے جا سکتی ہے وہ طالبان حکومت کا بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون، دہشت گردی پر کنٹرول اور چین اور پاکستان کی طرف سے مالی اور تکنیکی تعاون میں اپنی ذمہ داریوں کا مکمل ادا کرنا ہو گا۔ اگر یہ صورت کامیاب ہوتی ہے تو مستقبل میں اس بات کے امکانات بڑھ سکتے ہیں کہ افغانستان مکمل طور پر سی پیک کا حصہ بنے اور یوں اس کی ترقی کا راستہ اس کے عوام کی جانب کھلے اور پورے خطے کے لیے ترقی کا نیا دروازہ بھی کھل جائے۔

Facebook Comments HS