پاک فوج ریاست کا حصّہ یا ریاست؟
پاک بھارت جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد آرمی چیف عاصم منیر ایوب خان کے بعد فیلڈ مارشل کا خطاب حاصل کرنے والے دوسرے آرمی چیف ہیں۔ جنگ کے بعد بلاشبہ پاک فوج نے اپنا کھویا ہوا وقار حاصل کر لیا۔ جو کہانیاں 1965 کی جنگ کے متعلق ہم اپنے بزرگوں سے سنتے تھے اس کی ایک جھلک ایک مرتبہ پھر دیکھنے کو ملی۔ پاک فضائیہ کے جو کارنامے 65 کی جنگ میں سننے کو ملتے تھے آج پھر ان کی یاد تازہ ہوئی۔ اس ضمن میں کئی روشن خیال لوگوں کا زاوایۂ نظر فوج کی جانب بدلا جیسے ہی ان کو ایک غیر معمولی ماحول میں غور و فکر کرنے کا موقع ملا۔ لیکن کئی لوگ آج بھی عوام کی فوج سے محبت اور عزت کے تعلق کو ان کی کم علمی اور جذباتیت خیال کرتے ہیں لیکن میرے نزدیک اس کا نفسیاتی حوالوں سے بغور مطالعہ کیا جانا چاہیے کہ آیا عوام کا پاک فوج سے احترام کا تعلق جذباتی بنیاد پر ہے یا منطقی اور نفسیاتی عوامل بھی اس میں کارفرما ہیں؟ ہمارے لوگوں کا یہ مسئلہ ہے کہ وہ مغربی فلسفوں کی چکا چوند اور چمکدار انگریزی کی لفاظی سے مانوس ہو کر اس کو اپنے حالات کے متعلق قیاس آرائیوں اور تجزیے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر بہت آسانی کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ جس طرح تاریخ انسانی میں بیانیوں کے ذریعے حکومتیں عوام میں اپنی شہرت اور عزت پیدا کرتی رہی ہیں بالکل اسی طرز پر ہماری فوج جنگ اور جنگی ماحول کے ذریعے عوام میں اپنا مقام بنائے رکھتے ہیں اور اپنی ضرورت کا احساس بھی اجاگر کرتے رہتے ہیں جیسا کہ عام طور پر نظریہ ضرورت کا کافی چرچا کیا جاتا ہے۔ لیکن پاک فوج کی عزت اور اس کی ضرورت کی یہ وجہ کلی طور پر درست نہیں۔ اس میں مزید کئی عوامل بھی شامل ہیں۔ پاک فوج ہمیشہ سے غریب، کمزور، پسے ہوئے طبقے کی امید رہی ہے۔ جب دھتکارے ہوئے لوگ طاقتوروں کے سامنے خود کو بے بس محسوس کرتے ہیں تو ان کو انصاف کی امید فوج سے ہوتی ہے کیونکہ فوج اس ملک کا سب سے طاقتور اور با اختیار ادارہ ہے جس کے متعلق جمہوریت کا لبادہ اوڑھے وڈیرہ مائنڈ سیٹ والے سیاستدان شکوہ کرتے نظر آتے ہیں جن کے پاس دہائیوں سے اپنے علاقوں میں حکومت ہے لیکن وہاں وہ انصاف کا خاطر خواہ نظام قائم نہیں کرسکے اور بھلا کیوں کریں گے کیونکہ اگر کوئی ایسا نظام قائم ہو گیا تو اس کا شکار سب سے پہلے یہی جمہوریت کے دلدادہ ہوں گے۔
پچھلے دنوں ایک مفلس اور حالات سے شکست خوردہ لڑکی کی ویڈیو نظر آئی جس میں وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے اپنے گاؤں کے وڈیرے کے خلاف شکایت کرتی نظر آ رہی ہے۔ بہرحال، بچی کی ویڈیو بنانے کی حکمت سمجھ نہیں آتی لیکن اس بچی کو انصاف کی امید کسی سے نہیں تھی اور ہمیں بھی انصاف کی خدا کے سوا کسی سے امید نہیں لیکن اگر زمین پر انصاف قائم کرنے کی امید کسی سے ہے تو عام لوگوں کے ذہنوں کا رخ فوج کی جانب ہوتا ہے۔ میرا مقصد فوج کی تعریف ہرگز نہیں لیکن اگر معاشرے میں ایک کمزور انسان کی نفسیات کے ذریعے حالات کا تجزیہ کیا جائے تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ کیوں پاکستان کی تاریخ میں عوام فوج کے حکومت میں آنے پر مٹھائیاں بانٹتے تھے۔ جیسا کہ ہمارے صادق اور امین لیڈر بھی بڑھ چڑھ کر یہ بات کرتے تھے۔ ہمارے ہاں فوج سب سے طاقتور ہے ہر قسم کے ان طاقتوروں سے زیادہ جو لوگوں کی زندگیوں کو اجیرن کرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ راجن پور میں چھوٹو گینگ پولیس کے قابو نہیں آ رہا تھا لیکن فوج نے با آسانی استحصالی ٹولے کو دھول چٹا دی۔ حیرانی تب ہوئی جب پچھلے سال فوج نے پولیس والوں پر تشدد کیا اور عوام نے اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس سے ہمارے پسے ہوئے لوگوں کی نفسیات کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہم اپنی فوج کا کردار قومی ریاستوں کے نقطۂ نظر سے جانچتے ہیں جہاں فوج کا کام محض معاہداتی طور پر دفاع تک محدود ہے۔ ہم اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ ہمارے ہاں بھی کوئی معاہدہ ہوا ہے جس کے ذریعے کوئی قومی ریاست وجود میں آئی۔ بلاشبہ ایسا ہوا لیکن شعوری طور پر نہیں اور محض کاغذی طور پر، سونے پر سہاگا یہ کہ یہ نظام برطانوی اور استعماری طرز پر مرتب کیا گیا ہے اور اس کا ہمارے خطے اور یہاں سے منسلک مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ اس کے بیشتر قانون صرف برطانوی کالونی کی میراث ہے۔
عمرانی معاہدہ شعوری طور پر لوگوں کے ذریعے ان ہی کے درمیان ہوتا ہے اور ضروری نہیں کہ یہ ایک مسودے کی صورت میں ہی موجود ہو۔ جان لاک کے نظریۂ ریاست کے مطابق ریاست تب قائم ہوتی ہے جب لوگ اپنے تمام اختیارات اور اپنی تمام آزادی اور طاقت اپنے سے بڑی ایک اتھارٹی کے حوالے کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم اس اتھارٹی کی جانب سے منظم اور پابند کیے جاتے ہیں اور ایسا اس لئے ممکن ہوتا ہے کہ ہم نے شعوری طور پر مقتدر اتھارٹی کو اپنے تمام اختیارات دیے ہوتے ہیں۔ اس لئے زمین پر سب سے زیادہ طاقت کی حامل وہی اتھارٹی ہوتی ہے۔ ہماری فوج کے پاس جو طاقت ہے وہ برطانوی طرز پر تشکیل کردہ آئین فراہم نہیں کرتا، یہ طاقت لوگوں کی جانب سے عطا کی گئی ہے۔ ہماری فوج بذات خود ایک ریاست ہے اور یہ خصوصی طور پر کسی ریاست کا حصہ نہیں۔ اگر ہم اس بات کو سمجھیں تو بلاوجہ فوج پر تنقید نہیں کریں گے اور قومی ریاستوں کے تناظر میں تنگ نظری سے اس کے بے جا اختیارات پر سوال بھی نہیں اٹھائیں گے۔ ہماری فوج میں بھرتی ہونے والے اور بڑے عہدوں پر فائز ہونے والے لوگ زیادہ تر گاؤں کے چھوٹے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ اپنی ذاتی من مانی کی بنیاد پر فوج کے اختیارات میں اضافہ نہیں کرتے جیسے ہمارے ہاں ذاتی مفاد کی خاطر وزیر اعظم کی مدت دو سے تین سال کرنے کے لئے آئین میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ فوج کا اپنا ایک ضابطہ اور نظام ہے جس کے خلاف کوئی نہیں جا سکتا اور فوج کا کوئی پسندیدہ نہیں ہوتا اور ہر کوئی قانون کے دائرہ کار میں ہوتا ہے۔ اور یہی ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ قانون کے دائرہ کار میں سب کو شامل کرے اور کسی کو بھی ریاست سے زیادہ طاقت حاصل نہ کرنے دے۔ ہمارے ہاں کچھ لوگ فوج کی بہت تعریف کرتے تھے۔ ان کی یہ غلط فہمی تھی کہ وہ فوج کو پولیس کی مانند اپنے ذاتی مفادات کے لئے استعمال کر پائیں گے۔ فوج بھی گھسے پٹے نظام کو چلانے کی خاطر ہاں میں ہاں ملاتی گئی لیکن جب نظام غیر فعال ہونے لگا تو پھر جان چھڑانا ضروری ہو گیا۔ ان لوگوں کی فوج سے اصل ناراضگی کی وجہ یہی ہے کہ وہ ریاست کی ذمہ داری احسن طریقے سے سر انجام کیوں دے رہے ہیں طاقتور کو تقویت کیوں نہیں بخشتے اور کمزور کا استحصال کیوں نہیں کرتے، مختصر یہ کہ ایک نظم کیوں ہے فوج میں اور ہماری مرضی کے مطابق کیوں نہیں چلتے؟ 9 مئی کے مجرموں کی رعونت اب یقینی طور پر ختم ہو جائے گی جو لاقانونیت کے عادی تھے اور قانون کی عدم موجودگی میں موج کرتے رہے۔ انھیں سمجھ آ جائے گی کہ نظم کیا ہوتا ہے اور قانون کے ماتحت ہونے سے کیا مراد ہے۔ ہمارے لوگ وڈیرہ مائنڈ سیٹ کے حامل ہیں جو طاقت کے استعمال اور کمزور کو دبانے کی بات کرتے ہیں۔ قانون سے ناواقف ہیں۔ ان کو قانون کا عادی بنانا بہت ضروری ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ جیسے یہ ہر جگہ بدمزگی مچاتے ہیں اور قانون کی عدم موجودگی کی بدولت ان کی گوشمالی نہیں ہوتی بالکل اسی طرح سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے بعد اور شہر میں انتشار پھیلانے پر بھی کوئی رد عمل نہیں آئے گا اور یہ آوارہ ذہن کے لوگ اسی طرح معاشرے پر اپنی ہیبت قائم رکھیں گے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا فوج کے پاس سب سے زیادہ طاقت زبردستی اور بیانیے کی بنیاد پر ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ طاقت مکمل طور پر ختم بھی ہو جاتی کیونکہ زور کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی طاقت بالآخر ختم ہوجاتی ہے۔ ریاست لوگوں کی مرضی سے قائم ہوتی ہے۔ کیا ہماری جمہوری ریاست عام لوگوں کی مرضی سے تشکیل پائی؟ کیا ہماری جمہوری ریاست لوگوں کو حقوق فراہم کرنے اور ان کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہو پائی؟ اس کا جواب نفی میں ہے لیکن فوج اس حوالے سے کامیاب ضرور ہوئی ہے خواہ اندرونی حوالوں سے یا بیرونی حوالوں سے۔
ہماری جمہوری ریاست کمزور ہے اور وہ طاقتوروں کو قانون کے دائرہ کار میں لانے میں ناکام رہی ہے بلکہ اس کا استعمال طاقتوروں کی جانب سے کیا جاتا ہے لیکن فوج کے حوالے سے معاملہ مختلف ہے اور جیسا کہ اب نظر آ بھی رہا ہے۔ فوج اپنے لوگوں کا خوب احتساب کرتی ہے تو پھر طاقتور کس کھیت کی مولی ہے۔ اگر ہماری جمہوری ریاست کمزور ہے اس کا یہ مطلب ہے کہ وہ لوگوں کی جانب سے قائم ہی نہیں کی گئی کیونکہ جب ریاست لوگوں کی جانب سے قائم کی جاتی ہے تو ریاست سب سے طاقتور ہوتی ہے اور کوئی اس سے زیادہ طاقت کا حامل نہیں ہوتا لیکن جب کوئی ریاست کے قانون سے بالاتر ہو تو وہ جو چاہے کر سکتا ہے بلکہ وہ بذات خود ایک ریاست ہوتا ہے۔ فوج میں ہمیں ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ ہمارے سابقہ ہینڈسم وزیر اعظم بھی خود کو ریاست کے ماتحت خیال نہیں کرتے تھے بلکہ خود کو ریاست سے زیادہ اہم سمجھتے تھے بلکہ ان کے جیالوں نے ببانگ دہل کہا خان نہیں تو پاکستان نہیں۔ یہ ہمارا جمہوری نظام ہے، ایسے نظام کا کیا فائدہ جو لوگوں کو انصاف نہ دلوا سکے اور جو کمزور عوام سے زیادہ کمزور اور ان کی پیچیدہ زندگیوں سے زیادہ پیچیدہ ہو۔ سوال یہ بنتا ہے کہ فوج اس کمزور ریاست کا حصہ ہے یا لوگوں کی تسلیم شدہ ایک الگ ریاست ہے جو کہ کمزور اور بانجھ جمہوری نظام سے بندھی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں اس کو غلط العام جمہوری ریاست کا ایک محدود ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ فوج ایک ریاست ہے جس کا عسکری پہلو ہمیں نظر آتا ہے۔ اس ریاست نے کئی ذمہ داریاں سنبھالی ہوئی ہیں اور کئی مواقعوں پر اپنے لوگوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے سامنے آئی ہے جیسے سیلاب زدگان کی مدد یا چئیرلفٹ میں پھنسے شہریوں کی خاطر ریسکیو آپریشن اور چھوٹو گینگ سے بھی فوج نے عوام کی حفاظت کی۔ ان تمام معاملات میں ہماری جمہوری ریاست کے ادارے کہاں تھے اور کیا وہ اس قابل تھے کہ اس قدر قابلیت کے ساتھ ذمہ داری سرانجام دیتے؟ ہمارے ہاں ائر کنڈیشنڈ کمروں میں انگریزی کے چار لفظ بول کر جمہوریت کی تعریف کرنے والوں کا پس منظر اکثر زمین داری سے منسلک ہوتا ہے۔ جبکہ فوج عام لوگوں کی نمائندہ ہے۔ اصل جمہوری نظام وہی ہے جو لوگوں کی مرضی سے قائم کیا جائے نہ کہ کچھ طاقتوروں کی ایما پر مرتب کیا جائے۔ آمریت باقاعدہ ایک جمہوری ادارہ رہا ہے جس میں لوگ اپنی مرضی کے مطابق اختیارات ایک اتھارٹی کو مہیا کرتے اور رضامندی سے فیصلہ کرتے کہ وہ ان کے انتظام کے پابند ہوں گے۔ اس حوالے سے روم نمایاں مثال ہے۔ آمریت کو رہنے بھی دیں تو ریاست وہی ہے جو لوگوں کی جانب سے سب سے طاقتور اتھارٹی کی صورت میں قائم کی جائے لیکن اگر اس کے ساتھ ایک کمزور نظام لاد دیا جائے گا تو ریاست اپنی ذمہ داریوں کو انجام نہیں دے پائے گی اور اگر کوشش کرے گی تو اس کو مداخلت خیال کیا جائے گا۔ ہمارے ہاں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ہماری جمہوری ریاست کمزور کیوں ہے اور فوج مداخلت کیوں کرتی ہے۔ ہمارے ہاں کئی دہائیوں سے کمزور اور ایک مضبوط ریاست کے درمیان چپقلش رہی ہے لیکن لوگ اب اس نظام سے نا امید ہو گئے ہیں اور انھیں معلوم ہے کہ جو ریاست ان کی مرضی سے قائم نہیں کی گئی جس کا وہ حصہ نہیں بن سکتے وہ انصاف فراہم کرنے میں کس قدر معاون ثابت ہو سکتی ہے بہ نسبت اس نظام کے جس کا حصہ بننے کے لئے ان کو کروڑوں روپیہ خرچ کرنے اور اپنی ہیبت قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ اگر فوج کا ہمارے خطے میں کردار سمجھنا ہے تو تاریخ کے پنے الٹائیں اور ذرا دیکھیں کہ فوج پاکستانی ریاست کے قائم ہونے کے بعد وجود میں آئی یا اس کا اثر و رسوخ انگریزوں سے بھی پہلے کا ہے۔ لیکن ایک بات ہے اگر فوج ہماری جہموری ریاست کی پیداوار ہوتی تو وہ اس قدر مضبوط نہ ہوتی نہ اس میں اتنا نظم ہوتا۔ یقینی طور پر یہ معمہ دلچسپ ہے۔


