آخر کب تک؟


اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں 22.8 ملین کی تعداد میں بچے سکول نہیں جا پاتے جن میں سے جن میں سے 12 ملین کی تعداد تو صرف بچیوں کی ہے۔ مگر اس کا ذمہ دار کون؟

افسوس ناک امر یہ ہے کہ امتحانی مراکز بھی خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔ امتحان میں کامیابی کے لیے ناجائز ذرائع استعمال کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں اور دیہات میں یہ وبا اس قدر پھیل چکی ہے کہ والدین خود امتحانی مراکز میں اساتذہ سے جا کر کہتے ہیں کہ ہمارے بچے کو نقل کروا کر پاس کروا دیا جائے۔ نقل کے رجحان کا سبب والدین کی طرف سے بہترین گریڈ اور نمایاں کامیابی کا دباؤ تصور کیا جاتا ہے۔ والدین کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ سارا سال ان کے بچے کتابوں کو کتنا وقت دیتے ہیں بلکہ امتحانات آتے ہیں وہ ان کے اعصاب پر سوار ہو جاتے ہیں اور ان کی ذہنی تناؤ کو اور بڑھا دیتے ہیں مگر سب خاموش ہیں۔

آخر کب تک ہم افسران کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے کی بجائے ان کی ناحق تلفیوں کو برداشت کرتے رہیں گے جنہوں نے غریبوں کے لیے سوائے خدا کے کچھ نہیں چھوڑا۔

روٹی امیر شہر کے کتوں نے چھین لی، فاقہ غریب شہر کے بچوں میں بٹ گیا، چہرہ بتا رہا تھا اسے مارا ہے بھوک، نے حاکم نے یہ کہا کہ ”کچھ کھا کے مر گیا۔

آخر کب تک غریب کیڑے مکوڑوں کی طرح مسل دیے جاتے رہیں گے؟ آخر کب تک جہیز کی لعنت معاشرے میں کینسر کی طرح پھیلتی رہے گی؟ آخر کب تک اس کی وجہ سے لاکھوں بیٹیوں کی آنکھوں میں بسے رنگین خواب ٹوٹتے رہیں گے؟ آخر کب تک بنی

نوں انسان کی زندگی بدتر رہے گی۔ غریب کے لیے تعلیم حاصل کرنا تو بہت دور کی بات ہے اس مہنگائی کے دور میں اگر اسے دو وقت کی روٹی بھی مل جائے تو یہ بھی غنیمت ہے۔ اور اگر غریب کے گھر کا کوئی فرد بیمار ہو جائے تو اس کا علاج کروانا اس کے لیے ناممکن ہوتا ہے ہسپتال تک جانے کا کرایہ نہیں اور علاج کے لیے مہنگی ادویات جو کہ اس کی پہنچ سے کوسوں دور ہوتی ہیں۔ حکومت کی طرف سے بنائے گئے سرکاری ہسپتالوں میں مریض کے ساتھ جو بھیڑ بکری جیسا سلوک کیا جاتا ہے اس سے میں اور آپ بخوبی واقف ہیں۔ ہسپتالوں میں بھی عوام کے ساتھ امیری اور غریبی کے بنیاد پر امتیازی سلوک برتا جاتا ہے غریب اگر کسی بیماری میں مبتلا ہو جائے تو اس کے پاس صرف موت کا ہی آپشن بچتا ہے آپ نے اور میں نے دیکھا ہو گا ہسپتالوں کے باہر سیریس حالت میں مریض زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے لیکن کوئی پاس سے گزرتا ڈاکٹر بھی چیک نہیں کرتا کیونکہ اس کے پاس کسی سرجن کی تگڑی سفارش نہیں ہوتی اور علاج کے لیے پیسے نہیں ہوتے علاج کی عدم فراہمی کی وجہ سے غریب انسان صحت جیسی عظیم نعمت سے محروم ہے اور تیسرا بچہ نگہداشت نہ ملنے کے باعث سات سال کی عمر سے پہلے زندگی کی بازی ہار جاتا ہے۔

ہر سال 97 سو خواتین زچگی کے دوران موت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ہماری کل آبادی میں چھ کروڑ سے زائد لوگ غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اور اس کی سب سے بڑی وجہ بے روزگاری ہے بے روزگاری قانون کا احترام کرنے والے اچھے شہریوں کو مجرم اور ڈاکو بنا دیتی ہے۔ اس سے بدعنوانی پھیلتی اور جھوٹ بڑھتا ہے اور انسانی کردار کا تاریک پہلو سامنے آتا ہے۔ بے روزگار آدمی سے سچائی شرافت ایمانداری کی توقع نہیں کی جا سکتی ہے۔ جو اپنے بچوں کے لیے دو وقت کا کھانا اور بیماری میں دوائی میسر نہیں کر سکتا تو اسے اچھے امور توقع کرنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے اسے عزت کی زندگی سے جینا محال ہو جاتا ہے۔ ایک کسان جو سیدھا ہو کر اپنی زمین پر ہل چلاتا ہے وہ اس شریف آدمی سے بہتر ہے جو مجبوری کی خاطر جھکا ہوا ہے۔ غربت اور بے روزگاری ریاست کی بڑی کمزوری اور نا اہلی مانی جاتی ہے۔ اور اس سے بے اطمینانی پیدا ہوتی ہے۔ بے اطمینانی سے سیاسی بے چینی اور حکومت کی عطا سے انحراف کے جذبات ابھرتے ہیں۔ سیاسی نفرت سے بغاوت جنم لیتی ہے اور پھر بغاوت انقلاب کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہے۔ اور غریب طبقہ امیر طبقوں کی طرح تھوڑی ہے کہ جہاں اگر باپ سرکاری افسر ہے تو بیٹا بغیر پڑھے افسر ہی بنے گا۔ حکومت کا فرض ہے کہ بے روزگاری کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔ وجہ یا عوامل کچھ بھی ہو مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے لوگ اپنے زندگی گھسیٹ رہے ہیں۔ یہ حکومت کا کام ہے کہ صحت سے متعلق تمام سہولیات عوام کو فراہم کرے جس کا حق عوام کو پاکستان کا آئین بھی دیتا ہے صحت کی ناقص صورتحال عوام کو کب تک سہنا پڑیں گی۔ اگر آج ہم اس بے بسی بے روحی اپنی ذہنی اور جسمانی غلامی ہوس اور حیف غربت اور افلاس کی قید سے رہائی چاہتے ہیں تو مجھے اور آپ کو اور اس ملک میں بیٹھے ہر شخص کو اس تکبر اور شیطانیت سے بھرے دور کے خلاف بھرپور بغاوت کرنا ہو گی۔

Facebook Comments HS