پاک بھارت تنازع کے تناظر میں، تاریخ، سیاست، دفاع اور قومی یکجہتی


حالیہ پاک۔ بھارت تنازع، جو مئی 2025 ء میں بھارت کے میزائل حملوں سے شروع ہوا، نے پاکستان کی عسکری طاقت اور قومی اتحاد کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔ بھارت نے آپریشن سندور کے نام سے 22 اپریل 2025 ء کو پہلگام حملے کے جواب میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، لیکن پاک فضائیہ اور فوج نے پانچ بھارتی لڑاکا طیاروں کو گرانے سمیت بھرپور جوابی کارروائی کی، جسے آپریشن بنیان مرصوص کا نام دیا گیا۔ اس تنازع نے بھارت کی جنگی صلاحیتوں پر سوالیہ نشان لگایا اور پاک فوج کی دفاعی مضبوطی کو ثابت کیا۔ اس سے ان ناقدین کے منہ بھی بند ہوئے جو فوج پر وسائل ”لوٹنے“ کے الزامات لگاتے تھے۔ پاک فوج نے سرحدوں کی حفاظت کی اور عالمی طاقتوں کے سامنے پاکستان کا موقف مضبوطی سے پیش کیا۔

گزشتہ تین دہائیوں میں سیاسی تقسیم نے پاکستان کو شدید نقصانات پہنچائے۔ 1990 ء کی دہائی سے اقتدار کی رسہ کشی نے معاشی ترقی کو سست کیا۔ نواز شریف ( 1990۔ 1993، 1997۔ 1999، 2013۔ 2017 ) نے معاشی اور دفاعی شعبوں میں اہم اقدامات کیے۔ انہوں نے موٹرویز کے جال سے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کیا اور 1998 ء میں ایٹمی دھماکوں کی منظوری دی، جس سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا۔ نواز شریف نے امریکی صدر بل کلنٹن کی پانچ ارب ڈالر کی پیشکش اور مبینہ طور پر ذاتی اکاؤنٹس میں دس ارب روپے کی خفیہ پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دی، جو ان کی قیادت کا تاریخی فیصلہ تھا۔ ان کے تیسرے دور میں چین۔ پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) نے معاشی امکانات کو وسعت دی، توانائی بحران پر قابو پانے کے منصوبے شروع کیے، اور دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضربِ عضب کو مکمل حمایت دی۔ شہباز شریف ( 2022۔ 2025 ) نے معاشی استحکام کے لیے آئی ایم ایف سے مذاکرات کامیاب بنائے، 2022 ء کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے فنڈز اکٹھے کیے، اور سعودی عرب، ترکی، اور چین سے سفارتی تعلقات مضبوط کیے۔ انہوں نے فوج کی جدید کاری کے لیے بجٹ بڑھایا، جو حالیہ تنازع میں کارآمد ثابت ہوا۔

9/ 11 کے بعد کی پالیسیوں سے ملے جلے نتائج ملے۔ امریکی اتحاد سے مالی امداد ملی، لیکن قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی بڑھی۔ آپریشن ضربِ عضب اور راہِ نجات نے دہشت گردی کو کم کیا، لیکن معاشی وسائل پر دباؤ پڑا۔ نواز شریف نے ان آپریشنز کے لیے سیاسی اور مالی حمایت دی، جبکہ شہباز شریف نے ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو پورا کرنے میں فوج کے ساتھ تعاون کیا۔ یہ پالیسیاں فوج کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں فائدہ مند رہیں، لیکن امریکی انحصار نے خودمختاری پر سوالات اٹھائے۔

تین عشروں میں پاکستان معاشی اور سیاسی طور پر کمزور رہا۔ معاشی بحران اور سیاسی محاذ آرائی نے ترقی کو متاثر کیا۔ نواز شریف نے ٹیکس نظام کی بہتری، نجکاری، اور سی پیک کے ذریعے معاشی اصلاحات متعارف کروائیں، جس سے گوادر بندرگاہ اور توانائی کے منصوبوں کو فروغ ملا۔ شہباز شریف نے زرمبادلہ ذخائر کو مستحکم کیا اور وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت کو بڑھایا۔ ان کے اقدامات نے علاقائی استحکام کو تقویت دی۔

سیاسی تقسیم کے باوجود پاک فوج نے پیشہ ورانہ صلاحیتوں پر توجہ دی۔ آپریشن ضربِ عضب، بلیک تھنڈر اسٹورم، اور راہِ نجات میں کامیابی حاصل کی۔ نواز شریف کی حکومت ( 2013۔ 2017 ) نے ان آپریشنز کو مکمل حمایت دی، جبکہ شہباز شریف نے فوج کی جدید کاری کے لیے وسائل فراہم کیے۔ تحریک انصاف ( 2018۔ 2022 ) نے بھی قومی سلامتی کے ایجنڈے کی حمایت کی۔ فوج نے ڈرونز اور سائبر وارفیئر کو اپنایا، جس سے دفاع ناقابل تسخیر بنا۔

دفاع پاکستان میں نواز شریف نے ایٹمی پروگرام کی تکمیل، سی پیک، اور فوج کے بجٹ میں اضافے کے ذریعے اہم کردار ادا کیا۔ شہباز شریف نے فضائی دفاع اور بحری صلاحیتوں کی جدید کاری کے لیے وسائل مختص کیے اور سفارتی محاذ پر فوج کے موقف کی حمایت کی۔ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے بھی تعاون کیا، لیکن نواز اور شہباز شریف کے اقدامات نمایاں رہے۔

گزشتہ تین دہائیوں کے وزرائے اعظم میں نواز شریف، بے نظیر بھٹو، پرویز مشرف، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، عمران خان، اور شہباز شریف شامل ہیں۔ آرمی چیفس میں جنرل آصف نواز جنجوعہ، وحید کاکڑ، جہانگیر کرامت، پرویز مشرف، اشفاق پرویز کیانی، راحیل شریف، قمر جاوید باجوہ، اور عاصم منیر شامل ہیں۔

ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام، نواز شریف نے ایٹمی دھماکوں اور سی پیک، اور شہباز شریف نے معاشی بحالی اور فوج کی جدید کاری کے ذریعے خدمات انجام دیں۔ آرمی چیفس میں ایوب خان نے صنعتی ترقی، راحیل شریف نے ضربِ عضب، اور عاصم منیر نے حالیہ تنازع میں قیادت کی۔

حالیہ تنازع نے پاک فوج کی طاقت کو ثابت کیا اور ”فوج لوٹ کر کھا گئی“ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا۔ شہباز شریف نے جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کو سراہا، جس میں سعودی عرب، ترکی، اور چین نے بھی کردار ادا کیا۔ تاہم، کچھ حلقوں نے شہباز شریف کے اس بیان پر تنقید کی کہ اس سے پاکستان کی خودمختاری پر سوال اٹھے اور بھارت کے بیانیے کو تقویت ملی۔ نواز شریف نے 1998 ء میں امریکی پیشکش ٹھکرا کر قومی خودمختاری کا مظاہرہ کیا تھا، اور اب شہباز شریف پر امریکی سربراہی میں پاک۔ بھارت تنازعات کے حل کی بھاری ذمہ داری ہے۔ وہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھارت کو تحمل کا مشورہ دینے کی اپیل کر چکے ہیں، اور جنگ بندی کے بعد مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شہباز شریف کی سفارتی کوششیں، خاص طور پر سی پیک کے شراکت دار چین اور اتحادی ممالک کے ساتھ، تنازعات کے حل میں کامیابی کی کلید ہوں گی۔ تاہم، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور مذاکرات سے گریز نے چیلنجز بڑھا دیے ہیں۔ شہباز شریف کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ وہ کس حد تک قومی مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے سفارتی محاذ پر کشمیر سمیت دیگر تنازعات کو حل کر پاتے ہیں۔

پاکستان کی تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ سیاسی تقسیم کے باوجود قومی سلامتی اولین ترجیح ہے۔ نواز شریف، اور شہباز شریف کے اقدامات نے پاکستان کو مضبوط بنایا، لیکن سیاسی اتحاد اور سفارتی حکمت عملی کی ضرورت اب بھی باقی ہے تاکہ پاکستان ہر محاذ پر ترقی کر سکے۔

 

Facebook Comments HS