جرمنی کا حسن ناصر، ارنسٹ تھیلمان
ارنسٹ تھیلمان (Ernst Thälmann) اور حسن ناصر، دو مختلف براعظموں، مختلف تہذیبوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کے فکر و عمل میں ایک ایسی مماثلت تھی جو تاریخ کے اوراق پر ان کے ناموں کو ایک لڑی میں پرو دیتی ہے۔ یہ دونوں انقلابی شخصیات اپنے اپنے وطن کے جبر کے خلاف سینہ سپر ہوئیں، اور اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر آنے والی نسلوں کے لیے مزاحمت کی ایک درخشاں مثال قائم کر گئیں۔ ان دونوں نے جبر کے جس نظام کا سامنا کیا، اس کا چہرہ اگرچہ مختلف تھا، مگر اس کے پنجے ایک جیسے خونخوار تھے۔
ارنسٹ تھیلمان 16 اپریل 1886 کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک محنت کش خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور نوجوانی ہی سے سوشلسٹ نظریات سے وابستہ ہو گئے تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد ، جب جرمنی میں سیاسی انتشار پھیل چکا تھا، ارنسٹ تھیلمان نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی اسے منظم کرنے والوں میں شامل ہو گئے۔ 1925 میں انہیں جرمن کمیونسٹ پارٹی کا سربراہ منتخب کیا گیا، اور انہوں نے پارٹی کو ایک مزاحمتی قوت بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
1933 میں جب ہٹلر کی نازی پارٹی نے اقتدار سنبھالا، تو سب سے پہلے جس چیز کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی وہ سیاسی اختلاف تھا۔ ارنسٹ تھیلمان کو 3 مارچ 1933 کو گرفتار کر لیا گیا اور اگلے گیارہ سال وہ مختلف جیلوں اور عقوبت خانوں میں اذیتیں سہتے رہے۔ نازی حکومت نے ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھا۔ انہیں مسلسل قید تنہائی میں رکھا گیا، جسمانی اور ذہنی اذیت دی گئی، اور ان سے کسی قسم کا رابطہ منقطع رکھا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں کئی بار بھوکا رکھا گیا، انہیں سخت سردی میں بغیر کپڑوں کے رکھا گیا، اور تشدد کے مختلف طریقوں سے ان کی قوتِ ارادی کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ مگر وہ اپنی سوچ اور نظریے پر ڈٹے رہے۔
بالآخر 18 اگست 1944 کو، گیارہ سال قید و بند اور اذیتوں کے بعد ، ہٹلر کے براہِ راست حکم پر، انہیں بخن والڈ کے حراستی کیمپ میں قتل کر دیا گیا۔ ان کی موت کو ایک حادثہ ظاہر کیا گیا، مگر بعد میں یہ ثابت ہوا کہ یہ ایک سوچا سمجھا قتل تھا، تاکہ ایک نظریاتی رہنما کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا جائے۔ ارنسٹ تھیلمان کی شہادت نازی ظلم کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گئی۔
اب اگر نظر ڈالی جائے حسن ناصر کی زندگی پر، تو گویا یہ ارنسٹ تھیلمان کی ہی ایک اور تصویر ہے، جو برصغیر کی سرزمین پر ابھری۔ حسن ناصر 1928 میں حیدرآباد دکن کے ایک ممتاز اشرافیہ کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ یونیورسٹی اور آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ تقسیمِ ہند کے فوراً بعد پاکستان آ گئے اور یہاں کمیونسٹ تحریک کو منظم کرنے میں لگ گئے۔ وہ ایک شعلہ نوا مقرر، ذہین تنظیم کار اور نڈر انقلابی تھے۔
1954 میں جب کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پابندی لگی تو حسن ناصر زیرِ زمین چلے گئے، مگر ان کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ 1958 میں ایوب خان کے مارشل لاء کے دوران انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ ان کی گرفتاری ایک باقاعدہ آپریشن کا حصہ تھی جس کا مقصد بائیں بازو کی تحریک کو جڑ سے اکھاڑنا تھا۔
لاہور کے قلعہ میں قید کے دوران حسن ناصر پر بدترین تشدد کیا گیا۔ انہیں دن رات مارا پیٹا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے، ناخن نوچے گئے، اور زنجیروں میں جکڑ کر لٹکایا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے جسم پر تشدد کے اتنے نشان تھے کہ جب ان کی والدہ نے لاش دیکھی تو پہچان نہ سکیں۔
13 نومبر 1960 کو ان کی موت کی خبر دی گئی، اور سرکاری موقف یہی تھا کہ انہوں نے خودکشی کی۔ مگر ملک بھر میں یہ واضح تھا کہ حسن ناصر کو ریاستی اداروں نے قتل کیا۔ ان کی موت نے پاکستان میں سیاسی مزاحمت کی ایک نئی لہر کو جنم دیا، اور وہ آج بھی ان نوجوانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں جو ظلم و جبر کے خلاف آواز بلند کرتے ہیں۔
ارنسٹ تھیلمان (Ernst Thälmann) اور حسن ناصر دو مختلف زمانوں اور جغرافیوں کے لوگ تھے، مگر ان کے نظریات، ان کی قربانیاں، اور ان کا عزم ایک ہی طرح کا تھا۔ دونوں نے سامراج اور آمریت کے خلاف اپنی زندگیاں قربان کیں، اور اس دنیا کو یہ باور کرایا کہ ظلم کے خلاف مزاحمت، خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو، انسانی تاریخ کا سب سے عظیم فریضہ ہے۔ ان کی قربانیاں یاد دلاتی ہیں کہ سچائی اور انصاف کے لیے جان دینا، تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔




