ملک ریاض حسین، کیسی ہار؟ کیسی جیت؟
ملک ریاض حسین کا نام جب بھی سامنے آتا ہے تو پاکستان میں ترقی، تعمیر، اور شہری سہولیات کا ایک مکمل منظر ذہن میں ابھرتا ہے۔ یہ نام صرف ایک فرد کا نہیں بلکہ ایک پورے ویژن کا ہے۔ بحریہ ٹاؤن ہو یا فلاحی سرگرمیاں، بیماروں کے لیے ہسپتال ہوں یا شہروں کی شکل بدل دینے والے رہائشی منصوبے، ملک ریاض نے جو کچھ کیا، وہ پاکستان میں اس سے پہلے نہ کبھی سوچا گیا تھا اور نہ اس درجے پر عملاً ممکن ہو پایا تھا۔ یہ کہنا ہرگز مبالغہ نہ ہو گا کہ اس شخص نے نعرے نہیں، عمل کی زبان بولی۔ جہاں دوسروں نے خواب فروخت کیے، وہاں اس نے وہ خواب تعبیر کی صورت میں لوگوں کے ہاتھ میں رکھ دیے۔ پاکستان کی کم و بیش تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز نے بحریہ ٹاؤن کی کوکھ سے ہی جنم لیا۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ریاستی ادارے اکثر ناکام نظر آتے ہیں اور شہری سہولیات کا خواب ایک لگژری تصور بن چکا ہے، وہاں ملک ریاض نے نہ صرف سہولیات مہیا کیں بلکہ وہ نظام متعارف کرایا جو جدید دنیا میں رائج ہے۔ ٹاؤن پلاننگ ایسی کہ دنیا دنگ رہ جائے اور اب تک ہاؤسنگ سوسائٹیز اپنی ٹاؤن پلاننگ بحریہ ٹاؤن کو دیکھ کر کرتی ہیں، سڑکوں کا جال، صاف پانی، بجلی کا تسلسل، اور محفوظ رہائش جیسے بنیادی حقوق کو جب حکومتیں دینے میں ناکام ہو گئیں، تب ایک کاروباری شخص نے وہ خلاء پر کیا۔ لوگ یہ بات مانیں یا نہ مانیں، لیکن سچ یہی ہے کہ پاکستان میں لاکھوں شہریوں کو عزت اور سہولت کے ساتھ جینے کا حق دینے والا اگر کوئی ماڈل ہے تو وہ بحریہ ٹاؤن جیسا رہائشی منصوبہ ہے۔ آپ اگر تناسب دیکھنا شروع کر دیں تو بحریہ ٹاؤن اگر 10 سے 20 فیصد لوگوں کی توقعات پوری نہیں کر پایا اور ان کے گلے بحریہ ٹاؤن پر ہیں تو اس سے کئی گنا زیادہ تعداد بحریہ ٹاؤن کے مطمئن رہائشیوں اور ملازمین کی بھی ہے۔ جہاں بحریہ ٹاؤن یا ملک ریاض حسین کچھ افراد کے گلے شکوے حل کرنے میں کوئی تاویل نہیں دے سکتے تو دوسری طرف آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ کروڑوں افراد کے گھروں کا چولہا اللہ کے کرم اور بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض حسین کے وسیلہ بننے سے چل رہا ہے۔
ملک ریاض پر الزامات ضرور ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ زمینوں پر قبضہ کیا، کوئی کہتا ہے کہ اختیارات سے تجاوز ہوا۔ مگر جب ہم کسی شخص کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں، تو ہمیں قانون اور عدالتوں کی موجودگی کا بھی اعتراف کرنا چاہیے۔ اگر ملک ریاض حسین نے کوئی غیر قانونی عمل کیا ہے، تو انصاف کا نظام موجود ہے۔ لیکن انصاف اور انتقام میں فرق کرنا بھی ضروری ہے۔ ہم اکثر قانون کی آڑ میں انتقام کی وہ چادر اوڑھ لیتے ہیں جس کے نیچے اصل حقیقت دب جاتی ہے۔ اگر ادارے ملک ریاض کے خلاف ایکشن لیں، تو اس میں کوئی اعتراض نہیں۔ لیکن وہ ایکشن صرف قانون کے مطابق اور غیر جانبداری پر مبنی ہونا چاہیے۔ 460 ارب روپے کی ریکوری کے حوالے سے بحریہ ٹاؤن کے خلاف فیصلہ بھی ادارے اور ملک ریاض حسین نے مانا اور اس پہ عمل درآمد بھی ہو رہا ہے۔
ملک ریاض نے بحریہ ٹاؤن کے ذریعے صرف ایک ہاؤسنگ سوسائٹی نہیں بنائی، بلکہ ایک ایسا معاشی نیٹ ورک ترتیب دیا جس میں لاکھوں افراد براہ راست یا بالواسطہ شامل ہیں۔ صفائی کرنے والا ملازم، سیکیورٹی گارڈ، مالی، انجینئر، ڈاکٹر، دکاندار، بلڈر، کنسٹرکشن ورکر، رئیل اسٹیٹ ایجنٹ، ٹیچر، کلرک وغیرہ، سبھی کسی نہ کسی زاویے سے اس نظام کا حصہ ہیں۔ اگر آج ملک ریاض کے منصوبے متاثر ہوتے ہیں، یا انہیں تعطل کا سامنا ہوتا ہے، تو اس کا اثر صرف ایک فرد یا اس کے خاندان تک محدود نہیں رہے گا۔ یہ اثر اس پورے نیٹ ورک پر پڑے گا جس کے سہارے کروڑوں کا پیٹ پلتا ہے، بچے تعلیم پاتے ہیں، ضرورت مندوں کا علاج ہوتا ہے اور گھروں میں چولہا جلتا ہے۔
ملک ریاض حسین کو دبئی میں کاروبار کی اجازت ملی، تو یہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے انہیں ایک قابل اعتماد کاروباری شخصیت سمجھتے ہیں۔ دبئی کسی بھی ایسی شخصیت کو سرمایہ کاری کی اجازت نہیں دیتا جس کی ماضی میں ساکھ خراب ہو یا جو منی لانڈرنگ، بدعنوانی یا بلیک منی میں ملوث ہو۔ اگر دوبئی جیسے سخت قوانین رکھنے والے ملک میں ملک ریاض کو کاروبار کی اجازت ملی ہے، تو یہ پاکستان میں ان کے خلاف لگنے والے الزامات پر بھی سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ دبئی کے نظام میں کسی قسم کی جذباتی ہمدردی یا سیاسی مصلحت شامل نہیں ہوتی۔ وہاں فیصلہ صرف میرٹ پر ہوتا ہے۔ اور اگر دل سے پاکستانی دیارِ غیر میں کاروبار کر کے خود کو کامیاب بھی ثابت کر دے تو نقصان کس کا ہو گا پاکستان کا یا صرف اس ایک شخص کا؟
بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ملک ریاض اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے پاکستان سے نکل کر بیرون ملک جا چکے ہیں۔ مگر یہ تاثر محض ایک مخصوص بیانیے کے تحت پھیلایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک ریاض کی خواہش ہے کہ وہ باقی زندگی پاکستان میں گزاریں، اپنی کاروباری سرگرمیوں کو شفاف بنائیں اور جہاں کہیں بھی غلطی ہوئی ہے، وہاں قانون کے مطابق اسے درست کریں۔ یہ جذبہ اس شخص کا ہے جس نے ستر برس سے زائد کی عمر میں بھی ہار نہیں مانی۔ جس نے اپنی بیماریوں، عمر رسیدگی، اور قانونی مسائل کے باوجود حوصلے اور اعتماد کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ایک انسان جو اب عمر کے اُس حصے میں ہے کہ وہ نا صرف غلطیاں ماننے کے حوالے سے اپنی وسعتِ قلبی اپنا لیتا ہے لیکن وہ اپنی محنت کا صلہ اُس سے زیادہ کچھ نہیں مانگتا کہ کم از کم اگر اس کی توصیف ممکن نہیں تو اس کے کام کو تو اتنی عزت دی جائے کہ آزادانہ کام کرنے دیا جائے۔
ملک ریاض حسین کے بارے میں یہ بات کہنا آسان ہے کہ وہ اب مزید کچھ نہیں چاہتے، انہیں ہر چیز حاصل ہو چکی ہے۔ دولت، شہرت، اقتدار، اثر و رسوخ، یہ سب ان کے قدموں میں رہا ہے۔ ان کا خاندان ایک محفوظ اور خوشحال زندگی گزار رہا ہے، اور اگر وہ چاہیں تو بیرون ملک ہمیشہ کے لیے آباد ہو سکتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود ان کی خواہش ہے کہ وہ وطن واپس آ کر یہاں کے لیے کچھ اور کریں، اپنی باقی زندگی اسی سرزمین پر گزاریں جس سے انہوں نے سب کچھ پایا۔ یہ صرف ایک شخصی خواہش نہیں، بلکہ ایک ذمہ دار شہری کا احساس ہے، جسے ہمیں سمجھنا چاہیے۔ ہم ایک حقیقت کا جب ادراک کر لیں گے کہ ملک ریاض حسین نا ایک انفرادی شخصیت ہیں اور نا ہی ان کا ادارہ صرف چند افسران کا ایک ادارہ ہے، بلکہ بحریہ ٹاؤن ایک ایسی آماجگاہ کا نام ہے جہاں امیدیں بسیرا کیے ہوئے ہیں، جہاں لاکھوں لوگوں کی پرسکون زندگیوں کا راز موجود ہے، جہاں ہزاروں مزدور باعزت روزگار حاصل کیے ہوئے ہیں، جہاں لاکھوں ملازمین باعزت طور پر اپنے گھروں کا نظام چلا رہے ہیں، تو ہی معاملات بہتری کی جانب جا سکتے ہیں۔
اگر ملک ریاض ہار گئے تو شاید ان کا خاندان دوبئی یا کسی دوسرے ملک میں نئی سلطنت قائم کر لے گا۔ لیکن اگر وہ لاکھوں لوگ ہار گئے جو ان کے کاروبار سے وابستہ ہیں، تو ان کے لیے شاید کوئی دوسرا راستہ نہ بچے۔ ریاست اور معاشرہ ان کا متبادل دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اس لیے اس ساری بحث میں اصل موضوع ملک ریاض کی شخصیت نہیں، بلکہ وہ نظام ہے جس سے لاکھوں افراد کی زندگی جڑی ہوئی ہے۔ کیا ہم اس نظام کو گرا کر کسی ذاتی تسکین کا سامان کریں گے، یا اسے بہتر کر کے باقی لوگوں کے لیے سہولت کا ذریعہ بنائیں گے؟
پاکستان کے موجودہ سیاسی اور معاشی حالات میں ہمیں ویژنری کاروباری شخصیات کی اشد ضرورت ہے۔ ایسے لوگ جو نہ صرف ترقی کا خواب دیکھتے ہوں بلکہ اس خواب کو عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ ملک ریاض نے ثابت کیا کہ خواب دیکھنے اور دکھانے میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے وہ دکھایا جو اکثر لوگ سوچنے سے بھی قاصر تھے۔ اب اگر ہم ایسے لوگوں کو صرف اس لیے روند دیں کہ وہ ہماری سوچ سے مختلف تھے، یا انہوں نے وہ کر دکھایا جو ہم نہ کر سکے، تو ہم صرف افراد کو نہیں، خود اپنی ترقی کو دفن کریں گے۔
یہ وقت ہے کہ ملک ریاض کے خلاف قانونی معاملات کو شفافیت، توازن اور انسانی ہمدردی کے اصولوں کے ساتھ نمٹایا جائے۔ انصاف کا تقاضا صرف سزا نہیں ہوتا بلکہ اصلاح بھی ہوتی ہے۔ اگر ملک ریاض نے کچھ غلط کیا ہے تو انہیں موقع دیا جائے کہ وہ اسے درست کریں۔ لیکن اگر ہم انہیں مکمل طور پر مٹا دینے کے درپے ہو گئے، تو یاد رکھیے، وہ تو شاید بچ جائیں گے، لیکن ہم ایک ایسا ماڈل کھو دیں گے جو اس ملک کے لیے ترقی، روزگار، اور شہری فلاح کی علامت بن چکا ہے۔
بحریہ ٹاؤن صرف عمارتوں کا مجموعہ نہیں، یہ ایک سماجی و معاشی حقیقت ہے۔ یہ ان لوگوں کا سہارا ہے جنہیں ریاست نے مایوس کیا، جنہیں نظام نے نظرانداز کیا، جنہیں وسائل کی جنگ میں پیچھے دھکیل دیا گیا۔ ایسے میں اگر کسی نے انہیں عزت سے جینے کا حق دیا، تو ہمیں اس کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ تنقید ضرور کریں، احتساب ضرور ہو، مگر وہ احتساب ایسا نہ ہو جو باقی امیدوں کا گلا گھونٹ دے۔
ملک ریاض حسین کی شخصیت پر کئی رائے ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے کردار کو مکمل طور پر رد کر دینا کسی صورت دانش مندی نہیں۔ ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ ایک ایسے وقت میں جب معیشت زوال کا شکار ہے، جب بے روزگاری بڑھ رہی ہے، جب عوام میں مایوسی گہری ہو چکی ہے، ہم ایسے لوگوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں جو روشنی کے چراغ جلا سکتے ہیں۔ صرف اس لیے کہ وہ ہمارے معیار پر پورا نہیں اترتے؟ نہیں، ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہو گا۔
یہ کالم کسی فرد کی حمایت یا مخالفت کے لیے نہیں لکھا گیا، بلکہ اس مقصد کے لیے لکھا گیا ہے کہ ہم اپنی اجتماعی عقل، بصیرت اور مستقبل کے حوالے سے کوئی ایسا فیصلہ نہ کریں جو ہمیں بعد میں پچھتاوے کے سوا کچھ نہ دے۔ ملک ریاض اگر واپس آنا چاہتے ہیں، تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے، ان کی اس خواہش کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ کیونکہ اگر ہم نے ایسے خواب دیکھنے والوں کے دروازے بند کر دیے تو آنے والی نسلوں کو صرف اندھیرے ملیں گے۔
کالم کے آخر میں صرف ایک حقیقی واقعہ قارئین کو سنانا چاہوں گا۔ 30 سال کا ایک نوجوان جو خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا کو اچانک علم ہوتا ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہو چکا ہے۔ اخراجات لاکھوں میں ہیں اور نوجوان صرف چند ہزار ماہانہ پانے والا انسان، کوئی پرسان حال نہیں۔ جتنی بھی خؤشحالی ہو، ہم جانتے ہیں کہ ایسی بیماریاں نسلوں تک کو مقروض کر دیتی ہیں۔ امید کی کرن کے طور پر بحریہ ٹاؤن ہی نظر آیا۔ اور حیرت ہے اس ادارے پہ کہ یہ نوجوان نا تو کوئی سیاسی کارکن ہے اور نا ہی کوئی اہم سماجی حیثیت رکھتا ہے، پھر بھی بحریہ ٹاؤن نے نا صرف علاج کے اخراجات اٹھا لیے بلکہ ہر ممکن مدد یقینی بنانے کے لیے اقدامات سرعت سے کر دیے۔
یہ 30 سالہ کینسر سے لڑتا نوجوان، اس کے معصوم بچے، اس کے خاندان کے افراد، ان سب کے دل میں اس وقت ملک ریاض حسین یا بحریہ ٹاؤن کے لیے کیا چل رہا ہو گا؟ یہ بتانے کی کوئی ضرورت اس لیے نہیں کہ ہر ذی شعور جانتا ہے۔
فلاحی ہسپتال پاکستان میں سینکڑوں چل رہے ہیں لیکن ایک طب میں فلاح کے حوالے سے نظام بنا دینا عام بات نہیں۔ اس نظام کی خوبی ملاحظہ کیجیے۔ کہ مریض پاکستان کے کسی بھی ہسپتال میں چلا جائے۔ اگر علاج اس کی استطاعت سے باہر ہو چکا ہے تو اس کا معالج یا ہسپتال ہی مریض کو بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض حسین کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں مریض کے رنگ، نسل یا وابستگی سے مبرا ہو کر اگر کوئی ادارہ یا شخصیت ہر لمحہ مدد کرنے کو تیار ہیں تو وہ بحریہ ٹاؤن یا ملک ریاض حسین ہی ہیں۔
قانون اپنا راستہ اپنائے، احتساب کی ندی میں سب دھلنا بھی چاہیے، غیر قانونی معاملات کو قانون کے دائرے میں بھی آنا چاہیے۔ لیکن خدارا! اس 30 سالہ نوجوان جیسے ہزاروں لاکھوں افراد کی امیدوں کو نا بجھنے دیجیے گا۔


