سندھ ڈیلٹا کی زندگی کا بحران: پانی کی مسلسل کمی، ماحولیاتی تباہی اور اس کے وسیع اثرات


سندھ ڈیلٹا، جو دنیا کے سب سے بڑے اور متنوع ترین دریائی ڈیلٹاؤں میں شامل ہے، پاکستان کے جنوبی ساحل پر واقع ہے، جہاں سندھو ندی بحیرہ عرب سے جا ملتی ہے۔ یہ علاقہ کبھی حیاتیاتی تنوع، مینگرووز/ تمر، ماہی گیری اور لاکھوں افراد کے روزگار کا مرکز تھا۔ مگر آج یہ نظام حیات، ایک شدید اور مسلسل زوال پذیر رجحان کی لپیٹ میں ہے۔ جس کی بنیاد پانی کے بہاؤ میں خطرناک حد تک کمی ہے۔ کوٹری بیراج کے نیچے بہاؤ، جو اس پورے ڈیلٹا کا بنیادی سہارا تھا، گزشتہ چالیس سالوں میں نہ صرف گھٹ چکا ہے بلکہ اعداد و شمار سے واضح ہے کہ یہ کمی اب مستقل رجحان اختیار کرچکی ہے۔

1985 سے 2025 تک کے اعداد و شمار، جب دو ادوار میں تقسیم کیے جائیں تو صورتحال کی شدت اور بھی واضح ہوجاتی ہے : پہلا دور ( 1985۔ 2004 ) میں اوسط سالانہ بہاؤ 31.10 MAF تھا۔ دوسرا دور ( 2005۔ 2024 ) میں اوسط گر کر صرف 16.94 MAF رہ گیا۔ یعنی 45.53 فیصد کی خطرناک کمی۔ یہ کمی محض اعداد کی حد تک محدود نہیں بلکہ رجحان کی ساختیاتی تنزلی کی عکاس ہے۔ پہلے دور میں regression slope۔ 1.65 MAF فی سال تھی، جب کہ دوسرے دور میں یہ سست ہو کر۔ 0.31 MAF ہو گئی۔ مگر R 2 میں کمی ( 0.18 سے 0.02 ) یہ ظاہر کرتی ہے کہ نظام اب مکمل بے ترتیبی کا شکار ہے۔

پانچ سالہ Moving Average / تبدیل ہوتی ہوئی اوسط کے مطابق، 1980 کی دہائی کے آخر میں 25 MAF کی سطح 2000 کے عشرے تک صرف 5 MAF تک آ گری۔ جو ایک تشویشناک گراوٹ ہے۔ یہ تمام اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سندھ ڈیلٹا ایک واضح ماحولیاتی تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو تقویت دیتے ہیں کہ چولستان نہر جیسے منصوبے جو فرضی اوسط ( 27 MAFسالانہ) کی بنیاد پر منظور کیے گئے، جب کہ حقیقی اوسط 16.94 MAF ہے۔ یعنی پانی جو کینال بنی ہوئی ہیں ان کے لیے بھی کم ہے اور نئی کسی تعمیری مہم جوئی کے لیے پانی بالکل بھی موجود نہیں۔ یہ صرف موجودہ وسائل پر دباؤ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حق پر تجاوز ہے۔

کمی کا رجحان دیگر دریاؤں میں بھی نمایاں ہے : مغربی دریاؤں (سندھ، جہلم، چناب، کابل) میں 5.27 % کمی؛ مشرقی دریاؤں میں تقریباً 40 % کمی۔ جو ڈیلٹا کے لیے بچا کھچا پانی بھی چھین رہی ہے۔

پانی کی یہ مسلسل کمی صرف معیشت نہیں، بلکہ فطرت کو بھی روند رہی ہے۔ مینگرووز، جو ایک وقت 600,000 ہیکٹر ز پر محیط تھے، 90 % سے زائد ختم ہو چکے ہیں۔ ڈیلٹا کی حیاتیاتی تنوع، جو عالمی اہمیت کی حامل تھی، 1980 کے بعد 75 % تک ختم ہو چکی ہے۔

سیڈیمینٹ/ زرخیزی اور نئی زمین بنانے والی باریک ریتیلی مٹی جو ایک وقت سالانہ 400 ملین ٹن ڈیلٹا تک پہنچتی تھیں، اب ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی ہے، جس کی وجہ سے 1.2 ملین ایکڑ زمین کا نقصان ہو چکا ہے۔ یہ صرف زوال نہیں۔ یہاں کا ماحولیاتی صفایا ہے۔

1990 کی دہائی میں ماہی گیری دس ارب روپے ( اس وقت کے ) دیتی تھی جو اب 80 % تک سکڑ چکی ہے۔ زراعت، جو یہاں کی 70 % آبادی کا سہارا ہے، نمکین پانی کے حملے سے مفلوج ہو رہی ہے۔ ان علاقوں کی ویرانگی ایک مسلسل نقل مکانی کی داستان ہے۔ تحقیقی اندازہ ہے کہ اگر موجودہ کمی کا رجحان برقرار رہا تو 2030 تک 500,000 اور افراد ڈیلٹا اور اس کے ساتھ والے علاقے چھوڑنے پر مجبور ہوں گے۔

ڈیلٹا میں مینگرووز کا خاتمہ پاکستان کے قدرتی carbon sinks / کو ختم کر رہا ہے۔ کاربن سنک ماحول سے زیادہ مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اٹھاتے ہیں۔ سمندری سطح میں سالانہ 2.4 ملی میٹر اضافہ 2050 تک مزید 1 ملین ایکڑ زمین کھا سکتا ہے۔ اگر پانی کا یہ کم ہوتا بہاؤ نہ رُکا تو سندھ کا ساحل، سمندر نگل جائے گا۔

پانی کی تقسیم کا 1960 کا معاہدہ موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافے اور آبی سیاسیات سے دباؤ کا شکار ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے خود بھی ڈیلٹا کے لیے کوئی پائیدار تحفظ نہیں رکھا۔ اوپر کے بند، غیر موثر آبی پالیسی، اور زرعی ضیاع سب اس تباہی کو ہوا دے رہے ہیں۔

پاکستان کو ماحولیاتی بہاؤ کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرنے ہوں گے۔ سالانہ کم از کم دس MAF پانی کوٹری تک یقینی بنایا جائے ؛ 5,000 کیوسک کا مستقل بہاؤ برقرار رکھا جائے ؛ جدید آبپاشی ٹیکنالوجی، ضیاع کی روک تھام، اور مقامی زراعت کو پانی کی دوبارہ تقسیم؛ مینگرووز کی بحالی اور ایکو ٹورازم، متبادل روزگار، اور عالمی فنڈنگ کے ذریعے ڈیلٹا کی معیشت کو نئی زندگی دی جائے۔

1985 سے 2025 تک۔ محض 40 سالوں میں۔ سندھ ڈیلٹا کا پانی آدھے سے بھی کم رہ گیا ہے۔ بہاؤ کی یہ کمی ڈیلٹا کو زندگی سے موت کی جانب لے جا رہی ہے۔ اگر اس رجحان کو ابھی نہ روکا گیا، تو یہ صرف ایک علاقائی ماحولیاتی المیہ نہیں، بلکہ ایک قومی اہم قدرتی انعام، وجودی بحران میں بدل جائے گا۔ یہ بحران ناگزیر نہیں۔ پالیسی میں اصلاح، عوامی شراکت، اور بین الاقوامی حمایت کے ذریعے سندھ ڈیلٹا کو دوبارہ زندہ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن وقت اب بھی کم ہے۔

پاکستانی ساحل پر مینگرووز/ تمر کی آٹھ اقسام پائی جاتی تھیں، جن میں سے چار مکمل طور پر ناپید ہو چکی ہیں، تین اقسام معدومی کے کنارے پر ہیں، اور صرف ایک قسم (Avicennia marina) سندھ ڈیلٹا میں باقی رہ گئی ہے۔ اس تنزلی کے نتیجے میں تمر کے جنگلات طوفانوں سے بچاؤ کے قدرتی دفاعی نظام کا کردار ادا کرنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ 1999 ء کے ”A۔ 2“ سائیکلون نے کیٹی بندر اور شاہ بندر میں شدید تباہی مچائی، جہاں تمر جنگلات مکمل طور پر متاثر ہوئے۔

ہم اپنے قدرتی اور فطرتی وسائل کے خود ہی دشمن بنے ہوئے ہیں۔ ہم اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے والے ہیں۔

تمر/ مینگرووز کے جنگلات ماحولیاتی تحفظ، حیاتیاتی پیداوار، اور مقامی آبادی کی معیشت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ قدرتی نرسریوں کا کام کرتے ہیں، ساحلی کٹاؤ کو روکتے ہیں، طوفانوں سے بچاتے ہیں، اور مقامی آبادی کو خوراک اور ایندھن مہیا کرتے ہیں۔ سندھ ڈیلٹا میں تمر کی بحالی، ماحولیاتی توازن، معاشی تحفظ، اور مقامی زندگی کے مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اور یہ پاکستان کے پائیدار مستقبل کی بات ہے۔

ایسی صورتحال میں جہاں بھارت کی جانب سے سندھ طاس/انڈس واٹر ٹریٹی کو یک طرفہ طور پر معطل کیا گیا ہے، وہاں پاکستان کے لیے سندھو ڈیلٹا کی تباہی کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی مزید اہمیت ہے۔ مرتا ہوا ڈیلٹا، جو موسمیاتی تبدیلی اور پانی کی نا انصافی کی بدترین مثال ہے، پاکستان کے موقف کو بین الاقوامی پلیٹ فارم پر تقویت دے سکتا ہے۔ سندھو ڈیلٹا کا بحران صرف ایک داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ اب یہ عالمی پانی کے انصاف، موسمیاتی انصاف، اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اس سے پاکستان کا مقدمہ مضبوط دلائل کے ساتھ پیش کیا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS