راجہ گدھ کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ
بانو قدسیہ کا ناول راجہ گدھ اُردو کے ان چند ناولوں میں سے ایک ہے جن پر تنقید بھی کی گئی اور اس کے ساتھ اُسے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ لیکن اسے محدود معنوں میں لیا گیا۔ کہیں اسے رزق حلال و حرام کی بحث قرار دیا گیا تو کہیں اسے ناکام محبت کی داستان کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس بات سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ دونوں موضوع اس میں موجود ہیں۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ اس ناول کا حصہ ہے۔ اس ناول کے کرداروں میں ایک نفسیاتی دنیا کی گنجلگ تاریں بھی نظر آتی ہیں۔
”سیمی“ راجہ گدھ کا ایسا کردار ہے جس کے گرد رومانیت کا ہالہ ہے۔ اسے اگر نفسیاتی طور پر دیکھا جائے تو اس نے ایک ایسے گھر میں پرورش پائی جس میں اسے جسمانی طور پر کوئی تکلیف نہیں تھی۔ لیکن روحانی طور پر وہ اپنے باپ اور محبوب دونوں کی محبت سے محروم رہی۔ سیمی ماڈرن، تعلیم یافتہ اور ذہین لڑکی ہے۔ ساتھ ہی وہ نہایت حساس، جذباتی اور محبت کی متلاشی روح ہے۔ سیمی کے والدین مادہ پرست اور تضادات سے بھرے معاشرے کی علامت ہیں۔ اس کا باپ مادی آسائش میں اس قدر الجھا ہوا ہے کہ اسے اپنی بیٹی کے مسائل اور اس کی زندگی سے کوئی دلچسپی نہیں۔
ماں بھی اس کا ساتھ نبھانے کی کوشش میں ناکام ہے۔ یہ اپنے ذاتی مسائل میں اس قدر مصروف ہیں کہ ان کے پاس اپنی بیٹی کے لیے وقت نہیں ہے۔ اس کے والدین کے بھی آپس میں اختلافات ہوتے ہیں۔ لیکن سیمی کے لیے جھوٹی محبت کا ماحول بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ اس کا باپ جوان لڑکیوں سے معاشقے لڑاتا ہے اور اس کی ماں اسے روکنے میں ناکام رہتی ہے۔ سیمی اس ذلت سے بچنے کے لیے ہوسٹل میں رہنا شروع کر دیتی ہے۔
سیمی آفتاب سے محبت کرتی ہے۔ آفتاب بھی اسے چاہتا ہے لیکن وہ کسی اور لڑکی سے شادی کر کے لندن چلا جاتا ہے۔ آفتاب کی بے وفائی کے بعد بھی سیمی کے دل سے اس کی محبت ختم نہیں ہوتی۔ وہ اس کے بعد اس سے شدید قسم کی جذباتی بلکہ روحانی محبت کرتی ہے۔ اس کے نزدیک آفتاب کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ آفتاب سے بچھڑ جانے کے بعد قیوم کی رفاقت صرف اس لیے قبول کر لیتی ہے تا کہ اس کے ساتھ مل کر آفتاب کی یادوں کو زندہ کیا کرے۔ قیوم یہ جانتا ہے کہ سیمی اس سے محبت نہیں کرتی وہ ایک زندہ لاش کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اس کا غم بانٹنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیونکہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔ یہاں یہ دونوں عشق لا حاصل کا شکار ہیں۔
آفتاب کی بے وفائی کے بعد سیمی کے لیے اپنے وجود کی معنویت ختم ہو جاتی ہے۔ اسے اپنے جسم یا جان کی کوئی پروا نہیں رہتی۔ وہ مسلسل بیمار رہنے لگتی ہے۔ لیکن خود کے بارے میں کوئی فکر نہیں کرتی۔ وہ اپنے جسم سے انتقام لینے کے لیے قیوم کے ساتھ جسمانی تعلقات بھی قائم کر لیتی ہے۔ اس کے اندر موت کی آرزو اتنی شدید ہوتی ہے کہ پہلے وہ بیمار ہوتی ہے اور پھر خود کشی کر کے زندگی کو ختم کر لیتی ہے۔
”قیوم“ راجہ گدھ کا ایسا کردار ہے جو سیمی شاہ سے یک طرفہ محبت کرتا ہے اور وہ اس بات سے بخوبی آگاہ بھی ہے۔ یہ کردار پورے ناول پر پھیلا ہوا ہے۔ یہ ایک ایسے مڈل کلاس طبقے کا نمائندہ بھی ہے جو اپنی نا آسودہ خواہشات کو سینے میں لیے دفن ہو جاتے ہیں۔ وہ گدھ جاتی سے جڑے ہوئے انسانوں کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔ اس کردار کے ذریعے انسانی جبلت کو اس کے آبائی پس منظر میں دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ قیوم جب سیمی کی محبت پانے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ سیمی کا قرب حاصل کرنے کے لیے آفتاب کا روپ دھارنے کی بھی کوشش کرتا ہے۔ سیمی کے دہرے رویوں کی وجہ سے اس کے اندر تصادم کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مختلف طرح کی نا آسودگیاں اُسے گھیرے رکھتی ہیں۔ اور وہ ان سے باہر نکلنے میں ایک حد تک ناکام رہتا ہے۔
اس تنہائی اور محرومی کو دور کرنے کے لیے وہ سیمی شاہ سے جسمانی تعلق قائم کر لیتا ہے جس سے اُس کی نفسیات سخت مجروح ہوتی ہے۔ اس طرح وہ کئی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ سیمی کی وفات کے بعد اسے کچھ دیر کے لیے عابدہ کی رفاقت میسر آتی ہے۔ سیمی کی موت اس پر نا اُمیدی کا ایسا غلبہ طاری کرتی ہے کہ وہ اعصابی اور جسمانی طور پر بالکل مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔ اس کا اپنا وجود اس کے لیے بے معنی ہو جاتا ہے۔ اور اس کے ذہن میں کئی طرح کے سوال اُبھرتے ہیں۔
عابدہ کی رفاقت میں قیوم کی بے ستمی اور بے معنی تلاش پہلے سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس کی رفاقت میں اس کی تنہائی بظاہر کچھ کم ہوتی ہے لیکن اب اس کی روح کی پیاس کا کوئی حل نہیں نکلتا۔ اور عابدہ کے چلے جانے کے بعد وہ مزید تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ عابدہ کے بعد اس کا سامنا اَمتل سے ہوتا ہے جس سے وہ ذہنی قرب محسوس کرتا ہے۔ امتل کو اس کا بیٹا قتل کر دیتا ہے۔ تو اس طرح اُس کا آخری سہارا بھی چلا جاتا ہے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے وہ شادی کر لیتا ہے۔ اسے پتہ چلتا ہے کہ اس نے جس سے شادی کی ہے وہ پہلے سے ہی ایک بچے کی ماں ہے۔ وہ اسے طلاق دے کر مستقل تنہائی کو گلے سے لگا لیتا ہے۔
”اَمتل“ ایسا کردار ہے جو ناول میں تھوڑی دیر کے لیے اُبھرتا ہے۔ یہ ایک عمر رسیدہ طوائف کا کردار ہے۔ جو کبھی ریڈیو میں کام کرتی تھی۔ لیکن بڑھاپے کے ساتھ وہ کئی قسم کی ذہنی اور جسمانی پریشانیوں کا شکار ہو چکی تھی۔ اسے پیسے کی ہوس بھی تھی اور اس میں قلندرانہ بے نیازی بھی تھی۔ اس کے جسم اور آواز کی خوبصورتی ختم ہوئی تو اس کو مشکلات نے گھیر لیا۔ اس نے کئی بار اس سے نکلنے کی کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اور بالآخر پہلے بیٹے کے ہاتھوں موت کو گلے لگا لیتی ہے۔
ناول میں ”عابدہ“ کا کردار ایک سیدھی سادی اور نیم جاہل عورت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہ ایک متوسط طبقے کی عورت ہے۔ اسے لباس کا سلیقہ نہیں ہے۔ جب وہ تیار ہوتی ہے تو بیہودہ لگتی ہے۔ اس کے مزاج میں بھول پن اور بے ساختگی ہے۔ اس کا ذہن کسی بھی تضاد سے آشنا نہیں۔ اس کی حرکتیں لاشعوری ہیں اور اس کا دل صاف اور فطری سادگی سے لبریز ہے۔ قیوم کی طرح عابدہ بھی کج روی کا شکار ہے۔ پاک اور سچی محبت کا کوئی تصور اس کے پاس موجود نہیں ہے۔ وہ ایثار و قربانی سے عاری محض اپنی خواہشات کے تعاقب میں بھاگنے والی ہے۔ وہ بھی قیوم کی طرح محض اپنے نفس کی غلام ہے۔ حسد، نفرت اور لا حاصل آرزوؤں کے تعاقب نے اسے ایسے ریگستانوں کا مسافر بنا دیا ہے جہاں روح کو سیراب کرنے والی طیب محبت کے چشمے نہیں ملتے۔
بانو قدسیہ نے اس کردار کے حوالے سے خواہشوں اور آرزوؤں کے جنگل میں بھٹکنے والے افراد کی ذہنی اور نفسیاتی حالت کا المیہ بیان کیا ہے یہ وہ افراد ہیں جو مثبت جذبوں سے اپنی روح کو سکون نہیں دیتے۔ بلکہ حسد، نفرت اور ایسے ہی منفی جذبوں کی پرورش کر کے ہمیشہ نا آسودہ ہی رہتے ہیں۔ عابدہ کے ذہن میں ہمیشہ منفی افکار اور دل میں منفی جذبوں کی یلغار رہتی ہے۔ بظاہر وہ معصوم، سادہ اور مذہبی خیالات رکھنے والی عورت نظر آتی ہے۔ لیکن درحقیقت وہ روح اور جسم دونوں کا حرام کھانے کی سزا وار ہے۔ اس کی گفتگو اس کے پست ذہن ہونے کی غماز ہے۔ اس نے اپنی سیدھی اور صاف شفاف زندگی میں اپنے منفی طرز عمل کا زہر گھول کر اسے سب کے لیے آلودہ کر دیا ہے۔
آفتاب کے فیصلے اس کے بچپن کی تربیت سے پھوٹتے ہیں۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کیا۔ اور نہ ہی کبھی کوئی بڑا فیصلہ لیا ہے۔ سیمی سے ملنے سے قبل وہ ایسا لڑکا ہے جو کسی سے بھی بحث نہیں کرتا۔ اور نہ اس کو پسند کرتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ تعلقات استوار نہیں کرتا۔ وہ بزدلی کی حد تک ایک متوازن زندگی کا قائل ہے۔ سیمی اسے ملتی ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے جیسے اسے اپنی ذہنیت کا انسان میسر آ گیا ہو۔ اس کے خاندان کا سماجی پس منظر کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے جس سے وہ بخوبی واقف ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ سیمی کی جانب بڑھتا چلا جاتا ہے۔
ناول میں آفتاب مضبوط کردار کے طور پر سامنے نہیں آتا۔ کیونکہ اس دوری کو برداشت کرنے کے لیے جس قدر حوصلے کی ضرورت ہے وہ آفتاب کے پاس نہیں ہے۔ وہ اس عزم کو پورا کرنے کی ہمت بھی کرتا ہے لیکن اس میں کامیاب نہیں ہو پاتا۔ اسے سیمی سے زیادہ پروفیسر سہیل کی باتوں پر یقین ہے جو یہ کہتے ہیں کہ سیمی جیسی لڑکیاں کبھی بھی اس کے گھر کے ماحول میں نہیں رہ سکتیں۔ آفتاب کے اندر ہارنے کا خوف اس قدر زیادہ ہے کہ اسے چھوڑ کر زیبا سے شادی کر لیتا ہے۔ بنیادی طور پر آفتاب ان لوگوں میں سے ہے جو خود فیصلہ نہیں کرتے بلکہ دوسروں کے فیصلوں پر جیتے ہیں۔ خود ان کے اندر اس کی قوت نہیں ہوتی۔ اور جب انسان اپنے فیصلے کی قوت کھو دے تو پھر اس کے لیے رستوں کا تعین دوسرے کرتے ہیں۔
”راجہ گدھ“ کے کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ کرنے کے بعد یہ بات سامنے آتی ہے کہ یہ کردار جنسی بے راہ روی، عشق لا حاصل کا دکھ اور مایوسیوں اور اندھیروں کو لے کر جی رہے ہیں۔ اُن کے مقدر میں کوئی بھی مضبوط اور مکمل رشتہ نہیں۔ یہ نا آسودگیوں کو دامن میں لیے ہوئے ہیں۔ یہ ایک ایسی بھوک میں مبتلا ہیں جس کو مٹانے کے لیے انھیں مردہ محبت نصیب ہوتی ہے۔ اور اس مردہ محبت کا نقصان زیادہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے بھوک کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ لاحاصلی کی کسک ان کرداروں کے وجود کا حصہ بن چکی ہے۔


