جنگ ذہنوں میں شروع ہوتی ہے
جنگیں توپوں اور بندوقوں سے شروع نہیں ہوتیں، یہ انسانی ذہنوں میں جنم لیتی ہیں۔ نفرت، تعصب، غصہ، ضد اور انتقام جیسے جذبات جب کسی فرد کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں، تو وہ فرد محض ایک شخص نہیں رہتا، بلکہ ایک رویہ بن جاتا ہے جو آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ایسی سوچ نہ صرف ایک انسان کے اندر بے چینی پیدا کرتی ہے، بلکہ اس کے اطراف کے ماحول کو بھی متاثر کرتی ہے۔ یہی سوچ جب اجتماعی صورت اختیار کرتی ہے تو خاندانی نظام، معاشرتی ڈھانچہ اور ملکی فضا سب عدم برداشت، تشدد اور بداعتمادی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ہم اگر اپنے گھریلو ماحول پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ کئی گھر ایسے بن چکے ہیں جہاں بچوں کو محبت سے زیادہ غصہ، نرم لہجے سے زیادہ ڈانٹ ڈپٹ اور معاف کرنے کے جذبے سے زیادہ بدلہ لینے کی تربیت مل رہی ہے۔ والدین کا ایک دوسرے سے بات کرنے کا انداز، بچوں کے سامنے آپس کی لڑائیاں، چھوٹوں پر بڑوں کا جبر، اور غصے کو طاقت کی علامت سمجھنا۔ یہ سب باتیں ایک نئی نسل کی تربیت میں زہر گھولنے کے مترادف ہیں۔ ایسی فضا میں پرورش پانے والا بچہ نہ خود سکون میں رہتا ہے اور نہ ہی دوسروں کے لیے سکون کا باعث بنتا ہے۔ اسے نرمی کمزوری لگتی ہے اور معافی بے وقوفی۔
گزشتہ دہائیوں میں ہم نے معاشرے میں عدم برداشت اور تشدد کے رجحان میں واضح اضافہ دیکھا ہے۔ عورتوں پر بڑھتا ہوا گھریلو تشدد، بچوں کی مار پیٹ کو تربیت سمجھنا، اور ہر اختلاف پر تند و تیز لہجے میں بات کرنا، ہمارے معاشرتی بگاڑ کی نمایاں علامات بن چکی ہیں۔ گھروں میں اگر سکون نہ ہو، دلوں میں اگر نرمی نہ ہو، تو ہم کس طرح ایک پُرامن معاشرے کی امید رکھ سکتے ہیں؟ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ہم اپنے بچوں کو دوسروں کا احترام کرنا نہیں سکھائیں گے، تو وہ بڑے ہو کر نفرت اور غصے کے سوداگر بنیں گے۔
اس تمام تر منظرنامے میں اگر ہم تعلیمی اداروں کے کردار کا جائزہ لیں تو تصویر اور بھی دھندلی ہو جاتی ہے۔ نوے کی دہائی کے بعد سے ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کا رجحان صرف نصاب کی تکمیل، نمبروں کے حصول اور ڈگری کے فریم تک محدود ہوتا گیا۔ نصاب کی کتابیں بڑھ گئیں، مگر بچوں کے رویوں میں بہتری نظر نہیں آتی۔ استاد اور شاگرد کے درمیان وہ رشتہ، جو کبھی تربیت کا ذریعہ تھا، اب محض رٹنے اور پڑھانے کی مشین میں بدل چکا ہے۔ بچے تمیز اور اخلاقیات سے ناآشنا ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ جو اسکولوں سے نکل کر معاشرے میں آتے ہیں، نہ سلام کرنا جانتے ہیں، نہ سننا، نہ برداشت کرنا۔
اسکول محض علم کا ذریعہ نہیں ہوتے، یہ انسان سازی کی نرسریاں ہیں۔ اگر ان درسگاہوں میں تربیت شامل نہ ہو تو محض تعلیم ایک اندھا ہتھیار بن جاتی ہے۔ ایک ایسا ہتھیار جو اپنے اردگرد کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ہمیں تعلیمی اداروں میں اخلاقیات، صبر، برداشت، اور بین الانسانی احترام جیسے موضوعات کو دوبارہ زندہ کرنا ہو گا۔ اسمبلیوں، کہانیوں، اور عملی مشقوں کے ذریعے بچوں کے دل میں نرمی اور معافی کا جذبہ پیدا کرنا ہو گا۔ اساتذہ کو صرف مضمون کا ماہر نہیں، ایک کردار ساز معلم بنانا ہو گا۔
جنگ اگر ذہنوں میں شروع ہوتی ہے، تو امن کا آغاز بھی وہیں سے کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں گھر اور درسگاہ دونوں کو ایسے ماحول میں بدلنے کی ضرورت ہے جہاں معافی کو عظمت سمجھا جائے، نرمی کو حکمت مانا جائے، اور غصے کو خامی گردانا جائے۔ جب تک ہم اپنے بچوں کو محبت، برداشت، اور احساس دینا نہیں سکھاتے، تب تک ہم صرف تعلیم یافتہ افراد پیدا کریں گے، مہذب انسان نہیں۔

