حرکت کا سائنسی تصور ( 16 )
بوہر نے بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں پرانے کوانٹم نظریے اور کلاسیکی میکانیات کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کے حل کے طور پر ایک قیاس پیش کیا تھا جسے بوہر کا اصول مطابقت بھی کہتے ہیں۔ یہ اصول کسی عمومی طبیعی قانون کے بجائے محض ایک قیاس پر مبنی تھا لیکن یہ ایسا قیاس ہے جس کے لئے طبیعیات اور ریاضی سے وافر آگہی ہونا لازمی ہے وگرنہ اس کے سطحی معنی سے غلط نتائج دریافت کرنے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک کوانٹم میکانیاتی نظام، کسی خاص حد میں ایک کلاسیکل نظام کے نتائج پیدا کرے گا۔ اس حد کو کلاسیکل حد (کلاسیکل لمٹ) کہتے ہیں۔ ایٹم میں یہ حد کوئی بہت بڑا پرنسپل کوانٹم عدد (یعنی بہت بڑا مدار) ہو سکتا ہے، کیونکہ بڑے کوانٹم مدار میں سپیکٹرل لکیروں کے درمیان فریکوئنسی میں فرق بہت کم ہوتا ہے۔ کلاسیکل حد کچھ نینو میٹر کی ہوتی ہے۔ اس اصول کی مزید وضاحت پال ڈیراک کے کام سے ملتی ہے جس کے مطابق کلاسیکل حد پر پلانک کے مستقل کی قیمت صفر کے قریب ہو جاتی ہے۔
بوہر کے اصول مطابقت کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی کوانٹم نظام کو سمجھنے کے لئے بالکل ویسا ہی کلاسیکل نظام پہلے تعمیر کیا جاسکتا ہے یا پلانک کی قیمت کو صفر لے کر اس نظام کو حل کیا جاسکتا ہے۔ کلاسیکل نظام کے نتائج کو پھر کوانٹم حد میں جا کر یا پلانک کے مستقل کی اصل قیمت سے بدل کر کوانٹم نظام کو سمجھنے کی کوشش آسان ہو جاتی ہے۔ اگرچہ یہ ایک بہت کارآمد طریقہ ہے لیکن اس سے یہ وضاحت نہیں ہوتی کہ آیا کوانٹم نظام کا اپنا کوئی قانون بھی ہے جسے کلاسیکل قانون سے آزاد ہو کر دریافت کیا جا سکے اور وہ تمام کوانٹم نظاموں کا احاطہ کرتا ہو؟ دوسرے یہ کہ آیا کوئی ایسا کوانٹم نظام یا مظہر بھی ہو سکتا ہے جو خالص کوانٹم قانون پر چلے اور جس کی کوئی مثال کلاسیکل دنیا میں نہ دیکھی گئی ہو؟ ایسے مظاہر موجود ہیں جو خالص کوانٹم قانون کی پیروی کرتے ہیں، ان میں مشہور مثالیں بوز آئن سٹائن آمیزہ، کوانٹم سپن اور کوانٹم اینٹگلمنٹ وغیرہ ہیں۔
ورنر ہائزنبرگ، پال ڈیراک اور شروڈنگر وغیرہ کے کام کی بدولت اب کوانٹم قانون زیادہ مضبوط ریاضیاتی بنیادوں پر استوار ہو گیا اور یوں ان خالص کوانٹم نظاموں کی وضاحت کے لئے جواز مل گیا جنہیں کسی طرح بھی کلاسیکل دنیا کے قوانین سے نہیں سمجھا جاسکتا تھا۔ 1926 ء میں میکس بورن نے ایک مقالے میں لکھا کہ شروڈنگر کے ویو فنکشن کی سب سے واضح تشریح یوں ہو سکتی ہے کہ یہ کسی مقام پر الیکٹران کے پائے جانے کے امکان کو معلوم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس وضاحت کو بورن کا اصول اور اسی مناسبت سے ویو فنکشن کو امکانی لہر بھی کہا جاتا ہے۔ ویو فنکشن کو حقیقی عدد میں بدلنے کے لئے اس کا مربع لیا جاتا ہے۔ کسی بھی کمپلیکس مقدار کا مربع حقیقی عدد ہوتا ہے۔ الیکٹران کے ویو فنکشن کا مربع الیکٹران کے مقام یا رفتار کے امکان کو ظاہر کرتا ہے جبکہ خود ویو فنکشن کو امکان کا ایمپلی ٹیوڈ کہتے ہیں۔ تجربے میں ہم ویو فنکشن کو براہ راست مشاہدہ نہیں کرتے بلکہ کسی خاص سپیس میں اس کے مربع کی پیمائش کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں الیکٹران بطور لہر براہ راست مشاہدہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے مقام اور رفتار کا امکان معلوم ہوتا ہے۔
اگر الیکٹران کی حرکت کو ایٹم سے آزاد کسی تجربہ میں دیکھا جائے تو بوہر کے مطابق یہ عام ذرات کی طرح اپنا مخصوص رستہ رکھتا ہے جیسے کسی گیند کے چلنے سے ایک رستہ بنتا ہے۔ تو کیا ایسا کوئی تجربہ ہو سکتا ہے جس میں براہ راست الیکٹران کے رستے کو دیکھا جا سکے؟ عام طور پر دیکھنے کے لئے روشنی استعمال ہوتی ہے۔ آپٹکس کا ایک کلیہ ہے کہ جس سائز کی شے کو دیکھنا ہو تو کم ازکم اسی سائز کی طول موج والی روشنی استعمال ہوگی۔ کسی آزاد الیکٹران کے رستہ کو دیکھنے کے لئے فوٹون کو استعمال کر سکتے ہیں مگر فوٹون کی توانائی اس کی طول موج کے حساب سے معکوس نسبت میں ہوتی ہے۔ یعنی الیکٹران کے چھوٹے سائز تک جانے کے لئے بہت زیادہ توانائی (گیما ریز) کا استعمال ہو گا۔ اتنی زیادہ توانائی کا فوٹون جب الیکٹران سے ٹکرائے گا تو اس کی رفتار کو بدل دے گا اور یوں ہم الیکٹران کو اس رستے سے ہی ہٹا دیں گے جس کو دیکھنا مقصود تھا۔ اگر فوٹون کی توانائی کم کر دیں تو وہ الیکٹران کی رفتار یا رستے کو نہیں بدلے گا مگر پھر اس کے مقام کا درست تعین نہیں ہو سکے گا۔ 1927 ء میں ہائزنبرگ نے مندرجہ بالا توجیہہ کی بنیاد پر اپنا مشہور اصول عدم تعین پیش کیا جس کے مطابق کسی تجربے میں الیکٹران کے مقام اور رفتار میں سے صرف کسی ایک مقدار ہی کا درست تعین ہو سکتا ہے۔
بوہر نے پہلے تو ہائزنبرگ کے اس اصول عدم تعین پر شک کیا۔ اس کے مطابق شاید یہ تجربے میں پائے جانے والی داخلی نادرستی کی وجہ سے ہے اور اس کا کوانٹم میکانیات کے بنیادی قانون سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ وہ نقطہ ہے جس کو سمجھنا کوانٹم میکانیات کو انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔ بہرحال، 1930 ء کی دہائی میں پال ڈیراک اور شروڈنگر وغیرہ نے کامیابی سے دکھایا کہ ہائزنبرگ کا اصول عدم تعین، ریاضیاتی بنیاد پر بھی درست ہے اور کوئی بھی دو ایسی مقداریں جو کمیوٹیٹر کی پیروی کرتی ہیں (یعنی آپس میں کمیوٹ نہیں کرتیں ) ، ان کی اکٹھی پیمائشوں میں لازمی طور پر باہمی عدم تعین پایا جاتا ہے۔ یعنی ایک کی درست پیمائش سے دوسرے کی پیمائش اسی حساب سے نادرست ہو جاتی ہے۔ گویا، ہم کبھی الیکٹران کا کلاسیکی رستہ نہیں ماپتے بلکہ کلاسیکی رستہ، چھوٹے کوانٹم رستوں کی بڑی تعداد میں ایک ساتھ پائے جانے کا نام ہے۔ ایک مقام پر دیکھے جانے سے لے کر دوسرے مقام پر دیکھنے جانے کی درمیانی جگہ پر الیکٹران کے رستے کے بارے میں ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔ یاد رہے کسی جسم کی حرکت کے لئے تمام مادی یا طبیعی مقداروں میں عدم تعین نہیں ہوتا بلکہ غیر صفر کمیوٹیٹر رکھنے والی مقداروں کی پیمائش میں عدم تعین پایا جاتا ہے۔ لہذا یہ کہنا جہالت ہے کہ ہم دنیا کو فزکس کی مدد سے نہیں جان سکتے یا فزکس کا خاتمہ ہو گیا ہے۔
بوہر نے ہائزنبرگ سے بحث و مباحثہ کے بعد اپنا مشہور اصول تکمیل 1927 ء میں پیش کیا جو بعد میں کوانٹم میکانیات کی کوپن ہیگن تشریح کہلایا۔ اس اصول کے مطابق، فزکس میں جہاں کوانٹم اثرات اہم ہیں وہاں صرف مشاہدہ یا صرف ریاضیاتی بیان مکمل حقیقت کی ترجمانی نہیں کرتا۔ ایک تجربہ درست پوزیشن بتاتا ہے تو دوسرا درست رفتار بتائے گا اور دونوں مشاہدات سے مل کر الیکٹران کا رستہ معلوم ہو گا۔ کچھ تجربات میں مادے کو بطور لہر تو کبھی ذرہ دیکھا جاتا ہے، اس لیے مکمل حقیقت جاننے کے لئے دونوں طرح کے تجربات لازمی ہیں۔ یہ سوال کہ کیا حقیقت میں مادہ ایک لہر کی حرکت رکھتا ہے یا ذرہ جیسی، کوانٹم دنیا میں لایعنی سوال ہے جب تک کہ سوال کے ساتھ اس کا تجربی سیاق پیش نہ کیا جائے۔ یعنی یہ نہ بتایا جائے کہ کس تجربے کی بنیاد پر سوال کیا گیا ہے۔ کوانٹم فزکس، دراصل کلاسیکل فزکس کا خلاصہ ہے۔ یہ کلاسیکل سائنس کا مزید گہرا فہم ہے اور سائنس میں ارتقاء ہے۔ ایسا نہیں کہ آگا دوڑ پیچھا چوڑ والا معاملہ ہو۔ آج بھی نیوٹن کی سائنس درست ہے۔ انجینئرنگ اسی کی بنیاد پر چلتی ہے۔ ہاں فطرت میں بنیادی قانون کوانٹم کا ہی ہے، اس پر شماریات کے اصول لگا کر کلاسیکل قوانین بنتے ہیں۔
جان وان نیومین (متوفی 1957 ء) نے 1932 ء میں کوانٹم نظریے کو چند مسلمات کی شکل میں بیان کیا۔ زیادہ تر جامعات میں کوانٹم میکانیات کے ابتدائی کورسز آج بھی اسی شکل میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ان چند مسلمات اور ڈیراک کی علامات والے ریاضی کی مدد سے قریباً ساری ابتدائی کوانٹم میکانیات بیان ہو جاتی ہے۔ اس ریاضی میں بنیادی شے ایک سٹیٹ ویکٹر ہے۔ کسی کوانٹم نظام میں پہلے شے کا سٹیٹ ویکٹر قائم ہوتا ہے۔ سٹیٹ ویکٹر میں اس نظام کی تمام ممکنہ حالتیں بمع ان حالتوں کے مختلف فیز، ایک سپر پوزیشن میں موجود ہوتی ہیں۔ سپر پوزیشن سے مراد کوئی خاص مقام نہیں بلکہ یہ ایک مجرد ریاضیاتی اصطلاح ہے۔ سٹیٹ ویکٹر دراصل ہلبرٹ سپیس کا ایک رکن ہے۔ ہلبرٹ سپیس، جو کہ ایک لینیر سپیس ہے، ایک ریاضیاتی فریم ورک ہے جو کسی طبعی نظام میں موجود سمٹریز کی موجودگی میں شے کی حرکت کی تمام ممکنہ آزاد حالتوں کو ظاہر کرتی ہے۔ ممکنہ آزاد حالتوں کی تعداد ہی کو ہلبرٹ سپیس کی ڈائمینشن کہتے ہیں۔ ہر کوانٹم نظام کی اپنی ہلبرٹ سپیس ہوتی ہے۔ جیسے ایک آزاد الیکٹران کی سپن حرکت کے لئے دو جہتی ہلبرٹ سپیس ہوتی ہے۔
سٹیٹ ویکٹر میں تبدیلی کے لئے کچھ قالب (میٹرکس) استعمال ہوتے ہیں جنہیں آپریٹر کہتے ہیں۔ کچھ آپریٹر کسی سٹیٹ ویکٹر کی قدر کو تبدیلی نہیں کرتے بلکہ بس اسے ہلبرٹ سپیس میں گھماتے ہیں جبکہ دوسرے ان کی لمبائی یا فیز بدل دیتے ہیں۔ کلاسیکل فزکس میں معلوم شدہ طبعی مقداروں جیسے پوزیشن، مومینٹم یا انرجی وغیرہ کو کوانٹم فزکس میں خاص قسم کے آپریٹرز سے بیان کیا جاتا ہے جنہیں ہرمیشن آپریٹر کہتے ہیں۔ ایسے آپریٹر کا سٹیٹ ویکٹر پر عمل کرنا، پیمائش کا عمل کہلاتا ہے۔ اس لحاظ سے کوانٹم فزکس، کلاسیکل فزکس سے مختلف ہے کہ اس میں بہت ساری ریاضیاتی مشق کے بعد قابل پیمائش مقداریں ہاتھ لگتی ہیں مگر تب بھی ان کی اصل نہیں بلکہ ممکنہ قیمتوں کا تعین ہوتا ہے۔ مشاہدہ کرنے والا جب تک تجربہ نہ کرے وہ ان مقداروں کی درست قیمت نہیں بتا سکتا۔ گویا، کوانٹم نظریے نے مادیت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ نیوٹن نے بتایا تھا کہ ریاضی، لفظی بیان سے زیادہ واضح اور درست ہے۔ کوانٹم نظریے نے بتایا کہ ریاضی بھی اس قدر واضح نہیں جب تک تجربے سے دنیا کو نہ دیکھا جائے۔ تجربے کے بعد جو پتا چلتا ہے وہی حقیقت ہے۔ کوانٹم فزکس ساری تجربے پر ہی کھڑی ہے۔ کچھ لوگ اس وہم کا شکار ہیں کہ کوانٹم فزکس نے کلاسیکی مادیت کو ختم کر ڈالا ہے۔ مادیت سے مراد اگر تجربے اور ریاضی کے اشتراک سے حقیقت کا گیان حاصل کرنا ہے تو کوانٹم میکانیات، کلاسیکی مادیت کو مزید ٹھوس جواز فراہم کرتی ہے۔
ایک اور مسئلہ مشاہدے کی نوعیت کا ہے۔ اگر کوانٹم نظام کی پیمائش نہ کی جا رہی ہو تو سٹیٹ ویکٹر، شروڈنگر کی مساوات کے مطابق، متعین طور پر ہلبرٹ سپیس میں اپنی سپر پوزیشن کی تمام ممکنہ حالتوں میں گھومتا رہتا ہے۔ جب اس کی پیمائش ہوتی ہے تو یہ اپنی سپر پوزیشن والی ممکنہ حالتوں میں سے کسی ایک کی طرف ہمیشہ کے لئے جھک جاتا ہے اور پھر واپس سپر پوزیشن میں نہیں لوٹ پاتا۔ اس عمل کو ویو فنکشن کا تباہ ہونا (ویو فنکشن کولیپس) کہتے ہیں۔ اس عمل میں ہلبرٹ سپیس کی تمام ممکنہ حالتوں کی معلومات ختم ہو کر کسی ایک حالت کی معلومات ہی فراہم ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تجربے سے پہلے، کوانٹم نظام کے ابتدائی سٹیٹ ویکٹر یا تمام ممکنہ حالتوں کا علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ اسے ہی بعض اوقات پیمائش کا مسئلہ کہتے ہیں۔ اس کا سب سے واضح اظہار ڈبل سلٹ کے تجربے میں ہوتا ہے جہاں مشاہدے کے بغیر الیکٹران دو باریک سوراخوں سے گزرنے پر لہروں کی طرح انٹرفیئرنس کرتے ہیں لیکن جونہی کیمرہ سے الیکٹران کے رستے کا مشاہدہ کرنے کی کوشش ہوتی ہے تو یہ ذرات کی طرح حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔
دراصل مشاہدے پر شاہد کا اثر اس لیے پڑتا ہے کہ کوانٹم سسٹم جب کلاسیکی آلات سے ملتا ہے تو آلے کا حصہ بن کر کلاسیکل سسٹم بن جاتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ پھر وہ کلاسیکل کل کے جزو کے طور پر کام کرتا ہے۔ جب کوانٹم سسٹم، کلاسیکی لمٹ سے بڑا ہو گا تو کلاسیکی منطق پر چلے گا۔ اس لیے جتنے تجربات ہوئے کہ جن میں آلات کا حصہ بننے سے بچا گیا وہاں کوانٹم منطق ہی ظاہر ہوئی۔ جان وان نیومن نے ہلبرٹ اسپیس کے ذیلی اسپیسز کی مسلماتی کیلکولس کے لیے ’کوانٹم منطق‘ کی اصطلاح متعارف کروائی ہے۔ کلاسیکی منطق میں وقتی بیانات کی ناکافی وضاحت کے ذریعے دنیا کو سمجھا گیا تھا۔ کوانٹم منطق نے کلاسیکی منطق کے اس خلا کو پر کیا ہے۔ اسی لئے جہاں کوانٹم منطق کو تقریباً کلاسیکی منطق سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، وہاں کوانٹم فزکس بھی تقریباً کلاسیکل فزکس سے تبدیل ہو جاتی ہے۔ کوانٹم فزکس منطق کو رد نہیں کرتی، بلکہ کلاسیکل منطق کی بنیاد اور توجیہہ فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا کلاسیکل منطق کے خلاف جانے والے تصوف کے حامیوں اور ملا صدرا جیسوں کی کہانت کو کوانٹم فزکس سے حمایت نہیں ملتی۔ جو کوانٹم فزکس کو تصوف سے ملاتا ہے وہ یا تو جاہل ہے یا پھر فراڈیا ہے۔
جو چیزیں کوانٹم فزکس اور نظریہ نسبیت نے بتائی ہیں ان کی توجیہہ روزمرہ کے منطقی قاعدوں سے نہیں کی جا سکتی۔ علت و معلول کی ترتیب بھی کوانٹم فزکس کے بعض مظاہر میں الٹ جاتی ہے۔ علت و معلول کا قانون کلاسیکی دنیا سے اخذ کردہ ہے۔ روزمرہ دنیا میں جن واقعات کی ترتیب متعین انداز سے رونما ہوتی ہے ان کی وضاحت علت و معلول سے ہو جاتی ہے۔ کوانٹم دنیا کے تجربات ایسے ہیں کہ وہ کئی امکانات کی اجازت دیتے ہیں اور کوانٹم نظریے میں کچھ کلاسیکی قدریں ناممکن ہیں اس لئے ان میں اعداد و شمار کا طریقہ درست ہے۔ مزید برآں، یہ کہنا قطعی طور پر درست نہیں ہے کہ کوانٹم میکانیات نے کلاسیکل جبر کو سرے سے ختم کر دیا ہے، کیونکہ توانائی اور رفتار کے بقاء کے تمام قوانین ہمیشہ کی طرح متعین ہیں اور ان کا عالمگیر اطلاق ہے اور یونہی شروڈنگر کی مساوات میں ویو فنکشن ایک متعین حرکت رکھتا ہے۔ کوانٹم فزکس نے مابعد الطبیعات کے لئے بھی جواز پیدا نہیں کیا ہے۔ کوانٹم فزکس کے چند بانیوں کی لفاظی اور غلط توجیہہ کے باعث ایسا تاثر ملتا ہے کہ مابعد الطبیعات، یعنی یہ کہ مادی دنیا سے ماوراء کسی روحانی دنیا یا عالم مثال کا ہونا، کوانٹم فزکس سے ثابت ہے۔


