دادیوں والا گاؤں
گھنٹی دوسری بار بجی تو ملازم دوڑ کر دروازے کی طرف لپکا۔ دروازہ کھولا تو سامنے ایک اجنبی نوجوان ایک نوعمر بچے کی انگلی تھامے کھڑا تھا اور دوسرے ہاتھ سے ایک چھوٹا چرمی بیگ اٹھایا ہوا تھا۔
ہاں جی! کیا کام ہے جی؟ کس سے ملنا ہے؟
یہ محمد رشید کا گھر ہے؟ اجنبی شخص نے سوال کیا۔
یہاں تو مجید دادا اور ان کے بیٹے بھائی یاسین رہتے ہیں۔ کم عمر ملازم نے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا۔
ہمارا نام کیلاش سنہا ہے۔ یہ میرا بیٹا سنجیو ہے۔ ہم دلّی سے آئیں ہیں اور مجید جی سے ملنا چاہتے ہیں۔
ملازم دوڑ کر اندر گیا۔ واپسی پر اس کے ہمراہ ایک 60، 65 سالہ آدمی ساتھ تھا۔ آدمی نے کیلاش کو اندر آنے اور وہیں دالان میں پڑی کرسیوں پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
میں محمد رشید کے دوست راجو سنہا کا پوتا ہوں۔ یہ گاؤں میرے باپو کی جنم بھومی ہے۔ باپو آخری دم تک دادیوں والے گاؤں کی یاترا کا سپنا لیے پچھلے سال ہی بھگوان کو پورے ہو گئے۔ اس گاؤں کی درجنوں مہیلائیں میرے باپو کی ماں کا درجہ رکھتی ہیں کیونکہ انھوں نے ان کا دودھ پیا تھا۔ باپو مرتے دم تک مجھے جتلاتے رہے کہ تیری درجنوں دادیاں ہیں اور وہ اس گاؤں کو ہمیشہ ”دادیوں والا گاؤں“ ہی کہتے تھے۔ کیلاش سنہا کی آنکھیں دور، کہیں دور اپنا ماضی تلاش کرنے لگیں اور مجید اسے ایک ٹک دیکھے گیا۔
سرگودھا کے گاؤں سَالم کے رہائشی رشیدے کے گھر راجو سنہا کی بیوی کملا بائی پچھلے دو دن سے درد زہ سے تڑپے جا رہی تھی۔ لیکن بچہ دنیا میں آنے سے کترا رہا تھا شاید جان گیا تھا کہ اس سمے باہر کی دنیا سے زیادہ ماں کی کوکھ محفوظ ہے۔ دائی خدیجہ کے کہنے پر کملا بائی زور لگا لگا کر اب تھک چکی تھی۔ بار بار اس پر غنودگی طاری ہونے لگتی تو دائی خدیجہ اس کے منہ پر زور زور سے تھپڑ مار کر اسے جگانے کی کوشش کرتی۔ لیکن اب دائی کی ہمت بھی جواب دینے لگی تھی۔
” راجو تیری جورو کی جان کو خطرہ ہے۔ خون بہت بہہ گیا ہے۔ بس رب سے دعا کر کہ بچہ جلدی سے جنے۔ ورنہ شہر کے ہسپتال لے جانا پڑے گا۔ “ دائی خدیجہ نے ہارے ہوئے لہجے میں راجو کو بتایا۔
راجو سنہا بھیگی آنکھوں سے اپنی بے ہوش اور بے حال پتنی کملا بائی کو بے بسی سے دیکھے جا رہا تھا۔ کملا نے اب تکلیف سے چلانا بھی بند کر دیا تھا۔ شاید درد ٹھنڈے پڑ گئے تھے لیکن پیٹ کا ابھار ایک سخت چٹان کی طرح تن کے کھڑا تھا۔ رشیدے کے گھر دو دن سے چولہا نہ جلا تھا لیکن پورا پنجاب آگ میں جل رہا تھا۔ سالم گاؤں کے تمام ہندو اور سکھ گھرانے کئی روز پہلے ہی ہندوستان ہجرت کر گئے تھے سوائے راجو سنہا کے۔ اس کی بیوی کملا بائی پورے دن سے تھی اور ایسے میں بیل گاڑی کا سفر زچہ اور بچہ دونوں کے لیے جان لیوا ہو سکتا تھا اور یہاں رہتے ہوئے بھی ہر لمحہ بلوائیوں کے ہاتھوں مارے جانے کی تلوار سر پر لٹکے ہوئے تھی۔ سرحد کے اِس پار اور اُس پار ہجرت کرنے والوں کے قتل و غارت کی خبریں سن کر تمام گاؤں والے خوف زدہ تھے کہ گاؤں سے چھوڑ کر جانے والے کتنے سلامت رہے اور کتنے رستے میں ہی مار کاٹ دیے گئے؟ رشیدا اور راجو بچپن کے جگری یار تھے۔ دونوں کے دکھ سکھ سانجھے تھے۔ دو سال پہلے رشیدے اور راجو کے بیاہ بھی آگے پیچھے ہوئے تھے۔ رشیدے کی گھر والی سکینہ نے پچھلے سال بیٹی کو جنم دیا تو راجو کی بیوی کملا نے سوا مہینے تک سکینہ کی دن رات خدمت کی تھی۔ شاید زچہ کے ہی دل سے نکلی دعا کا اثر تھا کہ دو ماہ بعد ہی کملا کی خالی کوکھ بھی بھر گئی تھی۔
پنجاب کے دوسرے گاؤں کی طرح سالم گاؤں میں بھی میں فسادات سے قبل ہندو، مسلمان اور سکھ امن و شانتی سے رہ رہے تھے۔ عید ہو یا بقرعید، ہولی ہو یا دیوالی یا چاہے ویساکھی کی رُت گاؤں میں ہر تہوار پر جشن دل کھول کے منایا جاتا تھا۔ نہ جانے پھر دیکھتے ہی دیکھتے پانچ دریاؤں کی زرخیز زمین کو کس کی نظر کھا گئی کہ انسانی جان ارزاں ہوتی گئی۔
” یہ سب خالی قینچیاں چلانے سے دنگے فساد ہونے لگے ہیں۔ خالی قینچی چلانے سے بد شگونی ہوتی ہے۔ نحوست کے سائے منڈلانے لگتے ہیں“ علاقے میں مار کاٹ کے واقعات سن کر محلے کی بڑی بوڑھیاں اپنی پوپلی زبان میں تبصرے کرتیں۔
سالم گاؤں میں راجو سنہا ہی واحد ہندو رہائشی تھا جو ابھی تک پاکستان کی حدود پھلانگ کر ہندوستان کی دہلیز عبور نہ کر پایا تھا۔ شیدے نے زبردستی راجو کے گھر تالا لگایا اور دونوں میاں بیوی کو اپنے ساتھ گھر لے آیا تھا۔ گاؤں کے تمام مسلمان مکینوں نے راجو اور اس کی بیوی کملا کی جان کی حفاظت کرنے کی قسم کھائی تھی۔ دن رات پہرے دیے جا رہے تھے کہ کہیں بلوائی اچانک حملہ کر کے نہتے راجو اور اس کی حاملہ بیوی کو جان سے نہ مار دیں لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ کملا کی حالت نازک تھی لیکن اس خونی دور میں اسے سرگودھا کے کسی ہسپتال لے جانا بھی موت کے منہ میں ہی جانا تھا۔ سب بے بس و لاچار تھے۔
دائی خدیجہ نے گرم کاڑھا دوبارہ کملا کے حلق میں انڈیلا تاکہ درد زہ پھر زور پکڑے اور بچہ دنیا میں آنے کے لیے ہاتھ پاؤں مارے۔
کچھ ہی گھنٹوں بعد کملا کی دلخراش چیخوں نے جہاں دم توڑا وہیں ایک ننھے مہمان کے رونے کی آواز فضا میں گونجی جو کافی دیر جاری رہی۔ باہر راجو کے ساتھ محلے کے مرد چپ سادھے انتظار میں تھے کہ اندر سے کیا خبر آتی ہے۔
کملا بائی نے ایک زندگی سے بھرپور بچے کو جنم دیا تھا لیکن خود زندگی کی بازی ہار بیٹھی تھی۔
راجو کی ہستی بکھر گئی تھی جس میں اس کے خوشی اور غم کے سارے جذبات چکنا چور ہو چکے تھے۔ بچہ دودھ کے لیے مستقل روئے جا رہا تھا کیونکہ بچے کے پیٹ کو سیراب کرنے والا ماں کا سینہ سوکھا پڑا تھا۔
موت کی سوگواری سے پرے زندگی بھوک سے بلکہ جا رہی تھی۔
سکینہ نے فوراً بچے کو سینے سے لگایا اور دودھ پلانے لگی۔
گاؤں کے دس سے بارہ گھرانوں میں اس سال نئے بچوں کی آمد ہوئی تھی۔ گاؤں کی ان تمام عورتوں نے جن کے چھاتیوں میں دودھ اُترا ہوا تھا، نئے مہمان کو دودھ پلانے کی ذمہ داری بخوشی اٹھانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
دائی خدیجہ خود راجو کے بیٹے کو دودھ پلوانے گاؤں کے گھروں میں لے کر جاتی اور سیراب کر کے باپ کے حوالے کرتی۔ راجو کے شیر خوار بیٹے کملیش نے سالم گاؤں کی بارہ ماؤں کا دودھ پیا تھا۔ اس کی بارہ مائیں تھیں جنھوں نے اسے اپنے سینے سے لگا کر ممتا کی گرمی بخشی تھی۔ تبھی جب راجو نے تقسیم کے دو سال بعد اپنے بیٹے کملیش کو لے کر ہندوستان جانے کا فیصلہ سنایا تو کملیش کی ماؤں کے آنکھوں سے آنسوؤں نے برسات کا روپ دھار لیا تھا۔
کیلاش نے محمد مجید کی جانب ایک لفافہ بڑھاتے ہوئے کہا۔ ”یہ ان مہیلاؤں کے نام ہیں جنھوں نے باپو کو ماں بن کر دودھ پلایا تھا۔ میری آپ سے بنتی ہے کہ مجھے اپنی دادیوں سے ملوا دیں اگر ممکن ہو تو۔
مجید نے ناموں کی فہرست دیکھی اور کہا کہ تمھاری ان میں سے پانچ دادیاں حیات ہیں اور اسی علاقے میں رہتی ہیں۔ لیکن آؤ سب سے پہلے تمھیں تمھاری اس دادی سے ملواؤں جو اسی گھر میں رہتی ہیں۔ تمھاری دادی جو میری ماں ہے! سکینہ بی بی۔
مجید نے کیلاش کو اپنے سنگ لیا اور گھر کے اندر ایک کمرے کی جانب قدم بڑھا دیے۔
بشکریہ وی نیوز


