مشہور ٹی وی اداکار طلعت حسین کی پہلی برسی، 26 مئی 2025
پاکستان کے معروف صدا کار، پی ٹی وی کے عہد ساز اور مشہور ادا کار، طلعت حسین 26 مئی 2024 کو کراچی میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ ایک نجی ہسپتال میں داخل تھے اور کچھ عرصہ سے علیل تھے۔
وہ 1940 میں بھارت کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ انہیں کراچی مرکز کے ڈرامہ سیریل ہوائیں میں لازوال ادا کاری کر کے ملک گیر شہرت حاصل ہوئی تھی۔ انہوں نے لندن سکول آف میوزک اور ڈرامہ سے فن ادا کاری کی تعلیم حاصل کی۔ انہیں 1982 میں تمغہ حسن کارکردگی اور 2021 میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ انہیں نگار اعزاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ ارجمند، ان کا پہلا ڈرامہ تھا جو 1972 میں نشر ہوا تھا،
دھوپ کے نذرانے، یہ ایک اور مشہور ڈرامہ تھا جو 1973 میں نشر ہوا تھا۔ ہم سفر، یہ ایک مقبول ڈرامہ تھا جو 1985 میں نشر ہوا تھا۔
طلعت حسین کا ایک اور مشہور ڈرامہ پرچھائیاں تھا۔ یہ پی ٹی وی کا پہلا رنگین ڈرامہ تھا جسے حسینہ معین نے تحریر کیا تھا۔ یہ ڈرامہ ہنری جیمز کے انگریزی ناول ڈی پورٹریٹ آف اے لیڈی سے ماخوذ تھا۔ طلعت حسین نے اس ڈرامے میں شیراز نامی ایک لالچی شخص کا کردار ادا کیا تھا، جسے بہت ہی پسند کیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ طلعت حسین کے مشہور ڈراموں میں، نہ تمہیں خبر نہ ہمیں خبر، آنسو، بندش، عید کا جوڑا، فنون لطیفہ، دیس پردیس، طارق بن زیاد اور ہوائیں شامل ہیں۔
طلعت حسین کو پی ٹی وی ادا کار اور لکھاری اطہر شاہ خان عرف جیدی نے یوں خراج تحسین پیش کیا تھا کہ اگر کسی ڈرامے میں آدھے گھنٹے کا منظر پیش کرنے کے لیے صرف ایک ادا کار درکار ہو تو طلعتِ حسین کو وہ کردار دے دیں، وہ سیگرٹ کا ایک لمبا کش لیں گے، ایک جملہ ادا کر کے توقف کریں گے اور اگلا جملہ جب بولیں گے تو آدھا گھنٹہ گزر گیا ہو گا۔
طلعت حسین نے ٹی وی کے علاوہ سٹیج پر بھی ادا کاری کے جوہر دکھائے، جن میں گڑیا گھر اور حبیب ماموں زیادہ مشہور ہیں۔
طلعت حسین پی ٹی وی کے ایک منفرد اور اعلیٰ درجے کے ادا کار تھے جنہوں نے اپنی محنت، اچھوتی اور لازوال اداکاری سے پی ٹی وی کے ڈراموں کی تاریخ میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ طلعت حسین کی وفات کے ساتھ ہی اردو تہذیب و تمدن کا ایک عہد بھی تمام ہو گیا ہے۔
رب کریم ان کی مغفرت کرے اور درجات بلند کرے آمین

