نصاب کی نئی کروٹ: اصلاحات یا افسانہ؟


پاکستان کا نظام تعلیم ہمیشہ سے تبدیلیوں کی زد میں رہا ہے۔ ہر دور میں نئی پالیسیاں، نئے ماڈل اور مختلف تجربات سامنے آتے رہے ہیں، مگر سوال ہمیشہ یہی رہا کہ یہ سب کچھ طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے کیا جا رہا ہے یا پھر صرف کاغذی تبدیلیوں کا شور برپا کیا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں نیشنل کریکولم کونسل کی نگرانی میں جو نصابی اصلاحات سامنے آئی ہیں، ان میں کور اور کور پلس کی تقسیم ایک نمایاں تبدیلی کے طور پر سامنے آئی ہے۔ بظاہر یہ تقسیم تعلیمی نظام کو لچکدار، موثر اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ بنانے کی کوشش ہے، لیکن اس کے پس پردہ سوالات بھی کم نہیں۔

کور کریکولم وہ بنیادی تعلیمی مواد ہے جو ملک بھر کے تمام طلبہ کے لیے یکساں طور پر لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں وہ بنیادی مہارتیں شامل ہیں جن کا حصول ہر بچے کے لیے ضروری سمجھا گیا ہے، جیسے خواندگی، عددی فہم، سائنسی شعور، اخلاقی تعلیم اور قومی اقدار۔ یہ نصاب ایک متحدہ تعلیمی شناخت قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ معاشرے میں یکجہتی اور ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔ دوسری جانب کور پلس کو ایک اختیاری اور اضافی حصہ کے طور پر متعارف کرایا گیا ہے، جس میں صوبوں کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مقامی، ثقافتی یا تعلیمی سیاق و سباق کے مطابق مواد شامل کریں۔ یہ گنجائش اگرچہ بظاہر ایک مثبت پہلو رکھتی ہے، لیکن اس کا اطلاق سب کے لیے یکساں نہیں ہے۔

جن صوبوں کے پاس وسائل، تربیت یافتہ اساتذہ، اور معاون مواد موجود ہے، وہ کور پلس کے ذریعے طلبہ کو مزید جدید اور عالمی معیار کی تعلیم فراہم کر رہے ہیں، جبکہ وہ صوبے جو پہلے ہی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، صرف کور کریکولم تک محدود رہ گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ تعلیم میں یکسانیت کے بجائے ایک نئی قسم کی تقسیم جنم لے رہی ہے۔ ایک طبقہ جدید، تحقیقی اور تخلیقی انداز میں سیکھ رہا ہے جبکہ دوسرا محض بنیادی معلومات پر اکتفا کر رہا ہے۔

حالیہ تعلیمی تجربات میں ایک اور نکتہ قابلِ غور ہے، اور وہ یہ کہ ابتدائی درجات یعنی پہلے بنچ مارک میں اسلامیات اردو ریاضی اور انگریزی زبان کی تدریس کے ساتھ ساتھ جنرل نالج اور حتیٰ کہ سائنس جیسے مضامین کو بھی ضم کیا جا رہا ہے۔ اس طریقۂ تدریس کو بین العناوینی یا انضمامی نصاب کا نام دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ بچے زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ دین، سائنس، معاشرت، اور اخلاقیات کے ابتدائی تصورات سے بھی روشناس ہو جائیں۔ بظاہر یہ ایک مربوط اور فطری طرزِ تدریس معلوم ہوتا ہے، کیونکہ بچے کی سیکھنے کی صلاحیت موضوعات میں تقسیم کی محتاج نہیں ہوتی، وہ مجموعی ماحول سے سیکھتا ہے لیکن جب یہ تصور عملی صورت اختیار کرتا ہے تو اس میں کئی مسائل سر اٹھاتے ہیں۔ سب سے پہلے تو اساتذہ کی تیاری اور فہم کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا تمام اساتذہ اس قابل ہیں کہ وہ زبان کے ساتھ ساتھ دیگر مضامین کی تدریس بھی اس انداز میں کر سکیں؟ کیا ان کے پاس وہ تربیت موجود ہے جو انہیں انضمامی نصاب کو موثر طور پر پڑھانے کے قابل بنائے؟ پھر مواد کی تیاری وسائل کی فراہمی اور جائزے کے معیارات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہیں۔ ان سب سوالات کے جوابات دیے بغیر صرف تجربات کرنا بعض اوقات بچوں کے سیکھنے کے عمل کو الجھا دیتا ہے۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب واقعی ہمارے بچوں کو علمی، فکری اور اخلاقی ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے یا یہ محض ایک اور لفاظی، ایک اور کاغذی منصوبہ ہے؟ کیا یہ اصلاحات واقعی مساوات اور معیار کو فروغ دیتی ہیں یا صرف ایک مخصوص طبقے کو مزید آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں؟ تعلیم کو صرف نصابی تبدیلیوں سے بہتر نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ تبھی ممکن ہے جب ان تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تربیت، وسائل کی منصفانہ تقسیم، اور نچلی سطح پر شفاف عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

جب تک ہم تعلیم کو صرف پالیسی دستاویزات یا تجرباتی میدان سمجھتے رہیں گے، تب تک ہمارے بچے صرف تجربات کی بھینٹ چڑھتے رہیں گے۔ تعلیم کا مقصد صرف کتابیں پڑھانا نہیں بلکہ ایک سوچ، ایک فہم اور ایک کردار کی تشکیل ہے۔ اس کے لیے صرف نصاب نہیں، نیت، نکھار اور نگرانی بھی ضروری ہے۔ اگر ان سب پہلوؤں کو ایک ساتھ نہ دیکھا گیا تو نصاب کی یہ نئی کروٹ بھی محض ایک افسانہ ثابت ہو گی، جو سچ ہونے سے پہلے ہی خواب بن جائے گا۔

Facebook Comments HS