وزیراعظم کی مذاکراتی پیشکش: ایک جرات مندانہ پیغام


Emmanuel Neno

وزیراعظم شہباز شریف نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران جس انداز سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام دوطرفہ تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے، اور تجارت و انسدادِ دہشت گردی کے ضمن میں بھارت سے بات چیت کے لیے آمادگی کا اظہار کیا، وہ جنوبی ایشیا کے سیاسی ماحول میں ایک خوشگوار تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند ہے۔ تاریخی طور پر اس خطے میں الفاظ سے زیادہ اسلحہ حرکت میں آتا رہا ہے ؛ ایسے پس منظر میں ”پہل“ کرنا نہ صرف سیاسی جرات کا متقاضی ہے بلکہ عوامی مفاد میں دور اندیشی کا مظہر بھی ہے۔ وزیراعظم کا بیان بظاہر مختصر تھا، لیکن اس کے اثرات طویل المدت اور ہمہ گیر ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے تعلقات گزشتہ سات دہائیوں سے کشیدگی، جنگوں اور بھاری عسکری اخراجات کا شکار رہے ہیں۔ اس کشیدگی نے نہ صرف دونوں ممالک کے بجٹ کا بڑا حصہ دفاعی اخراجات میں کھپایا بلکہ غربت، ناخواندگی اور پسماندگی کو بھی مزید گہرا کیا۔ مذاکرات کی میز پر واپس آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک اپنے وسائل کو عوامی فلاح، تعلیم، صحت اور جدید انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر خرچ کریں۔ یہ فائدہ یک طرفہ نہیں بلکہ دونوں ممالک کے عوام کی ترقی اَور خوشحالی کے لئے ہو گا۔

یہ تصور کہ مذاکرات کی پیشکش کمزوری کی علامت ہے، اب فرسودہ ہو چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں سے لے کر یورپی یونین کے معاشی اتحاد تک، تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقتور اقوام جب بات چیت کا راستہ اختیار کرتی ہیں تو نہ صرف جنگ سے بچتی ہیں بلکہ ترقی کی دوڑ میں بھی سبقت حاصل کرتی ہیں۔ اگر یہی اصول جنوبی ایشیا اپنا لے تو یہ خطہ دنیا کی سب سے بڑی آزاد تجارتی منڈیوں میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

انسدادِ دہشت گردی پر تعاون کی پیشکش بھی محض رسمی بیان نہیں۔ دہشت گردی کی قیمت سب سے زیادہ پاکستان اور بھارت کے عوام نے چکائی ہے۔ سینکڑوں فوجی اور عام شہری شہید ہوئے، جب کہ معاشی نقصانات الگ ہیں۔ مشترکہ انٹیلی جنس نظام، بارڈر سکیورٹی ورکنگ گروپس اور انسدادی منصوبوں کے ذریعے نہ صرف دہشت گرد نیٹ ورکس کو کمزور کیا جا سکتا ہے بلکہ سرحد پار الزام تراشی کی سیاست کا خاتمہ بھی ممکن ہے۔

لہٰذا بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی اس پیشکش کو خلوصِ نیت پر مبنی دعوت سمجھے، دھمکی آمیز بیانات سے گریز کرے اور مذاکراتی عمل میں سنجیدگی سے شریک ہو۔ اگر شطرنج کی بساط پر پہلی چال فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے تو جنوبی ایشیا کی بساط پر پہلا ”دوستانہ قدم“ بھی دونوں ممالک کے لیے نہ صرف دفاعی حکمتِ عملی بلکہ معاشی سلامتی کی ضمانت بن سکتا ہے۔ امن اور ترقی کو دشمنی اور جمود پر ترجیح دینا ہی دورِ حاضر کی دانش مندی  ہے۔

Facebook Comments HS