سیاست اور پولی گرافی کا گٹھ جوڑ


پاکستان کی سیاست میں سچ اور جھوٹ کی تلاش، بالکل ایسے ہے جیسے دودھ میں سے بال نکالنا یا بال میں سے دودھ۔ دونوں کام یکساں طور پر لاحاصل محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ یہاں نہ دودھ خالص ہے، نہ بال اصلی۔

ایسے میں جب کسی سیاستدان کے بیان کو ”سچ یا جھوٹ“ کے معیار پر پرکھنے کی نوبت آ جائے، تو پولی گراف مشین کو خود پہلے کسی سائیکاٹرسٹ کے پاس لے جانا پڑتا ہے، تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار ہو کہ آگے جو جھوٹ سنے گی، وہ اس کے سرکٹ نہ جلا دے۔ جب قومیں ترقی کرتی ہیں تو وہ علم، تحقیق، اور دیانت کو سینے سے لگاتی ہیں۔ مگر جب قومیں تفریح اور تماشا بن جائیں تو وہ پولی گرافک ٹیسٹ کو عدالتی شہادت اور سیاسی فیصلے کا ذریعہ سمجھنے لگتی ہیں۔ اور یہی کچھ ہماری سیاسی تاریخ میں ہوتا آیا ہے۔ اب تازہ ترین قسط میں پیش کیا جا رہا ہے، عمران خان بمقابلہ جھوٹ کا پتہ لگانے والی مشین۔

پولی گرافک ٹیسٹ، جسے عوامی زبان میں ’جھوٹ پکڑنے والی مشین‘ کہتے ہیں، ایک ایسا آلہ ہے جو دل کی دھڑکن، سانس کی رفتار، اور پسینے کے بہاؤ کو ماپتا ہے، اور پھر اعلان کرتا ہے کہ جناب سچ بول رہے ہیں یا چورن بیچ رہے ہیں۔ سیاستدانوں کے لئے یہ مشین گویا وہ رشتہ دار بن گئی ہے جس کے سامنے سب کچھ کھل جاتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ رشتہ دار عدالت میں گواہی نہیں دے سکتا۔

اب آتے ہیں اس مشین کے ممکنہ شکار، یعنی سیاستدانوں کی طرف۔ تاریخ گواہ ہے کہ سیاستدان اگر سچ بولیں تو یہ اتفاقیہ ہوتا ہے، ورنہ عام طور پر ان کا سچ وہی ہوتا ہے جو اگلے دن کا بیان بدل کر نیا روپ دھار لے۔ ایسے میں اگر ہر بیان کے بعد پولی گراف ٹیسٹ کرایا جائے تو مشینیں کم پڑ جائیں، بجلی کا نظام بیٹھ جائے اور ملک کا آدھا بجٹ بیٹریوں پر لگ جائے۔

موجودہ صورتحال میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان صاحب کے خلاف 9 مئی کے واقعات پر مقدمہ چل رہا ہے، اور تجویز آئی ہے کہ ان کا پولی گرافک ٹیسٹ کیا جائے۔ خان صاحب کا کہنا ہے، ہم سیاستدان ہیں، مشینوں کے آگے نہیں جھکتے۔ ویسے بھی، ان کے مطابق جھوٹ وہی ہوتا ہے جو فائدہ نہ دے، اور یوٹرن وہی لیتا ہے جو عظیم لیڈر ہوتا ہے۔

اب ذرا عمران خان کی بات کر لیتے ہیں۔ 9 مئی کے واقعات کے بعد ان کے خلاف مختلف الزامات کی بوچھاڑ ہوئی، اور پولی گرافک ٹیسٹ کی تجویز بھی سامنے آ گئی۔ جواب میں عمران خان نے نرمی سے انکار کر دیا۔ شاید انہیں ڈر تھا کہ پولی گراف مشین کہیں ان کی ”سیاسی حکمتِ عملی“ کو جھوٹ سمجھ کر overload نہ ہو جائے۔

ویسے خان صاحب تو خود فرما چکے ہیں لیڈر وہ ہوتا ہے جو یوٹرن لے
فرض کریں خان صاحب یہ ٹیسٹ دے بھی دیں، تو مشین کے سامنے سوالات کچھ یوں ہوں۔
کیا آپ نے جلسے میں کہا تھا کہ بس اب فیصلہ کن مرحلہ ہے؟
کیا آپ کا بیان کہ میں کبھی معاف نہیں کروں گا ”قابل ترمیم ہے؟
کیا  آپ نے 9 مئی کے واقعات سے پہلے ’کسی‘ کو کوئی ’اشارہ‘ دیا تھا؟
کیا یوٹرن لینا دراصل ذہانت کی علامت ہے یا ذہنی دباؤ کا نتیجہ؟

یہ سوالات پوچھے جائیں گے اور مشین کی سوئی کبھی ہلے گی، کبھی نہ ہلے گی۔ بالکل ویسے ہی جیسے ہماری ریاستی پالیسیاں۔

یہاں پولی گراف بھی شاید کنفیوز ہو جائے
یہ جھوٹ ہے یا فلسفہ؟

یعنی اگر یوٹرن ”موقع پرستی“ ہے تو کیا ہر جھوٹ بولنے والا موقع شناس ہوتا ہے؟ اس منطق سے تو ہر وعدہ خلافی ایک ”پری پلانڈ پالیسی“ ہے، اور ہر بیان حلفی بس ایک وقتی جذباتی کیفیت!

اب رہی بات باقی سیاستدانوں کی۔ اگر ان سب کا پولی گرافک ٹیسٹ کروایا جائے، تو ملک میں جھوٹ کی اتنی زیادہ لوڈشیڈنگ ہو جائے گی کہ سچ والی لائن ہمیشہ ”ٹریپ“ میں رہے گی۔

ذرا تصور کریں۔
پولی گراف مشین سوال پوچھتی ہے، کیا آپ نے عوام سے وعدہ خلافی کی؟
سیاستدان جواب دیتا ہے :میں نے عوام کے مفاد میں بیانیہ بدلا
مشین چیختی ہے Truth Not Found ”

دنیا بھر میں، سیاستدانوں کا پولی گراف ٹیسٹ ایک دلچسپ مگر نازک تجربہ سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ میں کلنٹن سے لے کر ٹرمپ تک سب پر جھوٹ کے الزامات لگے، مگر پولی گراف کو ہمیشہ دور رکھا گیا۔ کیونکہ ان کے بیانات سچ سے زیادہ ”شو بزنس“ ہوتے ہیں۔ وہ سچ بولتے ہیں، مگر مختلف audience کے لیے مختلف وقتوں پر، مطلب وہ سچ بولتے ہیں۔ تھوڑا تھوڑا، حسب ضرورت۔

پاکستان میں اگر پارلیمنٹ کے ہر ممبر کو ہفتہ وار پولی گراف ٹیسٹ سے گزارا جائے، تو مشینیں کم پڑ جائیں گی اور جھوٹ اتنا عام ہو جائے گا کہ شاید سچ کو اقلیت کا درجہ دینا پڑے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے ووٹ کے ساتھ ساتھ ”پولی گراف سرٹیفکیٹ“ لازمی قرار دیا جائے گا۔ اور عوام کو بتایا جائے گا کہ یہ سیاستدان پچھلے تین ہفتوں سے لگاتار صرف 40 فیصد جھوٹ بول رہا ہے، لہٰذا قابلِ قبول ہے۔

سیاست اور سچ کا رشتہ ویسا ہی ہے جیسے کمرشل اشتہار اور اصل پراڈکٹ کا۔ خوبصورت دعوے، جھلملاتی روشنی، موسیقی، اور اندر سے کھوکھلا خالی ڈبہ۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے۔
پولی گراف مشین جھوٹ پکڑ سکتی ہے، مگر سیاستدان کی نیت نہیں۔
کیونکہ یہاں جھوٹ صرف بولا نہیں جاتا۔ پروفیشنل انداز میں پیکیج کیا جاتا ہے۔
اور جب ”جھوٹ“ ہی پالیسی بن جائے، تو ”پولی گراف“ سے زیادہ ”پبلک گراف“ نیچے جاتا ہے۔

تو اگلی بار اگر کسی سیاستدان کا پولی گراف ہو۔ تو مشین کے ساتھ ساتھ عوام کا بھی بلڈ پریشر چیک ضرور کیجیے گا۔

آخر میں گزارش ہے کہ اگر واقعی سیاستدانوں کا پولی گرافک ٹیسٹ لینا ہے تو پہلے مشین سے پوچھ لیں کہ وہ کتنا جھوٹ برداشت کر سکتی ہے، کیونکہ یہ جھوٹ عام قسم کا نہیں۔ یہ سیاسی جھوٹ ہے، جو وعدہ بھی کرتا ہے اور مکر بھی جاتا ہے۔

لہٰذا، مشورہ یہی ہے پولی گراف سیاستدانوں کے لئے نہیں، بلکہ عوام کے لئے بنایا جائے۔ تاکہ وہ ہر الیکشن سے پہلے اپنے ضمیر سے پوچھ سکیں پچھلی بار بھی یہی کہا تھا، پھر دھوکہ کیوں کھایا؟

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar