انسان اور جانور: بلوغت، فطرت اور اخلاقیات
استاذی فرماتے ہیں، ”انسان“ لفظ بڑی احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے، آدمی اور انسان میں فرق ہوتا ہے۔ آدم خوب سے سدھایا گیا ہو تو انسان بنتا ہے۔ اپنے اپنے دور کے حساب سے مذاہب، مفکرین، فلسفیوں نے ہر قدم انسانیت کو آگے بڑھایا، وگرنہ آدمی کی جبلت درندوں کی سی ہے ؛ انسان نے اس جبلت کو لگام ڈالی۔ فطرت کے اپنے اصول ہیں، جنھیں ہم آپ جانتے ہیں۔ فطرت سکھاتی ہے کہ کوئی ذی روح بلوغت کی عمر کو پہنچتے، نسل بڑھانے کا اہل ہو جاتا ہے ؛ مگر آج انسان اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ کم عمر، چاہے وہ جسمانی طور پر بلوغ کی عمر کو پا لے، لیکن ذہنی طور پر بالغ نہ ہو، اسے شادی کے بندھن میں نہ گھسیٹا جائے ؛ کیوں کہ وہ صحیح سے اپنی ذمہ داریوں سے آشنا نہیں ہوتا۔ کم از کم ہمارے سماج میں تیرہ چودہ پندرہ سال کے بچے بچیوں کی شادی ان کے ساتھ کیا گیا وہ ظلم ہے، جو انسان کو زیبا نہیں۔
پیڈو فیلیا، پولی گیمی وغیرہ یہ ابھی کل کی اصطلاحات ہیں، جنھیں طعنہ یا دشنام دینے کے لیے برتا جاتا ہے ؛ فطرت کے نظام میں یہ لا یعنی ہیں۔
آدم زاد جانوروں کے خاندان سے ہے، مزید درجہ بندی کریں تو گوشت خور یعنی درندوں میں شمار ہوتا ہے۔ ایک شیر، بکری کو چیر پھاڑ دے تو ”آدمی“ اس درندگی پر دل گرفتہ ہو جاتا ہے، مگر خود آدم زاد بکری ذبح کر کے کھائے تو حلال ہے ؛ وہ تہذیب یافتہ رحم دل انسان ہے، نا کہ درندہ، کیوں کہ آگ میں پکا کے، چھری کانٹے سے کھاتا ہے ؛ پھر اس کی چمڑی کی مصنوعات استعمال کرتا ہے، نا کہ شیر کی طرح باقیات کو وہیں پھینک کر آگے بڑھ جائے۔ شیر درندے اور آدم درندے میں فرق کیا ہے؟ آپ فرق تلاش کیجیے، میں آگے بڑھتا ہوں۔
سات سے دس مہینے کی کتیا بالغ ہوتی ہے، دس سال کا کتا اسے جیت لیتا ہے، مگر کوئی کتا یہ نہیں کہتا، دس سالہ کتا پیڈو فیلیا کی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے ؛ نہ سورنی کے پولی گیمی پر کوئی سور انگلی اٹھاتا ہے، کیوں کہ وہ قانون فطرت پر ہیں، نا کہ سوروں، کتوں کے بنائے فلسفوں پر۔
جبلت میں درندہ آدم زاد، صدیوں کے تجربوں سے گزر کے ایسے قوانین بناتا چلا آیا، جس میں آدم زاد کے لیے خیر ہو، اس کی درندگی قابو میں رہے، فلاح پا جائے۔ فرض کیجیے، زمانہ قدیم کی طرح سوئمبر رچایا جاتا، دو یا زائد نر ایک دوسرے کی جان کے در پے ہوتے، کیوں کہ مادہ کے حصول کا فطری طریق ہے تو آج بھی اس کے لیے خون خرابہ ہو رہا ہوتا اور قوت میں کم تر نر ہمیشہ نہیں تو اکثر محروم رہتا۔
پہلے وقتوں کی طرح فاتح، مفتوح کے حرم کو اپنے حرم میں شامل کر لیتا تو؟ کبھی جائز ہو گا، آج معیوب گردانا جاتا ہے۔ کل چنگیز خان کھوپڑیوں کے مینار بناتا تھا، ٹھیک تھا؛ اس وقت کا دستور یہی تھا، آج یہ عمل جنگی جرائم میں شمار ہو گا۔
آج نر اور مادہ کا اختیار تسلیم کیا گیا کہ من چاہے کو اپنا سکے ؛ فی زمانہ زور زبر دستی کرنے کو انسانی شرف سے خارج قرار دیا گیا ہے۔
فطرت کی مکمل نقالی میں سماجی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جیسے فطرت کے نظام کے بر عکس انسان نے رشتوں کی حرمت قائم کی، مگر دیگر جانوروں کے لیے یہ حرمت لا یعنی ہے۔ نر اور مادہ کے بلوغت کو پہنچتے اختلاط کی خواہش فطری ہے، لیکن انسان نے اس کی انتظامی خرابیوں کو پایا تو طے کیا، اس کی حوصلہ شکنی کی جائے ؛ کیا برا ہے؟ یہ بھی سچ ہے کہ کوئی سترہ سے اٹھارہ سال کا ہو کے ایک ہی رات میں اس درجہ ذہنی بلوغت کو نہیں پہنچ جاتا کہ شادی کے لائق ہو گیا، بلکہ ریاست نے ایک خاص عمر کی حد لاگو کر دی، ورنہ سماج میں ایسے ایسے ذہنی نا بالغ بھی ہوتے ہیں، جن کی عمریں ساٹھ ستر سال ہو جاتی ہیں۔
اس ساری بحث میں بنیادی سوال یہ ہے کہ انسان اور جانور میں کیا فرق ہے، جو انسان کو بھی فطرت/جبلت کے اصول نافذ کرنے پر اصرار ہو، جب کہ اس میں خیر کا امکان کم دکھائی دیتا ہے؟


