جون ایلیا: روشنی کا مسافر
فنکار وہ ہستی ہے جو اپنی رضا و رغبت سے خود کو اپنی ذات کی آگ میں جھونک دیتا ہے، اس لیے کہ دنیا کو روشنی میسر آ سکے۔ وہ دنیا باہر کی بھی مگر پہلے اپنے اندر کی۔ اسی لیے فنکارانہ سفر سپردگی، تنہائی اور داخلی کرب کی ایک طویل داستان ہوتا ہے۔ وہ اپنے باطن کے دکھ کو جمال میں ڈھال کر دوسروں کے لیے امید کا چراغ روشن کرتا ہے۔
جون ایلیا کی زندگی اس سچ کی مجسم تصویر تھی۔ وہ شخص جو بظاہر محفلوں کی جان تھا، درحقیقت اندر سے ایسے سکوت میں قید تھا جس کی گونج صرف اور صرف لفظوں میں سنائی دیتی ہے۔ اس کی شاعری اور نثر، دونوں میں وہی کرب، وہی تنہائی، وہی احتجاج پنہاں ہے۔
جون نے ایک جگہ لکھا:
”میں اس عہد میں جینے پر مجبور ہوں، جس سے میری فکری وابستگی نہیں۔ میری شکست دراصل میرے زمانے کی ہے۔“
یہ اقتباس جون کی فکری بیگانگی کا اعلان ہے۔ بیگانگی کا المیہ محبوب کے چھوڑ جانے تک محدود نہیں، بلکہ فکری خلا کا وہ پھیلاؤ ہے، جو اس نے اپنے گرد محسوس کیا۔ وہ وجود کے بنیادی سوالات سے الجھتا رہا، ان سے لڑتا رہا، اور اسی جنگ میں تحلیل ہوتا چلا گیا۔
اسی تناظر میں اس کا ایک اور جملہ دیکھیں :
”یہ زندگی ایک عادت ہے، جو ناپسندیدہ ہو چکی ہے، مگر چھوٹتی نہیں۔“
یہ ایک معمولی سی نثر نہیں، بلکہ پوری وجودی فلاسفی کا لب لباب ہے۔ جون کے ہاں زندگی محض جینے کا عمل نہیں، بلکہ ایک سوال ہے۔ وہ سوال جس کا جواب وہ خود بھی نہیں دے پاتا، مگر جواب کی تلاش میں جلتا رہتا ہے۔
جون کی تحریریں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ہم فنکار کی داخلی دنیا میں جھانکیں۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ فنکار وہ نہیں جو خوبصورتی پیدا کرے، بلکہ وہ بھی ہے جو اپنی ذات کی کھال اتار کر سچائی کی شکل دکھا دے :
”میں نے سب کچھ لکھا، مگر کبھی خود کو نہیں لکھا۔ اور یہی سب سے بڑا جھوٹ تھا۔“
اس اعتراف میں وہ سچ ہے جو اکثر فنکار کی زندگی میں دفن رہتا ہے۔ جون کے الفاظ ہمیں ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم فنکار کو اس کے فن سے جدا کر کے انصاف کر سکتے ہیں؟ کیا ہم اس شخص کو سمجھ سکتے ہیں جس نے اپنے اندر جہان بسائے، مگر دنیا کے لیے اجنبی رہا؟
جون ایلیا صرف شاعر یا ادیب نہیں، وہ اپنے عہد کا شعور تھا۔ اس کی نثر ہو یا نظم، دونوں میں داخلی آگ جلتی ہے۔ ایسی آگ جو خود کو جلاتی ہے اور دوسروں کے لیے روشنی پیدا کرتی ہے۔ اس لیے ہمیں فن ہی نہیں، بلکہ فنکار کی ذات، اس کے سوالات، اس کے تضادات، اور اس کی تنہائی کو بھی سننا ہو گا۔
کیونکہ شاید فنکار کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ اسے سراہا نہیں گیا، بلکہ یہ ہے کہ اسے سمجھنے کی کبھی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی گئی۔


