ابراہیمی فیملی ہاؤس اور ابراہیمی معاہدے
کیا اسرائیل اپنے دارالحکومت میں سیناگاگ کے ساتھ ایک مسجد تعمیر کرنے کی اجازت دے گا جس میں مسلمانوں کو آزادی اظہار و گفتار اور تبلیغ ہو؟ ہر گز نہیں۔
بانو قدسیہ اپنے ناول راجہ گدھ میں بتاتی ہیں کہ یہودی کیوں ساری دنیا سے ذہین اور چالاک ہیں۔ ان کی منصوبہ بندی اتنی تیز کیوں ہے کہ جس کی وقتی طور پر سمجھ ہی نہیں آتی؟ وہ ہے من و سلویٰ۔ اسی لئے ابھی مسلمانوں کو اس ابراہیمی فیملی ہاؤس کی تعمیر کی سمجھ بھی نہیں آئے گی۔ جب اس سے کوئی ٹھوس نقصان ہو گا تو پھر وہ ہاتھ ملتے رہ جائیں گے۔ ابراہیمی فیملی ہاؤس کیا ہے شاید اس کے بارے میں عام مسلمان آگاہ ہی نہیں ہے۔ یہ ایک خفیہ چال کی طرح کا منصوبہ ہے، اس ابراہیمی فیملی ہاؤس میں ابراہیمی مذاہب یعنی یہودیت عیسائیت اور اسلام کو حضرت ابراہیم ؑ کے زمانے سے جوڑنے کی سازش کی گئی ہے۔ لب لباب یہ بنتا ہے کہ یہ تینوں الہامی مذاہب کو اس وقت بھی ایک ہی مانا جائے کیونکہ یہ تینوں مذاہب حضرت ابراہیمؑ پر جا کر مل جاتے ہیں۔
اس ابراہیمی فیملی ہاؤس کے منصوبے کے مطابق ایک مسجد، ایک چرچ اور ایک سیناگاگ ( یہودیوں کی ) عبادت گاہ کو مذہبی ہم آہنگی کی تمثیل بنا کر ایک ہی جگہ تعمیر کیا جائے جس سے یہ ثابت کرنا مقصود ہو کہ تینوں ابراہیمی مذاہب ہیں اور ان میں کچھ فرق نہیں۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے متحدہ عرب امارات کا انتخاب کیا گیا کہ وہ خالص کاروباری لوگ بن چکے ہیں اور مسجد چرچ اور سیناگاگ تو کیا انہوں نے تو ہندوؤں کو خوش کرنے کے لئے مندر بنوا کر اس کا بھی افتتاح بھی کروا دیا۔ اسے غیر مسلموں کا ڈر کہیں یا دنیاوی کاروباری مفاد جس نے متحدہ عرب امارات کو مجبور کیا یا پھر کوئی اندرونی سیاسی و مذہبی مصلحتیں ہیں جو انہیں ایسا کرنے پر اکسا رہی ہیں؟
یہ ابراہیمی فیملی ہاؤس ابوظہبی کے ایک چوک پر ہے اور ہر ایک کے ساتھ ایک لمبا ستون کھڑا ہے جو بالترتیب ایک اسلامی ہلال، ایک مسیحی صلیب اور ایک یہودی شمع دان کو دکھا رہا ہے۔ اس ابراہیمی فیملی ہاؤس کو بظاہر بین المذاہب رواداری اور افہام و تفہیم کے لیے ایک بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے لیکن اس کی حقیقت کچھ اور ہی ہو گی کیونکہ بنی اسرائیل نے من و سلویٰ کھایا ہوا ہے۔
اس منصوبے کے افتتاح کی راہ پوپ فرانسس کے فروری 2019 کے متحدہ عرب امارات کے دورے سے شروع ہوئی، جہاں انہوں نے دنیا کے قدیم ترین اسلامی تعلیمی ادارے کے رہنما، الازہر کے عظیم امام احمد الطیب سے ملاقات کی۔ ان کی ملاقات ”انسانی اخوت کی دستاویز“ پر دستخط کے ساتھ ختم ہوئی، جس میں بین المذاہب تفہیم کو فروغ دینے کے لیے یہ ایک نیا شوشہ ابراہیمی فیملی ہاؤس کے نام پر چھوڑا گیا، مگر یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ جسے دنیا کی قدیم ترین اسلامی درس گاہ کا رہنما بنایا گیا اس نے باقی ساری دنیا کے علماء اور مفتیان کی مخالفت کے باوجود اپنی مرضی سے اس ابراہیمی فیملی ہاؤس کی منظوری بھی دے ڈالی۔ اس منصوبے کے خلاف شہنشاہیت والے ملک سعودی عرب کے علماء نے شاہ محمد بن سلمان کے سامنے اس سارے منصوبے کا کچا چھٹا کھول دیا اور اس کے ماننے والے کو بہت ہی سخت الفاظ میں اسلام مخالف قرار دے دیا۔ (بحوالہ سعودی فتویٰ ہاؤس )
سعودی فتویٰ ہاؤس کے مطابق یہ ابراہیمی مذاہب کی یک جہتی کا شوشہ سراسر اسلامی اصولوں کے خلاف ہے اور اسلام کے بنیادی عقائد کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ اس معاہدے کے ماننے سے اسلامی عقائد پر کاری ضرب پڑتی ہے۔ لیکن ان تمام آراء کو پس پشت ڈال کر متحدہ عرب امارات نے چار سال مسلسل محنت کر کے اپنے ہی اخراجات سے مسجد کلیسا اور سیناگاگ ایک ہی احاطے میں تعمیر کر ڈالے اور جمعرات 16 فروری 2023 کو باضابطہ طور پر اپنی سر زمین پر ”ابراہیمی فیملی ہاؤس“ کا افتتاح کر دیا۔
اب تصور کریں کہ جب ان عبادت گاہوں کو نئی کمسن نسل دیکھے گی تو اس کے دماغ میں سچ اور جھوٹ کا فرق ختم ہو جائے گا اور وہ اپنے راستے سے بھٹک جائے گی۔ متحدہ عرب امارات چونکہ اسلامی ریاست ہے اور مسلمانوں کی اکثریت ہے تو لا محالہ مسلمانوں کی نئی نسل ہی تمام دینوں کو بر حق تسلیم کرتے ہوئے اپنے دین سے منحرف ہو گی۔
اس کے ساتھ ساتھ سیاسی سطح پر ابراہیمی فیملی ہاؤس کو بنیاد بنا کر ابراہیمی معاہدات کیے گئے ہیں اور حالیہ دورہ سعودی عرب میں صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں بھی سعودی عرب کو مجبور کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان ابراہیمی معاہدات پر دستخط کر دے۔ یہ دونوں چیزیں ابراہیمی معاہدے اور ابراہیمی فیملی ہاؤس اصل میں ایک تیر کے دو نشانے ہیں۔ جو مذہبی بنیاد پر نہ مانیں وہ سیاسی معاہدے کو مان لیں تاکی اسرائیل کی وسعت اور اسرائیل کی حیثیت کو مانا جائے۔ اگر ابراہیمی معاہدات پر بھی ایک نظر ڈال لیں تو پھر اس سازش کی گہرائی کا کچھ اندازہ ہو جاتا ہے۔
ابراہیمی معاہدات 2020 ء میں اسرائیل اور کئی عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کیے گئے۔ یہ معاہدات بظاہر خطے میں امن، استحکام اور تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم قدم سمجھے جا رہے ہیں لیکن اصل میں یہ اسرائیل کی مضبوطی اور مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر فلسطین کی بربادی کا پیش خیمہ ہیں۔ ابراہیمی معاہدات کا آغاز متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کو معمول پر لانے سے ہوا۔ بعد میں سوڈان اور مراکش نے بھی اس معاہدے میں شمولیت اختیار کی۔ بادی النظر سے تو ان معاہدات کا مقصد سفارتی، اقتصادی اور ثقافتی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن اوپر والی چینی کی تہہ کے نیچے کڑوی گولی تھی کہ اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنا تاکہ اسرائیل اپنے سفارت خانے کھولنے اور سرکاری سطح پر ان ممالک میں گھس سکے، مذاکرات کی راہ ہموار کر سکے اور ان ممالک کو معاشی مفادات اور مالی فائدے کے جال میں پھنسا کر اپنا الو سیدھا کرے۔ باقی معاشی، معاشرتی، سیاسی اور ثقافتی ترقی اور تعاون کی باتیں فریب اور جھوٹ کا پلندا ہی ہوتی ہیں۔
ان معاہدات اور ابراہیمی فیملی ہاؤس کی تعمیرات کا سب سے بڑا فائدہ ابھی تک یہودیوں کو ہی ہوا ہے۔ اس اقدام نے متحدہ عرب امارات میں عرصہ دراز کے بعد یہودی زندگی بحال کر دی ہے۔ اور یہودیت کو مشرق وسطیٰ کی زندگی میں اس کے تاریخی مقام پر بحال کر دیا۔
1931 کے بعد سے اس خطے میں کوئی باقاعدہ عبادت گاہ تعمیر نہیں کی گئی تھی، لیکن ابراہیمی فیملی ہاؤس کے معاہدات کے تحت متحدہ عرب امارات کی حکومت نے تینوں عبادت گاہوں کی تعمیر کی اجازت دی بلکہ اس کے تمام اخراجات بھی ادا کیے، اور اپنے قومی دارالحکومت میں یہ کارنامہ انجام دیا۔ ایسا کیوں کر ہوا؟ متحدہ عرب امارات کی قیادت کے پس پردہ شاید داعش کی نظریاتی اساس کا خوف ہے یا اخوان المسلمون کے عالمگیر خیالات کا ڈر کہ ان کا مقابلہ اور توڑ کرنے کے لئے یہودیوں سے معاہدے کر کے اور ایک نئی طرز ڈال کر اپنی ہی اصل کو کمزور کرنے کی طرف جا رہے ہیں۔
عالمگیر سطح پر اور خاص طور پر اسلامی ممالک میں عوامی سطح پر یہ معاہدات سخت تنقید کا نشانہ بنائے گئے اور انہیں یکسر مسترد کر دیا گیا۔ اسلامی اسکالرز اور مذہبی رہنما ان معاہدات کو اسلامی اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہیں۔ مانا گیا ہے کہ یہ سب فسوں کاری فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے کے لئے ہے کیونکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے فلسطینیوں کے حقوق اور ان کے مطالبات کو نظر انداز کیا جائے گا۔ اسلامی دنیا میں فلسطین کو ایک مقدس مسئلہ سمجھا جاتا ہے، اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بعض حلقے اسلامی یکجہتی کے بھی خلاف تصور کرتے ہیں۔ عمومی طور پر یہ سمجھا اور مانا جا رہا ہے کہ یہ معاہدات امریکی اور اسرائیلی مفادات کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے ہیں، جبکہ عرب ممالک کو سیاسی دباؤ کے تحت ان میں شامل کیا گیا۔ کئی عرب ممالک میں عوامی سطح پر ان معاہدات کے خلاف مظاہرے بھی دیکھنے میں آئے ہیں، جہاں لوگوں نے انہیں اسلامی اقدار کے خلاف قرار دیا اور فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
یہود و نصاریٰ اور ہنود کی یہ روایت رہی ہے کہ انسانی اخوت کی دستاویزات پر مسلمانوں سے دستخط کروا کر یہ صرف مسلمانوں کو اپنے وعدوں کا پابند کرواتے ہیں خود اپنی خفیہ پالیسی کے مطابق ہی چلتے رہتے ہیں۔ 2023 میں اس بین المذاہب اخوت کی دستاویز پر یہودیوں اور عیسائیوں نے بھی دستخط کیے تھے مگر اس کے بعد غزہ کی بربادی اور فلسطینیوں کی نسل کشی ہو گئی۔ کیا وہاں یہ معاہدہ آڑے نہیں آیا؟
نہیں! اب بحرین، مراکش سوڈان کیوں اسرائیل کو نہیں روکتے کہ نہتے فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ نہ توڑے۔
کیونکہ مسلم ممالک کو کاروبار اور پیسے کا لالچ دے کر خاموش کروانا ہی اس بھاگ دوڑ کا مقصد اولیٰ ہے۔ اگر مغرب اور اسرائیل واقعی مذہبی رواداری کو فروغ دینا چاہتا ہے تو اپنے تمام ممالک میں متحدہ عرب امارات کی طرز پر ایک ہی مقام پر مساجد، گرجے اور سیناگاگ تعمیر کر کے دکھائے جہاں تمام مذاہب کو آنے جانے اور تبلیغ کی کھلی اجازت ہو! اسلاموفوبیا جس میں مغربی حکمرانوں نے اپنی عوام کو مبتلا کر رکھا ہے اسے ختم کرے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہو گا مسلمان پر ظلم بھی کیا جائے گا اور اسی کو برداشت اور صبر کی تلقین بھی کی جائے گی۔ اور اس صبر کی تلقین کرنے کے لئے ساتھی اسلامی ممالک کو بھی شامل کرنا ہی سب معاہدوں کا بنیادی اور مرکزی خیال ہو گا۔


