تحریک انصاف کی صفوں میں اندرونی بے چینی
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں جاری احتجاجی تحریک ایک نیا رخ اختیار کرتی جا رہی ہے۔ عمران خان کی رہائی کے لیے اُن کی بہن علیمہ خان، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈاپور اور دیگر اہم رہنما بھرپور انداز میں متحرک ہیں۔ آج اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر ہونے والا احتجاج بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا جہاں کارکنان اور قیادت نے یک زبان ہو کر اپنے قائد کے حق میں آواز بلند کی۔
علیمہ خان اور علی آمین گنڈاپور کی تقاریر نے شرکاء کا خون گرما دیا۔ دونوں رہنماؤں نے حکومت اور ریاستی اداروں پر کھل کر تنقید کی اور واضح پیغام دیا کہ عمران خان کے خلاف کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ تاہم احتجاج میں اُس وقت ایک غیر معمولی اور ڈرامائی موڑ آیا جب پی ٹی آئی کی خواتین کارکنان نے نعرے لگانے شروع کیے :
”خان کے غداروں کو ایک دھکا اور دو“
”جو لیڈرز وکٹ کے دونوں طرف کھیلتے ہیں، وہ غدار ہیں“
یہ نعرے صرف جذبات کا اظہار نہیں بلکہ تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ ان الفاظ سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ جماعت کے اندر دھڑے بندیاں، مفادات کی جنگ اور قیادت پر سوالات جنم لے رہے ہیں۔ تحریک انصاف جو کبھی ”نئے پاکستان“ کی امید تھی، آج خود احتسابی کے دوراہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف عمران خان کی غیر موجودگی میں رہائی کی تحریک، دوسری طرف صفوں میں دراڑیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جماعت اپنی داخلی کمزوریوں کو دور کر کے متحد ہو پائے گی؟
پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو فوری طور پر اس اندرونی بے چینی کا نوٹس لینا چاہیے بصورت دیگر یہ اختلافات نہ صرف پارٹی کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں بلکہ عمران خان کی سیاسی جدوجہد کو بھی کمزور کر سکتے ہیں۔ یہ وقت ہے کہ قیادت آگے بڑھے، مفاہمت کی راہیں تلاش کرے اور کارکنوں کو ایک بار پھر متحد کرے ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ”ایک دھکا اور دو“ کا نعرہ، پارٹی کی بنیادوں کو ہی ہلا دے۔

