اک بات کا فسانہ


پاکستان میں ٹرکوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر اشعار اور مزاحیہ جملے لکھوانے کا رجحان بہت انوکھا اور دلچسپ ہے۔ ٹرکوں پر ڈیزائن بنوانے کی روایت اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ اب ٹرک آرٹ کے نام سے باقاعدہ ایک ہنر وجود رکھتا ہے۔ آج کل لاہور میں آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن کا بڑا چرچا ہو رہا ہے۔ اس ایپ کی تشہیر کا انداز بڑا نرالا اور قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے طریقہ یہ اپنایا ہے کہ مختلف موضوعات پر مزاحیہ جملے لکھ کر انہیں رکشوں کی پشت پر آویزاں کر دیا ہے۔ زیادہ تر جملے وہی ہیں جو کبھی ٹرکوں پر لکھے نظر آتے تھے اور آج کل رکشوں پر نظر آ رہے ہیں۔ یعنی ٹرکوں سے رکشوں پر زمانے نے جملوں کو دے مارا۔

ایسے ہی آج ایک رکشے کی پشت پر آویزاں جملہ نظر سے گزرا کہ ”دل میرا 2 جی بی، غم میرا 32 جی بی“

بظاہر یہ جملہ کوئی خاص معنویت نہیں رکھتا اور عین ممکن ہے کہ کثرت سے پڑھے جانے کے سبب اپنا مزاحیہ پن بھی کھو چکا ہو مگر عمیق نظری سے دیکھا جائے تو اپنے اندر معانی کا ایک جہاں چھپائے ہوئے ہے۔ پہلی پرت پر اس کا مزاحیہ پن ہم پر وا ہوتا ہے کہ کیسے اپنے مسائل کو ٹیکنالوجی سے منسلک کرتے ہوئے لطف پیدا کیا گیا ہے۔ غم زدہ ہونا انسانی فطرت ہے مگر اسے اپنے اوپر حاوی کیے رکھنا خود ساختہ نظریہ۔ اگر سب لوگ اسی طرح غم کو ہنسی کے ساتھ بھلاتے جائیں تو عین ممکن ہے کہ معاشرے سے پاگل پن (نفسیاتی مرض) ختم ہو جائے۔ دوسری سطح پر یہ جملہ پاکستانی قوم کا مزاج سامنے لاتا ہے کہ پاکستانی لوگ چاہے کتنے ہی مصائب کا شکار کیوں نہ ہوں، قہقہے لگانا اور مشکلات میں سے مزاح کا پہلو نکالنا ان کو خوب آتا ہے۔ مئی کے آغاز میں جب پاک بھارت جنگ کے امکانات قوی ہوتے جا رہے تھے اور یہ خدشہ لاحق ہو چلا تھا کہ ایک بڑی جنگ مسلط ہونے والی ہے، پاکستانی memes بنانے والوں نے بڑی ہوشیاری سے ایسی ایسی شوخیاں دکھائیں کہ انگریز تک تعریف کرنے پر مجبور ہوئے۔ یہی رویہ اس جملے سے سامنے آتا ہے کہ چاہے مصیبت کتنی بھی بڑی کیوں نہ ہو اس کو برداشت کرنے کا واحد راستہ مسکرانا ہے۔

تیسری سطح پر یہی سادہ سا جملہ سماجی جبریت پر دلال ہے کہ کیسے معاشرہ ان لوگوں کو ستم کا نشانہ بناتا ہے جو زندہ رہنے کی بھی جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔ مزدور طبقے کا مسئلہ جنگیں، آئی ایم ایف کے معاہدے یا اقوام متحدہ میں کی جانی والی تقریریں نہیں ہیں بلکہ ان کا مسئلہ دو وقت کی روٹی، ایک چھت اور تن ڈھانپنے کے لیے چند گز کپڑا ہے۔ وہ اس کوشش میں تمام عمر گزار دیتے ہیں کہ ایک بار اچھا کھانا کھا سکیں اور اعلیٰ معیار کا کپڑا پہن سکیں۔ انہیں لٹھے کا سفید کپڑا نصیب تو ہوتا ہے مگر مرنے کے بعد ۔ منشی پریم چند نے جب ”کفن“ میں سماج پر طنز کیا تھا تو ان کے پیشِ نظر بھی زندگی میں میسر نہ آنے والی خوشیوں کا مرنے کے بعد پورا ہونا تھا۔

چوتھی سطح پر یہ بے معنی جملہ حیرت انگیز طور پر تمام غموں کو مٹانے کے ذرائع کو سامنے لاتا محسوس ہوتا ہے۔ ہمارے موبائل یا کمپیوٹر میں جب میموری سپیس کا مسئلہ ہوتا ہے تو ہم میموری ایکسٹینشن (ایس ڈی کارڈ/ ایس ایس ڈی) سے اس مسئلے کو دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس جملے پر غور کیا جائے تو یہ بھی میموری سپیس کے مسئلے کی بات کر رہا ہے۔ یعنی غموں کا بوجھ بہت زیادہ ہو گیا ہے مگر دل اتنی سکت نہیں رکھتا کہ تمام ستم کا بوجھ اٹھا سکے۔ اس بوجھ کو کم کرنے اور ذہنی دباؤ کو دور کرنے کا واحد راستہ میموری ایکسٹینشن کے ذریعے میموری سپیس میں اضافہ کرنا ہے۔ انسانی سطح پر دوست میموری ایکسٹینشن کا کام دیتے ہیں۔ اگر کوئی ایسا دوست میسر آ جائے جو ہماری تکالیف کو سنے اور دو بول تسلی کے کہہ دے تو اس کا مطلب میموری ایکسٹینشن مل گئی، بوجھ ہلکا اور دباؤ کم ہوا۔ کسی مصنف نے جب کہا تھا کہ ”دوستوں کے ساتھ موت بھی جشن ہے“ تو اس نے بھی میموری ایکسٹینشن کی ہی بات کی تھی۔ مگر جدید دور کے انسان کا المیہ یہ ہے کہ اسے کوئی ایسا کندھا میسر نہیں آتا جو سہارا بن سکے۔ ہر شخص اپنی زندگی میں اس قدر مصروف ہو گیا ہے کہ اسے بعض اوقات اپنا بھی ہوش نہیں رہتا، دوسروں کا خیال وہ کیونکر رکھ سکے گا۔ جب کوئی دوست میسر نہیں آتا تو آدمی ہر اس شخص کو اپنا مسیحا خیال کرنے لگتا ہے جو اس سے ہنس کر بات کرے۔ انسان کی اس حالت کو خورشید رضوی کا شعر بڑی عمدگی سے سامنے لاتا ہے کہ:

دو حرف تسلی کے جس نے بھی کہے اس کو
افسانہ سنا ڈالا تصویر دکھا ڈالی

جب انسان اپنی کہانی سنا دیتا ہے تو سامنے والا اسی کہانی کو اپنا ہتھیار بناتے ہوئے، کہانی سنانے والے کو اپنا مطیع بنانے کے طریقے ڈھونڈتا ہے۔ یہی ہمارا المیہ اور یہی ہمارا مقدر ہے۔

Facebook Comments HS

علی حسن اویس

علی حسن اُویس جی سی یونی ورسٹی، لاہور میں اُردو ادب کے طالب علم ہیں۔ ان کا تعلق پنجاب کے ضلع حافظ آباد سے ہے۔ مزاح نگاری، مضمون نویسی اور افسانہ نگاری کے ساتھ ساتھ تحقیقی آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

ali-hassan-awais has 78 posts and counting.See all posts by ali-hassan-awais