جادوئی چھڑی عرف گھریلو ملازمین
پاکستان آتے ہی ہر قدم پھونک پھونک کر اٹھانا پڑتا ہے۔ زبان کو تالہ لگانا پڑتا ہے کہ مبادا کوئی ایسی بات کہہ دوں جس سے یہ سننے کو ملے، ”باہر والوں کا دماغ خراب ہوتا ہے۔“ لہذا اپنی پالیسی تو یہی ہے کہ آنکھیں، زبان، اور کان بند رکھے جائیں۔ فوکس صرف پکے پکائے کھانے، دھلے دھلائی استری شدہ لان کے جوڑے، اور صاف ستھرے کمرے پر رکھا جائے جس میں ہماری اپنی محنت عنقا ہوتی ہے۔ اگر اس انجوائے مینٹ کی مشقت سے تھک جائیں تو دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق کرنے کسی ریستوران میں چلے جائیں۔ لاہور کی زندہ دلی کو دل کھول کر جئیں۔ یعنی ایک اینٹرٹینمنٹ سے اگلے مزے کا راستہ کاٹا جائے۔ آفٹر آل، انسان مغرب سے اپنے وطن آتا ہی کیوں ہے؟
موج مستی کرنے، بابا۔
شاید یہاں جادو کی چھڑی ہے جو یکبار سب منظر ہرا بھرا کر دیتی ہے۔ بیٹھے بٹھائے کھانا بن جاتا ہے۔ کپڑے دھل بھی جاتے ہیں اور استری ہو کر الماری میں بھی آ جاتے ہیں۔ گھر خود بخود چم چم کرنے لگتا ہے۔ اسی آٹومیٹک نظام کی برکت سے ہمارے پاس اتنا وقت بھی نکل آتا ہے کہ نوکریاں اور کاروبار کرنے کے باوجود شام کو دوستوں کے ساتھ مل کر گپیں بھی ہانک لیں۔ روغنی نان کے ساتھ گرما گرم بٹ کڑاہی بھی انجوائے کریں۔
بچپن میں ہمیں دیو مالی داستانوں سے خاصی رغبت تھی۔ اپنا آپ شہزادی لگتا تھا اور پوری دنیا جادو کے دم پر چلنے والے ونڈرلینڈ کا سماں لگتی تھی۔ پریاں ہماری سہیلیاں تھیں جو دکھائی نہیں دیتی تھیں لیکن پلک جھپکتے ہی ہمیں اپنی جادوئی چھڑی کے زور پر سنڈریلا بنا دیتی تھیں۔ بڑے ہوئے تو علم ہوا کہ نہ ہمارے شہزادی ہونے میں کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی جادوئی چھڑی کے یکبار چمتکار میں۔
کچھ بھی ہو نہیں جاتا۔ کرنا پڑتا ہے۔
اسی منطق کے پیش نظر دل کو یہ ماننا ہو گا کہ ہمارے گھروں میں بھی جادوئی چھڑی کا وجود نہیں۔ کھانا خود بخود نہیں پکتا۔ کپڑے خود بخود نہیں دھلتے۔ گھر خود بخود صاف نہیں ہوتا۔ پاکستان اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک میں ایک بڑی تعداد کے گھر گھریلو ملازمین ہیں جن کا تعلق محض غریب نہیں بلکہ خاصے غریب طبقے سے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا گھر چھوڑ کر آپ کے گھر آ بستے ہیں۔ آ کر رہنا نہ بھی شروع کریں تو دن کا بیشتر حصہ آپ کے گھر گزارتے ہیں۔ دن رات کام کرتے ہیں۔ کئی تو ہفتہ وار چھٹی بھی نہیں لیتے کہ نہ تو ہر وقت گھر جانے کے پیسے ہیں اور نہ ہی اجازت۔ آپ ہی کی اترن پہنتے ہیں اور آپ کا بچا کھچا کھانا صبر شکر سے کھاتے ہیں۔
گھر کے کام ہو نہیں جاتے۔ کرنے پڑتے ہیں۔
ان میں ایک کثیر تعداد ان خواتین کی ہے جو کئی گھروں میں کام کرتی ہیں۔ گھر جا کر اپنے گھر کا کام بھی کرتی ہیں۔ تنخواہ نکھٹو شوہر کے حوالے کرتی ہیں۔ ہر سال ایک بچہ پیدا کرتی ہیں۔ یہ وہی خواتین ہیں جو جب کام سے چھٹی کریں تو پورا گھر ہل جاتا ہے کہ آج گھر کی ڈسٹنگ کیسے ہو گی۔
اول تو ہم ان مزدوروں سے نظریں چراتے ہیں جیسے یہ ہیں ہی نہیں۔ ان سے ڈیل کرنے کی تمام تر ذمہ داری خاتون خانہ پر ڈال دیتے ہیں۔ اور اگر کبھی ان سے بات کر بھی لیں تو یقیناً انہیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں۔ انکار کرنا آپ کا حق ہے۔ لیکن حقیقت سے کیسی پردہ داری؟ اگر گھر سلام میں پہل نہ کرے تو اس کا دماغ خراب ہونے پر سو سو باتیں کرتے ہیں۔
اچھا سوری، ہال میں کئی آوازیں بلند ہو رہی ہیں کہ ہمارے ہاں شیر اور بکری ایک گھاٹ سے پانی پیتے ہیں۔ ہم نے فلاں ملازمہ کی بیٹی کی شادی میں جہیز دیا۔ ڈرائیور کے بچے کی میٹرک کے امتحان کی فیس دی۔ مالی کی چھت ٹپکنے پر اسے مرمت سے پیسے دیے۔ چوکیدار کے پتے کے آپریشن کے لیے اس کی مالی مدد کی۔
ارے واہ، کمال کر دیا۔ اس بات پر تالیاں تو بنتی ہیں۔
اچھا یہ بتائیے کہ اس خیرات کی نوبت ہی کیوں آئی؟ آپ کے گھر میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہ مزدور کی بنیادی تنخواہ سے کم کیوں ہے؟ انہیں آپ کی طرف سے علاج معالجے کی بنیادی سہولت کیوں میسر نہیں ہے؟ ان کے کام کے اوقات اس قدر طویل کیوں ہیں کہ وہ وقت سے پہلے بوڑھے ہو رہے ہیں؟ کیا یہ خیرات آپ کے دل کی تقویت اور برتری کی نیت سے ہے یا آپ واقعی اس قدر دریا دل ہیں؟ کیا آپ کے گھر کے ملازمین آپ کے برابر ہیں؟ اگر آپ کا بیٹا کل کو ملازمہ کی بیٹی سے بیاہ کی خواہش کرے تو کیا آپ اسے ہنسی خوشی گھر کی بہو بنا کر لائیں گے؟
جواب کا علم آپ کو بھی ہے اور ہمیں بھی۔ لہذا سوال پر ہی اکتفا کریں گے۔ سچ یہی ہے کہ ہمارے ہاں گھروں میں کام کرنے والوں کو نہ تو بنیادی معاوضہ دیا جاتا ہے اور نہ ہی بنیادی عزت۔ ڈرائنگ روموں میں بیٹھ کر انسانی حقوق پر بلند و بانگ دعوے کھوکھلے ہیں اگر آپ اپنے گھروں میں کام کرنے والوں کو انسان سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اگر کسی کی غربت آپ کو نظام کی ناکامی سے زیادہ اس کا ذاتی فعل لگے تو آپ بھی اس ظلم میں برابر کے حصے دار ہیں۔
ہم میں سے اکثر لوگ اسی لیے چین کی زندگی گزار رہے ہیں کہ ہمارے گھر کوئی اور سنبھالے بیٹھا ہے۔ یہ ہر لحاظ سے اپنی محنت کے برابر معاوضے اور عزت کے حقدار ہیں۔ اگر ہم پیدائش کے حادثے کے نتیجے میں نسبتاً متمول گھروں میں پیدا ہو گئے ہیں تو اس میاں ہمارا کوئی کمال نہیں۔ انسانی حقوق کا اطلاق تمام انسانوں پر یکساں ہونا چاہیے۔
کبھی کبھی جی چاہتا ہے پھر سے بچپن میں چلے جائیں۔ پریوں کی کی کہانیاں سنیں۔ اور ڈھیروں آئس کریم کھائیں۔
یہ بھلا کوئی زندگی ہوئی جس میں پریاں اور چاند سے اجلی جادوئی چھڑی ہی نہیں ہے؟ ناٹ فیئر!



Very true