یومِ تکبیر اور ایٹمی پاکستان: کون ہے اصل ہیرو؟


28 مئی 1998۔ ایک ایسا دن جب دنیا کو اندازہ ہوا کہ پاکستان اب محض نظریاتی ریاست نہیں، بلکہ ایک ایٹمی طاقت بھی ہے۔ یہ صرف یومِ تکبیر نہیں، یومِ توقیر بھی تھا۔ دنیا بھر کے ٹی وی چینلز پر دھماکوں کی گونج، بھارت کی بوکھلاہٹ، اور پاکستانیوں کی آنکھوں میں چمک۔ ایک خواب تھا جو پورا ہوا۔ مگر سوال یہ ہے : یہ خواب کس نے دیکھا اور کس نے ایک طویل جدوجہد، اس پر انتھک محنت کی؟ یہ کہانی نہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ہے، بلکہ ان گنت گمنام سائنسدانوں، انجینئرز، ٹیکنیشنز اور افسروں کی بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ وہ نام جو آج بھی کتابوں میں نہیں، مگر تاریخ کے اوراق ان کے مقروض ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ جب پاکستان نے ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا، اس وقت وسائل کی حالت یہ تھی کہ پرزے خریدنے کے لیے کبھی چین کے چکر، کبھی یورپ کے ویزے۔ ایک آلہ کہیں سے، دوسرا کہیں اور سے۔ نیوکلیئر سینٹری فیوجز کے لیے پرزے پاکستان نے آدھی دنیا سے خفیہ طریقے سے خریدے۔ فرضی کمپنیاں بنیں، ڈپلومیٹک بیگز استعمال ہوئے، اور سائنسدانوں کو شناخت چھپا کر کام کرنا پڑا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کردار سب سے نمایاں رہا، مگر وہ اکیلے نہ تھے۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند، ڈاکٹر عشرت حسین، اور انجینئر محمد نذیر جیسے کئی unsung heroes نے دن رات ایک کر دیے۔ جنرل مشرف تو بعد میں مشہور ہوئے، لیکن جنرل ضیاء کے دور میں بنیاد رکھی گئی، اور پھر جنرل وحید کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت اور آئی ایس آئی کے بے نام افسران نے اس خواب کی حفاظت کی۔

اور پھر آئے نواز شریف۔ جنہوں نے ایٹمی دھماکوں کا سیاسی فیصلہ کیا۔ امریکی دباؤ، دھمکیاں، لالچ سب کچھ تھا۔ کلنٹن صاحب پانچ فون کالز اور پانچ ارب ڈالر تک لے آئے، مگر نواز شریف نے کہا: ”نہیں، یہ وقت جھکنے کا نہیں۔“ نواز شریف کا یہ فیصلہ اگر نہ ہوتا تو شاید آج ہم ہر دوسرے ہفتے بھارتی جارحیت کا شکار ہوتے۔ یہ دھماکے صرف ایک بٹن دبانے کا عمل نہیں، بلکہ حوصلے، ویژن اور قومی خودداری کا مظاہرہ تھے۔

اب آتے ہیں یوتھیوں کی طرف۔ جنہیں آج بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ کریڈٹ کس کو دیں۔ کبھی کہتے ہیں بھٹو نے بنیاد رکھی، کبھی فوج نے بچایا، اور کبھی عمران خان کو تھما دیتے ہیں ڈاکٹر قدیر سے ہاتھ ملاتی ایک تصویر کی صورت ڈاکٹر اے کیو خان کے ساتھ عمران خان کی ایک تصویر شیئر کر کے انصافی ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی گانے میں صرف تال پر ناچنے سے وہ بھی ”ہیرو“ بن گئے۔ حالانکہ جب ایٹمی پروگرام چل رہا تھا، تب خان صاحب لندن میں سنوکر، سوٹ اور سوشلائٹ لائف میں مصروف تھے۔ وہ اس وقت پاکستان کی سیکیورٹی سے بے خبر خوبرو دوشیزاؤں کی صحبت میں مدہوش تھے۔ ان کلٹ کے فالوورز کا اس خوشی اور افتخار کے اہم موقع پر نیا منجن یہ بھی ہے کہ ”یہ تو عوام کے پیسوں سے بنا ہے، کسی سیاستدان کو کریڈٹ کیوں دیں؟“ بھئی بجا فرمایا، مگر عوام کا پیسہ تو اور بھی بہت سے کاموں میں لگتا ہے، فرق فیصلہ کرنے والوں کے ویژن اور جرات میں ہوتا ہے۔

یہ ایک ایسا قومی منصوبہ تھا جس میں سیاستدان، فوج، سائنسدان اور بیوروکریٹس سب ایک پیج پر تھے۔ یہی اتحاد تھا جس نے ہمیں دنیا کے ان سات ممالک کی فہرست میں شامل کیا جن کے پاس ایٹمی طاقت ہے۔ اور بھارت؟ وہ آج بھی 28 مئی کا دن یاد کر کے تلملا اٹھتا ہے۔ دھماکوں کے صرف گیارہ دن بعد واجپائی لاہور آ گئے، اور تب سے اب تک پاکستان سے جنگ کا سوچتے ہوئے بھی ہچکچاتے ہیں۔

یومِ تکبیر صرف ایک دن نہیں، ایک پیغام ہے۔ کہ ہم آزاد ہیں، خودمختار ہیں، اور اپنے دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یہ دن ہمیں اتحاد، محنت، اور قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن افسوس، ہم اس دن کو بھی سیاسی کریڈٹ کی جنگ میں جھونک دیتے ہیں۔ ٹی وی چینلز پر ایک دن کی ٹرانسمیشن، اور پھر اگلے دن ہم واپس معمول پر آ جاتے ہیں۔ الزامات، گالیاں، اور دھاندلی کے بیانیے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ اگر یہ پروگرام فیل ہو جاتا، یا امریکہ کا دباؤ مان لیا جاتا، تو ہم کہاں کھڑے ہوتے؟ کشمیر، کارگل، یا آج کا بلوچستان۔ ہر مسئلے پر ہم بلیک میل ہوتے۔

ایٹمی طاقت ہونا صرف اسلحہ رکھنا نہیں، یہ ایک ذہنی حالت ہے۔ ایک عزم ہے کہ ہم کسی کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ یہ عزم ہمیں یومِ تکبیر سے ملا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر بعد میں الزامات بھی لگے، نظر بند بھی کیے گئے، مگر قوم آج بھی انہیں سلام کرتی ہے۔ وہ ہمارے ”اوپنہائمر“ تھے، مگر زیادہ محب وطن، زیادہ سادہ، اور زیادہ خالص۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ صرف ایک ”پروجیکٹ“ نہیں تھا، بلکہ ایک قومی غیرت کا اظہار تھا۔ ہمیں اپنے ان سب ہیروز کو یاد رکھنا چاہیے۔ بھٹو، نواز، اے کیو، ثمر، اور ہزاروں گمنام سپاہی۔ عمران خان کا بھی وقت آئے گا جب ان کے اپنے کاموں پر قوم فیصلہ کرے گی۔ لیکن فی الحال تو یہ بات مان لو کہ ایٹمی پروگرام میں ان کا کردار ”مہمان اداکار“ سے زیادہ نہیں۔

تو یومِ تکبیر پر سب کو چاہیے کہ واٹس ایپ تصاویر اور نعرہ بازی سے آگے بڑھ کر تاریخ کو صحیح تناظر میں سمجھیں۔ یہ دن صرف دھماکوں کا دن نہیں۔ یہ فیصلہ سازی، قربانی اور ویژن کا دن ہے۔ اور اگر واقعی قوم کچھ کرنا چاہتی ہے، تو ڈاکٹر عبدالقدیر کی زندگی، ان کے خواب اور ان کے اخلاص سے سیکھیں۔ شاید کوئی نیا تکبیر پھر سے سننے کو مل جائے، اس بار علم، ٹیکنالوجی اور اتحاد کے محاذ پر۔

پاکستان زندہ باد۔

Facebook Comments HS

انیس فاروقی، کینیڈا

انیس فاروقی ایک منجھے ہوئے جرنلسٹ، ٹی وی ہوسٹ، شاعر اور کالم نگار ہیں، اور کینیڈا میں مقیم ہیں۔

anis-farooqui has 27 posts and counting.See all posts by anis-farooqui

One thought on “یومِ تکبیر اور ایٹمی پاکستان: کون ہے اصل ہیرو؟

  • 29/05/2025 at 8:36 صبح
    Permalink

    درست کہ گم نام ہیروز لاتعداد ہیں۔ لیکن ظاہر ہے چوں کہ یہ ایک ٹیم کی کامیابی تھی اور یوں ہر ٹیم کی ٹرافی ایک کپتان یا لیڈر کے سر سجائی جاتی ہے بے شک اس کا اس ٹورنامنٹ یا آخری کامیابیوں میں کوئی کردار نہ بھی ہو تب بھی۔ یوں قوم یہ ٹرافی ڈاکٹر قدیر کے سر ڈالتی ہے جس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
    لیکن یہ جو آپ نے لکھا :
    نواز شریف کا یہ فیصلہ اگر نہ ہوتا 

    حضرت اگر یہ فیصلہ نہ ہوتا تو وہ بھی نہ ہوتے۔ لیکن اس کے بعد جس بے ڈھنگے طریقے سے ملک کے مالیاتی معاملات کو سنبھالا گیا وہ ایک الگ تماشہ تھا۔ اب تو رات گیہ بات گئی۔

    لیکن دو نام ایسے ہیں جن ہیں ہم یاد بھی نہیں رکھتے اور جنہوں نے شروع میں جو کردار ادا کیا اس کی انہیں بہت بڑی قیمت چکانی پڑی اور ہم دونوں مرحومین کو بھول بیٹھے ہیں اور شاید جس طرح آپ نے لکھا ہم جان بھی نہ سکیں۔

    ایک مرحوم بی سی سی آئی بنک کے آغا حسن عابدی اور دوسرے سیٹھ عابد۔۔۔۔

Comments are closed.