مذہبی طبقے کا ”برانڈ ٹائیکون“ مولانا طارق جمیل بمقابلہ روایتی تبلیغی جماعت

مولانا طارق جمیل کا ایک چھوٹا سا وائس نوٹ آج کل خاصا وائرل ہے، اسے بغور سننے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ تبلیغی جماعت اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی ہے۔ مولانا کی آئیڈیالوجی سے اختلاف اپنی جگہ پر، لیکن جو باتیں کر رہے ہیں وہ خاصی حد تک درست ہیں، جماعت کے اندر جو روایتی طبقہ ہے وہ مولانا کی سوشل میڈیائی شہرت سے خاصا خائف ہے، یہ طبقہ مولانا کے لش پش والے اسٹائل کو تبلیغ کی روح کے منافی خیال کرتا ہے۔
روایتی طبقے کا خیال ہے کہ مولانا طارق جمیل تبلیغ کی بجائے ”سیلف پروجیکشن“ کی علت کا شکار ہو چکے ہیں، عوام میں اپنا ”ذاتی شخصی اورا“ قائم کرنے کے لیے بیانات میں غلو یا مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں جن کا خمیازہ مختلف سوشل میڈیائی میمز کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے اور مخالفین انہی کے بیان کے مختلف حصوں کو کاٹ کر اپنے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ روایتی بزرگوں کا خیال ہے کہ طارق جمیل تبلیغی پلیٹ فارم کو ذاتی شہرت کے لیے استعمال کر رہے ہیں، حکمرانوں کے در پر جانا، مختلف سوشل و بزنس ٹائیکون کی سماجی تقریبات میں شریک ہو کر بیان کرنا ایسے عوامل ان کی نظر میں ذاتی نمود و نمائش کے زمرے میں آتے ہیں جو تبلیغی اصولوں کے منافی ہیں۔ خاص طور پر عمران خان کے معاملے میں مولانا نے ایکسٹرا مائل جا کر تبلیغی جماعت کا پلیٹ فارم استعمال کرتے ہوئے عوامی رائے پر ڈائریکٹ اثر انداز ہونے کی کوشش کی جو ایک مبلغ کو زیب نہیں دیتا۔ تبلیغ کا مقصد تو ”انکلوڈنگ آل“ ہوتا ہے نا کہ سنگل آؤٹ کرنا، روایتی طبقے کے خیال میں ایسا کرنا عوام میں تقسیم کو جنم دیتا ہے اور مولانا کے اس عمل سے یہی کچھ برآمد ہوا بھی۔
رہی سہی کسر ارشاد بھٹی والے انٹرویو نے پوری کر دی، جس میں مولانا نے معروف تبلیغی دستاویز ”فضائل اعمال“ پر واضح موقف اختیار کرتے ہوئے اس میں درج شدہ واقعات پر عدم اعتماد کا اظہار کر دیا، روایتی طبقے کی نظر میں یہ عمل ناقابل تلافی نقصان کا موجب بنا ہے، چونکہ یہ کوئی آج کا نصاب تھوڑی ہے اس کی تعلیم تو ایک طویل عرصے سے جاری ہے۔
اب مولانا ایک جاگیر دار طبقہ کے چشم و چراغ ہیں، منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہوئے والے اور ایک عام بندے کے درمیان زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، طبقاتی تقسیم انسانوں کی بنیاد پر نہیں ہوتی بلکہ دولت اور سرمایہ کی بنیاد پر ہوتی ہے اور یہی طبقاتی کشمکش انسانی رویوں میں بھی رچ بس جاتی ہے۔ اسی لیے تو مولانا کو سرمایہ داروں کا مبلغ کہا جاتا ہے، اب اگر مولانا اپنے ذاتی اسٹیٹس اور تبلیغ کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں تو یہ ان کا معاملہ ہے، ان کے خیال میں دنیا کے چھ براعظموں تک تبلیغ کی صورت میں ان کی آواز کا پہنچنا ان کی امارت اور مرتبے کا حسین امتزاج ہے بھلے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اب یہ تصور کرنا کہ روحانی و مذہبی تربیت کسی مالدار کو اس کے سماجی مرتبے سے بے نیاز کر دیتی ہے تسلیم کرنا تھوڑا مشکل سا معاملہ ہے، دنیا داری کا جادو تو سر چڑھ کے بولتا ہے جناب! بلکہ سماجی مرتبے کی بدولت دین و دنیا دونوں نکھر جاتی ہیں۔ والدین وطن عزیز میں وعظ و نصیحت کرتے رہتے ہیں جبکہ ان کے بچے باہر کی یونیورسٹیوں میں دنیاوی مرتبے کو مضبوط بنانے میں لگے ہوتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ خوشحالی انسان کو نکھار دیتی ہے اور ایسا شخص دقیانوسیت سے نکل کر جدید تقاضوں کو اپنانے لگتا ہے۔ مولانا اس فلسفے کی تہہ میں اتر گئے۔ Time and tide wait for none اور فکری اشنان کے بعد اس حقیقت کا گیان حاصل کیا کہ سوشل میڈیائی بنے بنا گزارہ نہیں، اگر ہم نے مسجد کے منبر کو ڈیجیٹل منبر میں نہ بدلا تو ہم داستانوں میں ملیں گے۔ اسی حقیقت کی بدولت وہ بلندیوں کی انتہا تک پہنچ گئے جبکہ تبلیغی جماعت کے روایتی بزرگوں کو کوئی جانتا تک نہیں ہے چہرہ شناسائی تو بہت دور کی بات ہے۔ سیانے کہتے ہیں Two of a trade seldom agree
حسد و رشک یا تعصب انسانی فطرت کا حصہ ہے، اگر یہ علتیں کسی بھی روپ میں مذہبی فکر میں بھی سرایت کرنے لگیں تو اصلاحی فلسفے پر سوال کھڑے ہو جاتے ہیں، دنیا کا کوئی فلسفہ من کی کدورتیں صاف کرنے کا دعویٰ نہیں کرتا سوائے مذہب کے، اگر ہمارے محترم و مکرم علماء کرام من کی کدورتوں اور حسد سے نجات حاصل نہیں کر پائے تو وہ دوسروں کے لیے مثال یا حجت کیسے بنیں گے؟
سب سے بڑا سوال تبلیغی جماعت پر کھڑا ہوتا ہے کہ 1926 سے قائم ہونے والی اس جماعت نے معاشرے میں کیا مثبت کردار ادا کیا ہے؟ چلیں مان لیتے ہیں کہ تعداد میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان میں سے کام کے کتنے ہیں اور وہ سماج میں تخلیق و تحقیق کی صورت میں اپنا کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ اس قدر طویل جدوجہد و ریاضت کے عوض اگر ہم اپنے سماج کو اس قدر بھی دیانتدار نہیں بنا پائے کہ یہاں کم از کم انسانی زندگی بچانے والی ادویات ہی ہمیں خالص نصیب ہو پاتیں جو کہ دستیاب نہیں ہیں تو پھر اس طویل مدتی سفر کا کیا حاصل ہوا؟ جو محض اپنے منافع کے لیے انسانوں کو خوراک کی صورت میں زہر کھلانے سے اجتناب نہیں کرتے وہ بھلا خوف خدا کو من کی گہرائیوں میں کیسے جذب کر سکتے ہیں جس کی محنت بقول تبلیغی جماعت سالہا سال سے جاری ہے؟ لاکھوں کے اجتماع تو ضرور منعقد ہوتے ہیں، لاکھوں ہاتھ بھی نجانے کب سے ہدایت کے لیے بلند ہو رہے ہیں لیکن چند ہزار بھی ایسے سامنے نہیں آئے کہ جن پر معاشرہ رشک کرتا کیوں؟
علماء کرام کے لیے موجودہ دور کا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ لوگوں میں مذہبی رجحانات کیوں کم ہونے لگے ہیں؟ لوگوں کی ایک کثیر تعداد مذہب بیزاری کی طرف کیوں مائل ہو چکی ہے؟ کہیں اس بیزاری کا سبب وہ خود تو نہیں ہیں؟ اگر وہ خود ہیں تو اس کا حل بھی انہیں ہی ڈھونڈنا ہو گا۔ علماء کرام کو وجہ دریافت کرنے کی ضرورت ہے۔

