شادی یا کانٹوں کی سیج
تقریباً شام کا وقت تھا۔ عدالت کی دیواروں سے کہیں زیادہ سناٹا اُس لڑکی کے اندر تھا جو اپنی بوڑھی والدہ کے ساتھ خاموشی سے میرے آفس میں داخل ہوئی۔ چہرے پر بلا کا سکون، مگر آنکھوں میں وہ طوفان جو صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس کا بھروسا شادی کے نام پر توڑ دیا جائے۔
”میرا نام رابعہ ہے وکیل صاحب۔ نکاح کے بعد سسرال کا رویہ بدل کیوں جاتا ہے“ ؟
میں نے سر اُٹھا کر اسے دیکھا۔ سادہ لباس، ماتھے پر ہلکا پسینہ، چہرے پر وقت کی گرد۔ اُس کی آواز میں نہ شکایت تھی نہ شکوہ، صرف ایک سوال تھا:
”کیا عدالت اس نکاح کے بعد کے بدلتے رویوں کا بھی کوئی فیصلہ کرتی ہے؟“
میں لمحہ بھر خاموش رہا۔ دل نے کہا: ”نہیں۔“
لیکن پیشہ، ضمیر اور انسانیت نے کہا: ”اگر کہانی سچ ہو تو ہر عدالت کو سننا پڑتا ہے۔“
رابعہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ باوقار لڑکی تھی۔ لاہور کے ایک بڑے ہسپتال سے میڈیکل ٹیکنالوجی کا کورس کر رکھا تھا جبکہ اس کا شوہر ایک گارمنٹس فیکٹری میں سپروائزر تھا۔ نکاح سے پہلے کے خوابوں میں اُس کے سسرال والے اسے بیٹی بنا کر گھر لانے کے دعوے کرتے رہے۔ انھوں نے یہ بھی وعدہ کیا تھا کہ شادی کے بعد اگر وہ نوکری کرنا چاہے تو کر سکتی ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ مگر نکاح کے دن کے بعد جو رویے اُس نے دیکھے، وہ کسی عذاب سے کم نہ تھے۔
رابعہ کو مناسب خرچ نہ دیا جاتا۔ شادی کے تین ماہ بعد رابعہ کے کزن کی شادی پر بھی اسے ولیمے پر جانے نہ دیا گیا کہ اس کے شوہر کو چھٹی نہیں ملی حالانکہ رابعہ کی خواہش تھی کہ بارات والے دن وہ اپنی امی کے ہاں رہ لے گی مگر اس کا شوہر اسے واپس لے آیا۔ اس کے بعد رابعہ نے جب جاب کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اسے یہ کہہ کر روک دیا گیا کہ ”ہمارے خاندان میں لڑکیاں نوکری نہیں کرتیں“ ۔ رابعہ بیچاری چپ کر گئی۔ اسی دوران اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ڈاکٹر نے نیا مہمان آنے کی خوشخبری سنائی۔ کچھ دن تو گھر کا ماحول اچھا رہا پھر وہی روایتی لڑائی جھگڑے۔ طعنے ”یہ کوئی انوکھا بچہ پیدا کر رہی ہے، ہم نے بھی بچے پیدا کیے ہیں“ ۔ رابعہ ایک دن اپنے شوہر کے ساتھ والدین کے گھر ملنے گئی۔ دو گھنٹے بعد ہی شوہر واپس لے آیا حالانکہ رابعہ ایک رات وہاں رکنا چاہتی تھی۔ سسرال کے گھر کا ماحول دن بدن کشیدہ ہوتا گیا۔ ساس کے طعنے، نندوں کی چبھتی باتیں، شوہر کی بے رخی، اور اُس پر بھی جب رابعہ نے عزت بچانے کی کوشش کی، تو کہا گیا:
”تمہیں گھر میں ہی رہنا ہو گا جو مناسب ضروریات ہیں وہ پوری ہوتی رہیں گی۔“
رابعہ نے یہ سب سہا۔ اس امید پر کہ شاید وقت کے ساتھ سب کچھ بہتر ہو جائے گا۔
لیکن وقت نہیں بدلا، صرف زخموں کی گنتی بڑھتی گئی۔ ایک روز رابعہ کی اپنی نند کے ساتھ تکرار ہوئی۔ شام کو اس کا شوہر گھر آیا۔ اچھا بھلا موڈ تھا۔ بہن کے کمرے میں ملنے گیا وہیں اس کی والدہ بھی تھیں۔
رابعہ بیڈ شیٹ درست کر رہی تھی کہ اچانک اس کا شوہر غصے سے کمرے میں داخل ہوا اور رابعہ کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے اپنی بہن کے کمرے میں لے گیا۔ ابھی رابعہ کی بات بھی نہ سنی کہ جب شوہر نے سب کے سامنے اسے تھپڑ مار کر کہا:
”اس گھر میں اگر رہنا ہے تو میری ماں اور بہن کی عزت کرنا ہو گی!“
آج اخیر ہو چکی تھی۔ اُس دن اُس نے فیصلہ کیا کہ اب خاموش رہنے کا گناہ نہیں کرے گی۔
اس کی پوری کہانی سن کر میں اس نتیجے پر پہنچا کہ غلطی بھلے رابعہ کی ہی تھی ممکن ہے کہ وہ لڑاکا بھی ہو مگر کسی شوہر کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی بہن کے ساتھ لڑائی کی وجہ سے پورے خاندان کے سامنے اپنی بیوی کو جسمانی ٹارچر کرے۔ رابعہ کا بھائی بضد تھا کہ اب ہم نے اپنی بہن کو ان کے گھر نہیں بھیجنا۔ ہمیں خلع ہی چاہیے۔
میں نے عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ خلع کے ساتھ جسمانی تشدد اور اُس رشتے کی پامالی کا بھی الزام تھا جس کا نام نکاح ہے اور جسے ہمارے معاشرے میں صرف رسموں کی گٹھری سمجھا جاتا ہے۔
سماعتیں ہوئیں۔ رابعہ کا شوہر ذرا ہچکچاہٹ کا شکار تھا کیونکہ ان کا پہلے کبھی عدالت کچہری واسطہ نہیں پڑا تھا۔
ان کی طرف سے بھی دلائل دیے گئے :
”نکاح تو ہوا، ساتھ رہ رہے تھے، خرچہ بھی دے رہے ہیں“
لیکن میں نے عدالت کے سامنے وہ جملے رکھے جو رابعہ کے ذہن میں روز گونجتے تھے :
”نکاح صرف جسمانی ساتھ نہیں، بلکہ روحانی احترام بھی ہے۔ اگر بیوی کو بیوی کا درجہ نہ دیا جائے، تو وہ نکاح فقط ایک سودا بن جاتا ہے۔“
سماعتوں کے دوران ایک روز رابعہ اپنے بھائی کے ساتھ عدالت آ رہی تھی کہ ان کی بائیک کیچڑ میں پھسلی جس وجہ سے رابعہ گر گئی۔ انھیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں کی بھرپور کوشش کے باوجود رابعہ کی کوکھ میں پلنے والی نئی روح جانبر نہ ہو سکی۔ اس کے ایک ماہ بعد سماعت ہوئی۔ سماعت کے بعد میں نے دونوں فریقین کو اپنے آفس بلایا۔ رابعہ نے رو رو کر اپنی روداد سنائی۔ اس کا شوہر اسے گھر لے جانے کو تیار تھا میں نے بھی مشورہ دیا مگر رابعہ نہ مانی۔ اس کے بھائی نے کہا اگر الگ گھر میں رکھیں تو ہم بھیجنے کو تیار ہیں۔ بہت سی باتیں ہوئیں مگر ہماری تمام تر کوششیں بے سود گئیں۔ اگلی پیشی پر جج صاحبہ نے میری طرف دیکھا۔ میں نے تمام احوال سے آگاہ کیا۔ پھر انھوں نے میرے فاضل دوست کی جانب دیکھا انھوں نے میری بات کی تائید کی۔ جج صاحبہ نے رابعہ سے پوچھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ کاش میں یہ مقدمہ ہار جاؤں مگر رابعہ اڑ گئی اور اس نے بیان دیا کہ وہ اس شخص سے اب نفرت کرنے لگی ہے۔
عدالت میں کچھ لمحوں کے لئے خاموشی تھی لیکن وہ خاموشی فیصلہ بن چکی تھی۔
فیصلہ آیا:
”عدالت نے خلع کی ڈگری جاری کر دی۔
اپنا دامن سمیٹتے ہوئے رابعہ عدالت سے نکلی تو اُس کی آنکھوں میں سکون تھا۔ مجھے کہنے لگی:
”بھائی جان: انصاف صرف جیت کا نام نہیں، وہ آئینہ ہے جس میں میں نے پہلی بار خود کو عزت سے دیکھا ہے۔“ :
نکاح کے بعد کے بدلے رویے آج ہمارے معاشرے کی خاموش عدالتوں میں بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہ کہانی رابعہ کی نہیں، ان سب عورتوں کی ہے جنہیں صرف بیوی کا لقب دے کر انسانیت سے محروم کیا جاتا ہے۔


