آن لائن رشتہ
خرم شہر سے ہٹ کر ایک چھوٹے سے مکان میں مقیم تھے۔ مکان چھوٹا تھا مگر اس کی خاموشی بے حد پُراثر۔ دیواروں پر وقت کی پرچھائیاں، دریچے سے آتی دھوپ کی لکیر، اور نیم کے پیڑ پر بیٹھا ایک تنہا کوا سب اُن کے ساتھی تھے، جیسے زندگی نے اب لفظوں کی بجائے سکوت میں پناہ لی ہو۔
کہنے کو وہ سبکدوش ہو چکے تھے مگر اصل سبکدوشی اُنہیں لوگوں کے جذبات کی ملازمت سے ملی تھی۔
اب ان کی فرصتیں اُن مشینی رشتوں کی فہرست تیار کرنے میں صرف ہوتیں جو کبھی ان کے گرد جیتے جاگتے چہروں کے ساتھ جُڑے تھے اور اب فقط تصویر اور تحریر کی شکل میں باقی تھے۔
کبھی کبھار وہ دل بہلانے کو فیس بک پر پرانی ساتھیوں کی جھلک دیکھ لیتے، وہی ”بہنیں“ جو کبھی سلام دعاؤں اور شکریے کے پیغام بھیجا کرتی تھیں اور اب صرف ”آن لائن“ دکھائی دیتی تھیں، گفتگو میں نہیں۔
ایک دن ایک تصویر پر نگاہ پڑی۔ ایک لڑکی نے اپنے منہ بولے بھائی کی سالگرہ پر تحریر لکھی:
”تم نہ ہوتے تو میرا کون ہوتا؟“
نیچے تبصرے، رنگ برنگے دل، مسکراتے چہرے، اور کچھ آبدیدہ شکلیں۔
خرم نے چشمہ درست کیا، چائے کی چسکی لی اور آہستگی سے بولے
اب رشتے صرف کمنٹس میں بچتے ہیں، نہ خون کا رشتہ، نہ وقت کا ساتھ، بس سوشل ثبوت۔
انہیں وہ دن یاد آیا جب بینک کی نئی بھرتی لڑکی نے کہا تھا
”سر، آپ میرے بھائی جیسے ہیں“
اور وہ ہولے سے مسکرا دیے تھے
بی بی، میں کسی کا ”جیسے“ نہیں ہوں۔ میں خرم ہوں۔ بھائی وہ ہوتا ہے جس کا رشتہ یا تو خون سے جُڑا ہو یا قانون سے۔
یہ جملہ کہنے میں انہوں نے نہ سختی برتی، نہ تذلیل، بس ایک تجربہ بولا جو جذبات کی راکھ میں چھپا ہوا تھا۔
صائمہ یاد آئی، وہ جو خوبصورت نہیں تھی مگر اُس کی باتوں میں کوئی سادہ سا جادو تھا۔
ایک دن اُس نے بھی بھائی کہا اور دوسرے دن کسی اور کی زندگی کی شریک بن گئی۔
خرم نے اُسی دن سمجھا، کچھ رشتے دیوار کی مانند ہوتے ہیں، فاصلہ رکھنے کے لیے، تحفظ کا دکھاوا دینے کے لیے۔
بینک کے وہ دن خواب لگتے ہیں۔ ندیم، جو ہر دوسری بات میں ”خرم بھائی، آپ نہ ہوتے تو۔“ کہتا، اب بیرونِ ملک بیٹھا ”بھائی“ کہہ کر کسی اور کو تصویر میں ٹیگ کرتا ہے۔
سائرہ، جو ہر عید پر مبارکباد اور دعائیں بھیجا کرتی، شادی کے بعد جیسے فہرست سے ہی نکل گئی۔
خرم نے ایک نوٹ بُک میں رشتوں کا حساب رکھنا شروع کیا:
منہ بولا بھائی نمبر 1 : ندیم۔ فائدہ اُٹھا کر غائب
منہ بولی بہن نمبر 2 : سائرہ۔ مسلسل پیغامات، پھر اچانک خاموشی
ہر نام کے سامنے ایک خانہ جس میں وہ الفاظ درج کرتے :
اعتماد: کم، مستقل مزاجی: ناپید، یادداشت: یک طرفہ۔
پھر ایک دن بیٹے نے اطلاع دی
ابّو، ندیم انکل نے فون کیا تھا، بینک کی پرانی ٹیم کی ری یونین ہے۔
خرم نے کھڑکی کے باہر دیکھا، نیم کے پتوں کی سرسراہٹ میں ایک آشنا تنہائی بول رہی تھی
بیٹا، ری یونین اُن کا ہوتا ہے جو کبھی واقعی جُڑے ہوں۔ ہم تو ایک ہی منزل پر کام کرتے تھے۔ دلوں میں ایک دوسرے کے لیے کبھی جگہ نہیں بنی۔
رات کو چھت پر بیٹھے، انہوں نے چائے کے آخری گھونٹ کے ساتھ آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے بدستور خاموش تھے۔
وہ خود سے گویا ہوئے :
”انسانوں کے رشتے بھی اگر کلاؤڈ پر محفوظ ہوتے تو ایک بٹن دباتے سب کچھ بحال ہو جاتا۔ مگر افسوس! انسان ڈیجیٹل بیک اپ نہیں ہوتے۔“
وہ دھیرے سے مسکرائے اور خالی پیالی کو دیکھتے ہوئے کہا
منہ بولا رشتہ، نام ہی کافی ہے۔ نہ پائیداری، نہ دِل داری، بس وقتی نوٹیفیکیشن۔
خرم کے دنوں کا سب سے بڑا چیلنج تھا: ”سوشل میڈیا پر رشتہ داری کو سمجھنا اور اسے اپنی نوٹ بک میں ٹھیک سے درج کرنا۔“
”یہ سوشل میڈیا بھی کیا چیز ہے؟“ وہ اپنے آپ سے بار بار کہتے، ”یہاں رشتہ وہ ہے جو لائک کے سائز سے ناپا جاتا ہے، اور جذبات کی گہرائی کو کمنٹ کی تعداد سے پرکھا جاتا ہے۔“
خرم کو یاد آیا کہ جب وہ بینک میں تھے، تو لوگ اصل میں ایک دوسرے کو جانتے تھے۔ اب، ان کے فیس بک فرینڈز کی فہرست ایسی لگتی تھی جیسے ”ہائی اسکول کی ری یونین میں شامل تمام طلبہ“ ، جن میں سے ستر فیصد نام اور چہرہ بھی بھول چکے ہوں۔
نوٹ بک میں لکھا:
”فرینڈ: وہ جو ہر پوسٹ پر لائک کرے۔
فالوور: وہ جو صرف اسٹوری دیکھے۔
ریلیشن شپ: وہ جو آپ کو ٹیگ کرے، مگر کبھی کال نہ کرے۔ ”
بیٹے نے کہا، ”ابو، آپ کے لیے ایک ڈیجیٹل مینٹیننس پلان ہونا چاہیے، ورنہ یہ رشتے بھی کرپٹ فائلوں کی طرح خراب ہو جائیں گے!“
خرم نے ہنستے ہوئے جواب دیا:
”بیٹا، اگر رشتے بیک اپ ہو جاتے، تو میں ہر صبح Restore Previous Version دبا دیتا!“
خرم نے فیس بک پر ایک پوسٹ دیکھی جس میں کسی لڑکی نے لکھا تھا:
”بھائی جی، آپ میرے لیے ایمرجنسی کانٹیکٹ ہیں۔“
نیچے تبصرہ ملا:
”ایمرجنسی! بھائی ہے یا پولیس نمبر؟“
خرم نے کہا، ”یہ تو عجیب ہے، اب رشتہ داری نہیں بلکہ ایمرجنسی کی بات چل رہی ہے!“
سائرہ، جو شادی کے بعد تقریباً گم ہو گئی تھی، اچانک آن لائن آئی۔ خرم نے نوٹ بک نکالی اور لکھا:
”سائرہ۔ حالت: ری ایکشن فاسٹ، مطلب پوسٹس پر جلدی لائک، مگر ذاتی میسجز پر ٹائپنگ۔ ہی رہنا۔“
خرم نے مسکرا کر کہا:
”یہ سوشل میڈیا کی سپارکنگ چیزیں ہیں، جو اصلیت سے زیادہ چمکتی ہیں۔“
ندیم کی کال آئی۔ خرم صاحب نے کہا:
”ندیم، تمہارے ری یونین کا مطلب ہے کہ تم نے مجھے کبھی فالو نہیں کیا، اب کیوں یاد آیا؟“
ندیم ہنس کر بولا:
”یار، زندگی میں کبھی کبھی ’ریفریش‘ کی ضرورت ہوتی ہے!“
خرم نے دل ہی دل میں کہا، ”ریفریش تو میں نے کئی بار کیا، مگر یہ رشتہ اب لوڈنگ کی حالت میں ہے۔“
خرم نے غور کیا کہ آج کل لوگ اپنے جذبات کو سٹیٹس کے ذریعے ظاہر کرتے ہیں :
”مصروف ہوں، مگر ویسے بھی آپ کے میسج کا انتظار نہیں کر رہا۔“
”خوش ہوں، مگر اس لئے کہ سوشل میڈیا پر دکھانا ہے۔“
نوٹ بک میں لکھا:
”سٹیٹس بدلتے رہتے ہیں، لیکن رشتے اکثر پینڈنگ رہ جاتے ہیں۔“
رات کو چھت پر بیٹھے چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے، خرم نے کہا:
”بیٹا، انسان رشتوں کا بوجھ اٹھائے تو ٹھیک، ورنہ یہ سوشل میڈیا کی دنیا میں فالو اور انفالو کا کھیل ہے۔“
بیٹے نے جواب دیا:
”ابو! آپ کے رشتے کلاؤڈ میں محفوظ نہیں، لیکن آپ کی باتیں میرے دل میں محفوظ ہیں۔“
خرم نے نوٹ بک میں آج یہ نیا سیکشن شامل کیا:
”پوسٹ، کمنٹ اور حقیقی رشتہ“
ایک پوسٹ تھی:
”یادیں وہ خزانہ ہیں جو دل میں محفوظ ہوتی ہیں، نہ کہ فیس بک پر۔“
نیچے کمنٹس میں ایک دوست نے لکھا:
”یادیں محفوظ ہیں، مگر دوست کہاں ہیں؟“
خرم نے چائے کی پیالی ہاتھ میں لے کر کہا:
”یہی تو۔ دوست بھی ڈجیٹل ہیں اور یادیں اینالاگ۔“
خرم کھڑکی کے پاس جا بیٹھے۔ باہر شام اتر رہی تھی، دن بھی اب تھک چکا تھا، شاید کچھ رشتے بھی۔
انہوں نے ایک گہری سانس لی، پھر آہستہ کہا:
”بیٹا، کبھی کبھی لگتا ہے زندگی واقعی ایک اسٹوری ہے مگر بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں ڈیلیٹ نہیں کیا جا سکتا۔
بس! انہیں خاموشی سے آرکائیو کر لیا جاتا ہے جہاں وہ یادوں کی فہرست میں بغیر نوٹیفکیشن کے
ہمیں اندر ہی اندر دیکھتے رہتے ہیں۔ ”
بیٹا خاموش ہو گیا۔ اس لمحے انسٹاگرام کی روشن اسکرین مدھم پڑ گئی
خرم کی بات ایک ایسے کیپشن کی طرح گونجی جسے پڑھ کر دل سوائپ اپ نہیں کرتا بس کچھ دیر کے لیے ٹھہر جاتا ہے۔


