برین ڈرین: کہیں ہمارے پاس صرف خواب ہی نہ رہ جائیں
پاکستان میں آج کل سب سے زیادہ بحث جس موضوع پر ہو رہی ہے، وہ ہے نوجوانوں کا بیرون ملک جانا۔ لیکن کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ صرف نوکری کی تلاش نہیں، بلکہ ایک خاموش سانحہ ہے جو ہمارے ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہا ہے؟
گزشتہ سال 2024 میں پاکستان سے تقریباً 8 لاکھ افراد نے ہجرت کی، جن میں سے اکثریت تعلیم یافتہ نوجوانوں کی تھی۔ یہ وہ لوگ ہیں جن پر ہم نے کروڑوں روپے خرچ کر کے انجینئرنگ، میڈیکل، اور آئی ٹی کی تعلیم دی۔ آج یہی لوگ کینیڈا، آسٹریلیا، جرمنی اور دوسرے ممالک میں جا کر وہاں کی ترقی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔
میرے ایک دوست نے کہا تھا، ”یہاں کام کرنے والے کو کام نہیں ملتا، اور کام نہ کرنے والے کو عہدے مل جاتے ہیں۔“ یہ بات کتنی تلخ ہے، لیکن کتنی سچی بھی۔ ہمارے یہاں میرٹ کی جگہ سفارش نے لے لی ہے، اور قابلیت کی بجائے رشتہ داری اور جان پہچان کام آتی ہے۔
لاہور کے ایک انجینئر احمد علی نے مجھے بتایا، ”میں نے یہاں تین سال نوکری تلاش کی، لیکن جب بھی انٹرویو میں گیا تو پوچھا گیا کہ تمہارا کون سا رشتہ دار یہاں کام کرتا ہے؟“ آخر کار وہ جرمنی چلا گیا اور اب وہاں ایک بڑی کمپنی میں کام کر رہا ہے۔
یہ صرف نوکری کا مسئلہ نہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ، مہنگائی کی مار، قانون اور نظام کی خرابی، اور بدامنی کے حالات نے ہمارے نوجوانوں کو مایوس کر دیا ہے۔ کراچی کی ایک ڈاکٹر فاطمہ خان نے کہا، ”میں یہاں اسپتال میں 40 ہزار ماہانہ کماتی تھی، لیکن کینیڈا میں اسی کام کے 4 لاکھ ملتے ہیں۔ پھر وہاں زندگی کا معیار اور بچوں کے لیے بہتر مستقبل بھی ہے۔“
لیکن کیا ہمیں احساس ہے کہ یہ فرار ہمارے ملک کو کیا نقصان پہنچا رہا ہے؟ جب کوئی ڈاکٹر باہر جاتا ہے تو وہ صرف اپنے ساتھ اپنا علم ہی نہیں لے جاتا، بلکہ وہ تمام سرمایہ کاری بھی ضائع ہو جاتی ہے جو ہم نے اس کی تعلیم پر کی تھی۔
سب سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ نوجوان واپس آنا چاہتے ہیں۔ میرے تجربے میں بہت سے پاکستانی جو بیرون ملک رہ رہے ہیں، وہ واپس آنے کو تیار ہیں، بشرطیکہ یہاں انہیں مناسب مواقع اور محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں؟ سب سے پہلے تو حکومت کو نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ آئی ٹی سیکٹر میں بہت امکانات ہیں، لیکن انٹرنیٹ کی رفتار اور بجلی کی عدم دستیابی جیسے مسائل حل کرنے ہوں گے۔
دوسری بات یہ کہ ہمیں میرٹ کے نظام کو بحال کرنا ہو گا۔ جب تک سفارش کا راج رہے گا، قابل لوگ یہاں سے جاتے رہیں گے۔ تیسری بات یہ کہ تعلیمی اداروں میں بہتری لانی ہوگی تاکہ ہمارے نوجوان عملی زندگی کے لیے تیار ہو سکیں۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہو گا کہ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اگر ہم واقعی اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔
وقت ابھی ہاتھ سے پوری طرح نہیں گیا، لیکن تیزی سے نکل رہا ہے۔ اگر ہم نے فوری طور پر قدم نہ اٹھائے تو وہ دن دور نہیں جب ہمارے پاس صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جو کہیں اور جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
پاکستان کا مستقبل اس کے نوجوانوں میں ہے، لیکن نوجوان صرف اُسی ملک میں رہتے ہیں جہاں انہیں عزت، موقع اور امید ملے۔ ورنہ ایک دن ہمارے پاس واقعی صرف خواب رہ جائیں گے، اور کوئی حقیقت نہیں

