ن م راشد اور کالا جادو


ہمارے استادِ محترم علم و ادب کی کہکشاں کے وہ روشن ستارے ہیں جن کے دامنِ فکر سے فصاحت و بلاغت کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ ان کی صحبت میں بیٹھنا گویا الفاظ کی بزم میں شریک ہونا ہے۔ ان کی گفتگو ایسی خوشبو ہے جو سننے والے کے ذہن و دل کو معطر کر دیتی ہے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی کی دبیز تہہ تو ضرور ہے، مگر اس تہہ کے نیچے مزاح کی چمکدار لکیر بھی چھپی ہوتی ہے، جو وقتاً فوقتاً جھلک دکھاتی ہے۔

ایک روز استادِ محترم ایک نہایت سنجیدہ طبع اور باذوق میزبان کی دعوت پر اس کے وسیع و عریض بنگلے پر بطورِ مہمان تشریف لے گئے۔ وہ بنگلہ کیا تھا، گویا ایک ادبی خواب کی تعبیر، جہاں دیواروں پر مصوروں کے فن پارے، الماریوں میں ادب کے عظیم شہ پارے اور قالینوں پر ایسی نرمی جیسے الفاظ کسی شعر کے آغوش میں لیٹے ہوں۔ مگر حسنِ اتفاق یا ستمِ وقت کہیں کہ میزبان کسی ناگزیر مصروفیت کے باعث عین وقت پر غیر حاضر ہو گیا۔

اب استادِ محترم تنہائی کی رفاقت میں اس عالیشان ڈرائنگ روم میں براجمان تھے۔ کمرہ اگرچہ دلکش تھا، مگر دل کی تنہائی کو کون سا صوفہ یا پردہ بھر پاتا ہے ان کی طبیعت جو ہمیشہ شعر و سخن کی نازبردار رہی تھی، بے چینی کے عالم میں کسی جمالیاتی سہارے کی متلاشی ہوئی۔ یوں انہوں نے اپنے دل کی بے قراری کو تسکین دینے کے لیے ن م راشد کی ایک گنجلک، ثقیل اور الم انگیز نظم کے اشعار زیرِ لب گنگنانے شروع کر دیے۔

ان اشعار میں جو زبان برتی گئی تھی وہ خالص اردو کی اس سطح پر تھی جہاں روزمرہ کے مسافر کی رسائی نہیں۔ ”نیرنگیٔ افلاک“ ، ”نوائے شبانہ“ ، ”ظلماتِ فکر“ ، ”خلشِ ہستی“ اور دیگر ایسے الفاظ جو عام فہم اذہان کے لیے کسی جادوئی ورد سے کم نہ تھے، استاد کے لبوں سے یوں ٹپک رہے تھے جیسے بہار کے جھونکے کسی خزاں رسیدہ درخت کو گدگدا رہے ہوں۔

اتفاق ایسا ہوا کہ ڈرائنگ روم کے ایک کونے میں ایک نوکر، جو غالباً چائے یا پانی لے آیا تھا، استادِ محترم کی یہ پرجوش اور جذبات سے لبریز گائیکی سن کر ٹھٹھک گیا۔ وہ نہ صرف اشعار کی زبان سے ناآشنا تھا بلکہ استاد کی آنکھوں کی چمک، ہاتھوں کی جنبش اور آواز کی گونج نے اس کے دل میں ایک ایسا خوفناک تصور جنم دیا جو دیومالائی کہانیوں کا خاصا ہوتا ہے۔

نوکر نے دل ہی دل میں فیصلہ کر لیا کہ یہ مہمان کوئی عام شخص نہیں، بلکہ ضرور کوئی ”کالا جادو“ کرنے والا بزرگ ہے جو پتھروں، دیواروں اور پردوں سے مکالمہ کر رہا ہے اس نے گھبراہٹ میں کپکپاتے ہاتھوں سے فون اٹھایا اور جلدی جلدی اپنے مالک کو اطلاع دی۔ صاحب! وہ مہمان۔ وہ کچھ پڑھ رہے ہیں، ایسی آوازیں نکال رہے ہیں جیسے۔ جیسے کوئی کالا جادو کر رہا ہو۔ کوئی جنّی کام لگ رہا ہے صاحب!

میزبان، جو خود بھی استادِ محترم کے ادبی ذوق سے خوب واقف تھے، پہلے تو سُن سے رہ گئے، پھر فون پر استادِ محترم سے رابطہ کیا اور نہایت مؤدبانہ انداز میں دریافت کیا: ”سر! سب خیریت تو ہے نا آپ کے گرد کیسا ماحول ہے؟

استادِ محترم، جن کی طبیعت میں ہمیشہ ایک تہذیبی بانکپن اور لطافت کی رمق رہی ہے، گویا ہوئے، ”عزیزم! میں تو تمہارے انتظار میں ن م راشد کی ایک درد بھری نظم کے اشعار الاپ رہا ہوں۔ یہ اشعار میری تنہائی کے ساتھی اور تمہاری آمد کے منتظر ہیں۔

یہ جواب سنتے ہی میزبان بے اختیار قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔ وہ قہقہہ محض ہنسی نہ تھی بلکہ اس میں محبت، ادب اور صورتحال کی لطافت کے رنگ گھلے ہوئے تھے۔ اس کی ہنسی کی گونج ٹیلی فون کے اس پار بھی سنائی دی، اور استادِ محترم کی آواز میں ایک خفیف سی مسکراہٹ چھنکنے لگی جیسے کسی پرانی کتاب سے خشک پھول نکل پڑے ہوں۔

ادھر نوکر، جو ابھی تک کمرے کے ایک کونے میں بت بنے کھڑا تھا، میزبان کی ہنسی سن کر کچھ مطمئن ہوا، لیکن اس کے دل کے کسی کونے میں اب بھی یہ وسوسہ باقی تھا کہ شاید یہ ”ادبی جادو“ ہے، جو صرف خاص لوگوں کو ہنسا سکتا ہے اور عام لوگوں کو ڈرا سکتا ہے۔

یہ واقعہ مدتوں یاد رکھا جائے گا اور محفلوں میں اس کا تذکرہ یوں ہوتا جیسے کوئی نایاب تمثیل سنائی جا رہی ہو۔ یہ ادب اور روزمرہ زندگی کے درمیان ایک دلچسپ، نرالا اور مزاح سے لبریز تصادم تھا جہاں ایک طرف الفاظ کے جادوگر اپنی دنیا میں مگن تھے، تو دوسری طرف عام فہم عقل اپنی سادہ راہوں پر حیران و پریشان کھڑی تھی۔

Facebook Comments HS