آخری کہانی


syed ahsan taqveem

اس رات بارش کچھ زیادہ ہی زوروں پر تھی۔ کڑکتی بجلی اور برستی بارش میں کچھ اور سنائی نہ پڑتا تھا۔ پچھلے کچھ سالوں میں ایسی بارش نہ ہوئی تھی۔ چرند پرند، حشرات الارض اور جانور سبھی ادھر ادھر دبکے بیٹھے تھے۔ درخت ہوا میں ایسا جھولتے کہ گمان ہوتا کہ ابھی زمین کا بوسہ لے لیں گے۔ ایسے زوردار موسم میں وہ بوڑھا سگریٹ سلگائے کاغذ کے پلندے پر جھکا ہوا تھا۔ اس نے کھڑکیوں کے پردے گرا رکھے تھے۔ اس کو اس موسم سے شاید چنداں فرق نہ پڑتا تھا۔ اس کے دل میں ایسے موسم سے نہ تو کوئی رومانوی کیفیت بیدار ہوتی اور نہ ہی کسی خطرے کا گماں  ہوتا۔ وہ اسی سال کا ایک بوڑھا شخص تھا۔ شاید اس عمر میں لوگ ایسا ہی برتاؤ کرتے ہوں۔

وہ مسلسل دھواں پھونک رہا تھا۔ ان دنوں یہ اس کی واحد عیاشی تھی۔ شاید عیاشی کہنا مناسب نہیں۔ وہ دھواں پھونکتے وقت کچھ نہ کچھ لکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ یہ بات الگ ہے کہ وہ دھواں زیادہ پھونکتا اور الفاظ کم لکھتا تھا۔ اس کے بال اور شیو بڑھی ہوئی تھی۔ چاندی جیسے بال سر پر بکھرے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔ کچھ مہینوں سے وہ گھر سے باہر نہ نکلا تھا۔ بال ایسے بڑھے ہوئے تھے جیسے بالوں میں الیکٹرک چارج پیدا ہوا ہو۔ وہ منہ سے دھواں نکالتے وقت دھویں کو گھورتا جیسے الفاظ اسی دھویں سے نکالنا چاہتا ہو۔

اس کی ساری عمر لکھتے ہوئی گزری تھی۔ درجن بھر ناول شائع ہوئے۔ کچھ کتابیں افسانے کی اور کچھ تحقیق و تنقید کی تھیں۔ اس نے بلاشبہ ایک بھرپور ادبی زندگی گزاری  تھی۔ اس نے شہرت، اثر و رسوخ اور پیسہ سبھی کا ذائقہ چکھا۔ وہ کئی غیر ملکی دوروں پر رہا۔ ادبی کانفرنسوں کی صدارت اسی کے نام ہوتی۔ مختلف ٹی وی چینلز پر بطور مہمان مدعو کیا جاتا۔ کئی نئے لکھنے والے اس کی اوٹ میں رہتے، اس کے پاؤں دابتے اور اس کی ایک نگاہ کے طالب رہتے تھے۔

وہ ساٹھ سال تک پروفیسری بھی کرتا رہا۔ اس نے شادی کی اور بچے پیدا کیے۔ بچے لکھنے لکھانے کے عمل سے کوسوں دور رہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے وہ کیرئیر سیدھا کرنے کے بہانے بیرون ملک مقیم ہو گئے تھے۔ اس کی بیوی بچوں کی بنا نہ رہ پائی اور بچوں کے پاس ہی منتقل ہو گئی تھی۔ اب وہ بوڑھا گھر میں اکیلا تھا۔ ایک ملازمہ تھی جو دن بھر گھر کے کام سنبھالتی اور شام ہوتی ہی اپنے گھر کی اور ہو جاتی تھی۔ گھر کافی بڑا تھا مگر وہ اپنا زیادہ وقت اسٹڈی روم میں ہی گزارتا تھا۔ اسٹڈی روم میں چاروں اور کتابیں الماریوں میں سجی دکھائی پڑتی تھیں۔ کمرے کی چاروں دیواروں پر عمدہ لکڑی سے تیار کی گئی الماریاں تھیں جن میں کتابیں کافی سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔ ان کی صفائی ستھرائی ملازمہ ہی کرتی تھی۔

کافی تکلیف دہ بات ہے کہ پچھلے کچھ سالوں سے وہ کچھ نہ لکھ پایا تھا۔ ایسا شعوری طور پر نہ تھا۔ اس نے بہت کوشش کی تھی۔ اس نے پوری طرح خود کو مطالعہ میں غرق کر لیا تھا مگر لکھنے کو کچھ سوجھتا ہی نہ تھا۔ اس کے سامنے اس کی بھرپور ادبی زندگی تھی۔ کبھی کبھار تو وہ اسے شک کی نگاہ سے دیکھتا۔ وہ خود سے سوال کرتا کہ وہ سب حقیقت تھا یا محض ایک خواب؟

آج رات وہ خوش تھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس کا رائٹنگ بلاک ٹوٹ گیا ہے۔ ایک خیال اسے کے ذہن میں پھوٹا تھا۔ وہ اس خیال کو کہانی کا روپ دینا چاہتا تھا۔ اس نے مسلسل دھواں پھونکا اور لکھنا شروع کر دیا۔ اس کے پاس کہانی تھی۔ اس کے پاس کردار موجود تھا۔ وہ بس کہانی کو اسے ایک منطقی موڑ دینا چاہتا تھا۔ وہ گھنٹوں لگا رہا اور انتھک مشقت کے بعد اس نے کہانی مکمل کر ڈالی۔ باہر بارش رک چکی تھی۔ ہوا کا زور کافی حد تک کم ہو چکا تھا۔ وہ کرسی سے اٹھا اور بیڈ روم کی جانب چل دیا۔ اس نے لائٹ آن کی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ اس نے شیشے پر اٹی گرد کو صاف کیا۔ آج کئی مہینوں بعد اس نے خود کو دیکھا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی۔ یہ سچ ہے کہ وہ آج جوان دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی مسکراہٹ بالکل وہی مسکراہٹ تھی جو پہلی کتاب شائع ہونے کے بعد اس کے چہرے پر موجود تھی۔

رات کے دو بج چکے تھے۔ وہ بستر پر دراز ہو چکا تھا۔ چہرے پر خوشی تھی مگر نیند آنکھوں سے غائب تھی۔ یہ رات کافی سالوں کے بعد آئی تھی جس میں اس کو سونے کی پرواہ تھی۔ اگلی صبح ملازمہ دروازے پر موجود تھی۔ وہ مقررہ وقت سے آدھا گھنٹہ لیٹ تھی۔ لیکن اس کو لیٹ ہونے کی کچھ خاص پرواہ نہ تھی۔ وہ اکثر دیر سے پہنچتی اور بوڑھا اس سے کبھی شکایت نہ کرتا تھا۔ وہ مسلسل پانچ منٹ تک دروازہ کھٹکھٹاتی رہی مگر دروازہ نہ کھلا۔ اتنی دیر میں ساتھ والے گھر کی ملازمہ باہر نکل چکی تھی۔ دونوں ایک دوسرے سے گپیں  ہانکنے لگیں۔ باتیں کرتے ہوئے وہ ایک آدھ بار ہاتھ دروازے پر دے مارتی مگر سب لاحاصل تھا۔ اس نے ملازمہ کو کہہ کر ساتھ والے گھر سے مالی کو بلایا۔ مالی دیوار ٹاپ کر اندر داخل ہوا اور دروازہ اندر سے کھول دیا۔

بوڑھا اکثر صبح دیر سے اٹھتا تھا۔ ملازمہ کو کافی دفعہ دروازہ کھلوانے کے لیے مالی کی مدد لینا پڑی تھی۔ ملازمہ اندر داخل ہوئی۔ کچھ جھاڑ پونچھ کی اور سیدھا بیڈروم میں چلی گئی۔ بوڑھا سیدھی تان میں لیٹا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی تھیں اور چہرے پر بدستور مسکراہٹ تھی۔ ملازمہ نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔ اور بولی: کیا صاحب اب اس عمر میں آپ باولے بھی ہو گئے۔ اٹھیے، تیار ہو جائیے، میں ناشتہ لگاتی ہوں۔ بوڑھا بدستور بے حس و حرکت لیٹا رہا۔ ملازمہ کا ماتھا ٹھنکا۔ اس نے بوڑھے کا کندھا ہلایا مگر بوڑھا ابدی نیند سو چکا تھا۔

Facebook Comments HS