افسانہ: آواز

وہ اس دن سخت تھکن سے دوچار تھا۔ آنکھوں میں بوجھل پن دکھائی دے رہا تھا۔ نیند غلبہ پا رہی تھی۔ دفتر میں کام کی کثرت نے کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ آج بھی اسے دفتر کی اسائنمنٹ گھر پر مکمل کرنی تھی۔ نیند بھگانے کے لیے اس نے باتھ روم کا رخ کیا۔ وہ بیسن پر ہاتھ منہ دھونے لگا۔ جتنی بار بھی پانی کے چھینٹے منہ پر مارتا، نیند کا غلبہ اتنا ہی بڑھتا جاتا تھا۔ اس

Read more

افسانہ: خالی کرسیاں

رات کا کوئی پہر ہو گا۔ آسمان پر چاند مستعار لی ہوئی روشنی ہر سو بکھیر رہا تھا۔ گھر کے آنگن میں گھاس کا بستر لگا تھا۔ لان کے چاروں اور پھولدار پودے خوشبو کے ساتھ اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے تھے۔ اسی لان میں تین کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ گھر میں کوئی روشنی نہ جلتی تھی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ گھر کے اندر کوئی ذی روح تھا یا نہیں، اس بابت کچھ کہا نہیں جاسکتا

Read more

آخری کہانی

اس رات بارش کچھ زیادہ ہی زوروں پر تھی۔ کڑکتی بجلی اور برستی بارش میں کچھ اور سنائی نہ پڑتا تھا۔ پچھلے کچھ سالوں میں ایسی بارش نہ ہوئی تھی۔ چرند پرند، حشرات الارض اور جانور سبھی ادھر ادھر دبکے بیٹھے تھے۔ درخت ہوا میں ایسا جھولتے کہ گمان ہوتا کہ ابھی زمین کا بوسہ لے لیں گے۔ ایسے زوردار موسم میں وہ بوڑھا سگریٹ سلگائے کاغذ کے پلندے پر جھکا ہوا تھا۔ اس نے کھڑکیوں کے پردے گرا رکھے

Read more