ایٹمی دھماکوں میں ڈاکٹر قدیر خان کا کردار ۔۔۔ نذیر ناجی کے تاریخی انکشافات


ستائیس برس قبل 28 مئی 1998 کو پاکستان نے چاغی کے پہاڑوں میں ایٹمی دھماکے کئے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر قدیر خان کو بوجوہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کا بانی اور ہیرو قرار دیا گیا۔ ٹھیک پندرہ برس بعد مئی 2013 میں ملک کے معروف صحافی نذیر ناجی مرحوم نے ان دھماکوں میں ڈاکٹر قدیر خان کے کردار کا پول کھول دیا۔ واضح رہے کہ 1998 میں نذیر ناجی وزیر اعظم نواز شریف کے اندرونی حلقے کا حصہ تھے اور واقعات کے چشم دید گواہ تھے۔ مرحوم نذیر ناجی کے مشاہدات کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر ان کالموں کا متن ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے

٭٭٭        ٭٭٭

بھارت نے 11 مئی 1998 ء کو پوکھران میں ایٹمی دھماکے کیے۔ تین پہلے اور دو تیسرے دن۔ فوراً ہی بعد بھارتی لیڈروں کے لہجے بدل گئے۔ کسی نے کہا پاکستان کو اب اپنے سائز میں رہنا ہو گا۔ کسی نے اعلان کیا کہ دونوں ملکوں میں طاقتوں کا توازن بدل گیا ہے۔ پاکستان کو اپنی طاقت دیکھتے ہوئے ’ہم سے بات کرنی چاہیے۔ پرمودمہاجن، بی جے پی کا ایک انتہاپسندانہ ذہن رکھنے والا ابھرتا ہوا سیاستدان تھا۔ واجپائی اور ایڈوانی دونوں کا چہیتا تھا۔ مرکزی وزیربھی تھا۔ اس نے بڑھ چڑھ کے پاکستان کو اس کی کمتر حیثیت کا احساس دلانا شروع کر دیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ ایٹمی طاقت بن جانے کے بعد بھارت ناقابل شکست ہو چکا ہے۔ پاکستان کو اپنی اوقات میں رہنا ہو گا۔ بھارتی لیڈروں کے سارے بیانات سے لگتا تھا کہ اب ہمیں اچھوت کی زندگی گزارنا ہو گی۔ حساس پاکستانیوں کے لئے بھارتی لیڈروں کا یہ رویہ انتہائی تکلیف دہ تھا۔ نواز شریف ایک خود دار اور حساس انسان ہیں۔ وہ پاکستان کی اس کمزور پوزیشن کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔

بھارتی لیڈروں کے بیانات پڑھ پڑھ کے انہیں غصہ آ رہا تھا اور وہ دوسرے ہی دن یعنی 12 مئی کو یہ فیصلہ کر چکے تھے کہ نتیجہ چاہے کچھ بھی نکلے ’ہمیں ایٹمی دھماکے کرنا پڑیں گے۔ ان دنوں بحث چھڑی کہ پاکستان کو ایسا کرنا چاہیے کہ نہیں؟ نواز شریف نے جان بوجھ کر اس بحث کو طول دیا۔ کچھ لوگوں نے ایٹمی دھماکوں کی مخالفت شروع کر دی اور کچھ لوگ ان کی حمایت کرنے لگے اور نواز شریف اپنے ہر ملاقاتی سے ایک ہی سوال کرتے کہ ”ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ “ سب کی رائے سنتے اور خود خاموش رہتے۔ پاکستان کے اندر یہ بحث و مباحثہ سموک سکرین کا کام دے رہا تھا۔ بھارت سمیت دنیا کے تمام ممالک میں یہی تاثر تھا کہ پاکستان نے ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اگر اس پر دباؤ ڈال دیا جائے، تو ایٹمی دھماکوں سے روکا جا سکتا ہے۔ یہی نواز شریف چاہتے تھے۔ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا تھا؟ نواز شریف نے بھارتی دھماکوں کے فوراً ہی بعد اپنے سائنسدانوں اور ماہرین سے مشاورت شروع کر دی تھی۔

صورتحال کا ہنگامی جائزہ لینے کے بعد انہیں پتہ چلا کہ ہمیں ایٹمی دھماکے کرنے کے لئے کم از کم 10 دن درکار ہوں گے۔ ایسا نہیں تھا کہ تمام تیاریاں کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ ایک بہت بڑا کام ہوتا ہے۔ بم کو لیبارٹری سے لے کر تجربہ گاہ میں پہنچانے اور دھماکہ کرنے تک ’ایک سال درکار ہوتا ہے۔ یہ ایک سال والا کام پاکستان بہت عرصہ پہلے کر چکا تھا۔ سب سے مشکل کام دھماکے کی جگہ کا تعین اور تجربہ گاہ تعمیر کرنے کی تیاری تھی۔ پاکستان کے ماہرین نے بلوچستان میں دالبندین سے کوئی بیس پچیس کلومیٹر اندر سیاہ اور بے برگ پہاڑوں کی آغوش میں، ایک پہاڑی کے اندر گہری سرنگ کھود رکھی تھی۔ کمال یہ تھا کہ سپرطاقتوں کی تمام تر جاسوسیوں اور سراغ رسانیوں کے باوجود کسی کو علم نہ ہوا کہ پاکستان نے ایٹمی دھماکوں کی تیاری کہاں کر رکھی ہے؟ کی بھی ہے یا نہیں؟ لیکن ہم نہ صرف تیاری مکمل کر کے سرنگ کو تجربے کے لئے پوری طرح تیار کر چکے تھے بلکہ اسی پہاڑی کے ایک دوسرے حصے میں ہم نے بطن کوہ میں جدیدترین مانیٹرنگ سسٹم لگا رکھا تھا۔

اس میں وہ جدیدترین کمپیوٹر نصب تھے ’جو کھلی منڈی میں دستیاب نہیں اور کوئی بھی ایٹمی ملک ان کے آلات کی معمولی سی نقل و حرکت پر بھی چوکنا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کی حکومتوں نے ایٹمی میٹریل یا مانیٹرنگ سسٹم کے حصول کے لئے خدا جانے کتنے پاپڑ بیلے۔ لیکن دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونک کر وہ سب کچھ حاصل کر لیا، جو ایٹمی دھماکوں کی صلاحیت اور اچھے برے نتائج کی جانچ پرکھ کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔ مشکل ترین کام یہ ہوتا ہے کہ زمین یا پہاڑوں کی گہرائی میں جب ایٹم بم کا تجربہ کیا جائے ’تو گردونواح کے علاقے، ایٹمی ذرات اور غبار سے محفوظ رہیں۔

چاغی کے پہاڑ ایران کے قریب ہیں۔ ذرا سی بے احتیاطی بھی ہو جاتی ’تو ایٹمی غبار ایران کی فضاؤں میں جا سکتا تھا۔ لیکن پاکستانی ماہرین نے اپنے پہلے تجربے میں ہی اتنی مہارت اور فنی پختگی دکھائی کہ ہمارے تجربات ہر اعتبار سے محفوظ اور مکمل رہے۔ چاغی کی مذکورہ پہاڑی کی تہہ میں ہی مانیٹرنگ کا جو مرکز قائم کیا گیا تھا، اس کے تمام کمپیوٹرز نتائج کے جائزے کے لئے ہر طرح سے تیار تھے۔ نواز شریف نے ان تمام تیاریوں کا ہنگامی طور پر جائزہ لینے کا حکم دے دیا تھا اور 3 دن کے اندر اندر انہیں موقع کی رپورٹ آ گئی تھی۔

فوری طور پر تجربات کرنے والی ٹیم کو چاغی جانے کا حکم دے دیا گیا۔ 6 دنوں کے اندر اندر سائنسدانوں کی پوری ٹیم اور بموں کے الگ الگ حصے ’چاغی میں پہنچا دیے گئے اور وہاں جا کر انہیں مکمل بم کی صورت میں تیار کر لیا گیا۔ یہ سب کچھ مکمل رازداری اور احتیاط سے کیا گیا۔ اندر اندر سب کچھ ہو رہا تھا۔ لیکن باہر نواز شریف ملاقاتیوں سے پوچھ رہے تھے کہ ”کیا خیال ہے؟ ہمیں دھماکے کرنا چاہئیں یا نہیں؟“ عین اس وقت جب دھماکوں میں چند ہی روز باقی تھے، نواز شریف نے سینئرصحافیوں سے ایک ملاقات میں ان سے مشورے مانگے۔

ایک محترم بزرگ (مجید نظامی) نے کہا ”میاں صاحب! آپ دھماکے کریں۔ نہیں تو آپ کا دھماکا ہو جائے گا۔“ جملہ اچھا تھا۔ لیکن یہ اس وقت کہا گیا ’جب چاغی میں ساری تیاریاں مکمل تھیں۔ وہ بزرگ آج تک یہ سمجھتے ہیں کہ دھماکا ان کی دھمکی سن کر کیا گیا۔ آج یہ بتا دینے میں کوئی ہرج نہیں کہ اگر دھماکے کا فیصلہ، ان کے مشورے کی روشنی میں کیا جاتا ’تو عملدرآمد کے لئے پندرہ سولہ دن درکار ہوتے۔ لیکن دھماکا تو ان کے مشورے کے چند روز بعد ہی ہو گیا۔

جس سے ظاہر ہے کہ تیاری پہلے کی جا چکی تھی اور وزیراعظم نے اس کا حکم، مشورے سے بہت پہلے دے رکھا تھا۔ بات چل نکلی ہے ’تو محسن پاکستان کا بھی ذکر ہو جائے۔ میں نے جتنی تیاریوں کا ذکر کیا ہے، ان میں آپ کو ڈاکٹر قدیر کہیں نظر نہیں آئے ہوں گے۔ کہیں تھے بھی نہیں۔ ایٹم بم بنانے کا پہلا مرحلہ یورینیم کی افزودگی ہوتی ہے۔ اس کے بغیر ایٹم بم نہیں بنایا جا سکتا۔ ڈاکٹر قدیر پاکستانی حکومت کی پوری مدد اور خفیہ ذرائع سے استفادہ کرتے ہوئے ’ہالینڈ سے یورینیم افزودہ کرنے کا فارمولالے آئے تھے۔

پاکستان میں آ کر انہوں نے یہ ٹیکنالوجی ہمارے سائنسدانوں تک پہنچائی اور ہم یورینیم کو افزودہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ یقیناً یہ بہت بڑا کارنامہ تھا، جس کا تمام پاکستانی سائنسدان اعتراف کرتے ہیں۔ کیونکہ یورینیم کی افزودگی کے بغیر بم بنایا ہی نہیں جا سکتا۔ یاد رہے نظریۂ اضافت جس کے تحت ایٹمی توانائی دریافت کی گئی اور یورینیم کو افزودہ کرنے کی سائنس جو کہ ترقی یافتہ ملکوں میں رائج ہے۔ ان دونوں میں سے ڈاکٹر صاحب نے کوئی چیز ایجاد نہیں کی۔ انہوں نے اپنی ملازمت کے دوران افزودگی کا علم حاصل کیا اور خاکے وغیرہ لے کر پاکستان آ گئے۔ بہرحال محض افزودہ یورینیم سے بم نہیں بنتا۔ بم بنانے کی ٹیکنالوجی انجینئرنگ کا علیحدہ شعبہ ہے۔ اس کے لئے ورکشاپس بھی الگ ہیں اور ماہرین بھی۔ ان شعبوں کے سربراہ ڈاکٹرثمرمبارک مند تھے۔ وہی تمام ماہرین کو لے کر چاغی گئے۔ اسی ٹیم نے بم کو سرنگ میں نصب کیا۔ اسی ٹیم نے دور پہاڑوں پر بیٹھ کر سارے آپریشن کی نگرانی کی۔

اسی ٹیم نے پہاڑ کے بطن میں بنائے گئے مانیٹرنگ ہال میں تجربے کی کامیابی کے کوائف جمع کیے اور اس کے پرفیکٹ ہونے کی رپورٹ بنائی۔ اس پورے عمل میں ڈاکٹر قدیر کسی بھی مرحلے پر چاغی میں نہیں تھے۔ جب دھماکا کر لیا گیا اور وزیراعظم نواز شریف کو دعوت دی گئی کہ وہ تجربہ گاہ کے معائنے کے لئے آئیں ’وہ اپنے قریبی ساتھیوں کو لے کر چاغی کے لئے روانہ ہوئے۔ مجھے بھی اس ٹیم میں شامل ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ہم لوگ شام کے وقت کوئٹہ پہنچے۔ پرنس اورنگ زیب بلوچستان کے گورنر تھے۔ بیگم اورنگ زیب انتہائی سلیقہ مند اور مہمان نوازخاتون تھیں، جس کا اندازہ گورنر ہاؤس میں ہمیں اپنے رہائشی کمرے دیکھ کر ہوا۔ ہرمہمان کے لئے ضرورت کی تمام اشیا انتہائی خوبصورتی اور ترتیب سے رکھی تھیں۔ کوئی چیز ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی۔ جب اور جس وقت کسی چیز کی ضرورت ہوتی ’مہمان کا ہاتھ آسانی سے وہاں پہنچ جاتا۔ ہم سب کو ان کی میزبانی اور سلیقہ کبھی نہیں بھولے گا۔

خیرہم گورنرہاؤس میں رات کے کھانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک ڈاکٹر قدیر خان تشریف لائے۔ ہم سب انہیں دیکھ کر حیران ہوئے۔ اس حیرانی میں نواز شریف بھی شامل تھے۔ جس سے اندازہ ہو گیا کہ ان کی آمد وزیراعظم کے لئے بھی غیرمتوقع ہے۔ اگلی صبح جب ہم دالبندین کے لئے روانہ ہونے والے تھے، تو میں نے ڈاکٹرقدیر خان کو وزیراعظم سے یہ کہتے سنا کہ ”میں آپ کے ساتھ جا سکتا ہوں؟“ نواز شریف نے حسب عادت بڑی شائستگی اور احترام سے انہیں ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے کی دعوت دی۔ قصہ کافی دلچسپ ہے۔

دالبندین ائرپورٹ پر اترے ’توشہر کے در و دیوار ہمیں مزید حیران کرنے کے لئے تیار تھے۔ جیسے ہی گاڑیوں میں بیٹھ کر ائرپورٹ سے نکلے، تو در و دیوار پر ہر طرف ڈاکٹر قدیرخان کی رنگین تصاویر کے پوسٹر لگے تھے۔ ساتھ نواز شریف کی تصویر بھی لگا دی گئی تھی اور ”ایٹم بم کے خالق“ ڈاکٹر قدیر خان کے اس احسان عظیم پر ان کی تحسین کی گئی تھی کہ انہوں نے تن تنہا پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیربنا دیا۔ باقی دنیا میں کریڈٹ دیے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بیشتر معاملات میں کریڈٹ خریدے جاتے ہیں۔ اس کی مثال پاکستان کا ایٹم بم ہے۔ میں کل عرض کر چکا ہوں کہ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت میں بے شمار لوگوں کا حصہ ہے۔ اس کی ابتدا ذوالفقار علی بھٹو سے ہوتی ہے اور تکمیل نواز شریف کے ہاتھوں ہوئی۔ درمیانی عرصے میں پاکستان کے ہر سربراہ مملکت نے اس میں اپنا اپنا حصہ ڈالا۔ ضیا الحق اپنے دور میں اس کام کو آگے بڑھاتے رہے۔ ان کے بعد غلام اسحق خان آئے ’انہوں نے بھی یہی کیا اور نواز شریف آئے، تو انہوں نے اس عظیم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

ڈاکٹر قدیر کی اس خدمت کا سب اعتراف کرتے ہیں کہ وہ یورینیم کو افزودہ کرنے کی ٹیکنالوجی پاکستان میں لائے اور مقامی سائنسدانوں کو اس کی تربیت دی اور مطلوبہ مقدار میں یورینیم افزودہ کر کے بم ساز ٹیم کے سپرد کر دیا۔ مگر بم ڈاکٹر صاحب کی لیبارٹری میں نہیں بنا تھا۔ بم علیحدہ فیکٹری میں تیار کیا گیا۔ یہ کام ایک دوسری ٹیم نے انجام دیا۔ ڈاکٹر صاحب کو آڈٹ کے بغیر جو وافر فنڈز مہیا کیے گئے تھے، ڈاکٹر صاحب نے ان کا ایک بڑا حصہ اپنی تشہیر پر صرف کیا۔ میڈیا کے کچھ لوگ شیشے میں اتارے گئے۔ انہوں نے یہ ڈیوٹی ایسے انداز میں انجام دی ’جیسے وہ سب کچھ ڈاکٹر صاحب کی عقیدت میں کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو ہیروبنانے کی مہم پر جتنے بھی لوگ مامور تھے، انہیں پیشہ صحافت سے وابستہ تمام قابل ذکر لوگ جانتے ہیں کہ انہیں کسی سے بھی مفت کی عقیدت نہیں ہوتی۔ انہی لوگوں نے ڈاکٹر صاحب کو خطابات سے نوازا اور انہیں پاکستانی ایٹم بم کا خالق ثابت کرنے پر ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

اسی شہرت کی بنا پر ڈاکٹر صاحب نے سماجی سرگرمیاں شروع کر دیں اور بم کے خالق کے منصب پر زبردستی براجمان ہو کر بیٹھ گئے۔ خود تراشیدہ ’مصنوعی عزت و احترام کے لبادے میں، انہوں نے ایٹمی رازوں کا جو اتوار بازار لگایا، اس کی تفصیل دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیوں کے پاس موجود ہے۔ امریکہ اس کارستانی کی تحقیقات کے لئے ڈاکٹر صاحب کو اپنی تحویل میں لینا چاہتا تھا۔ لیکن جنرل پرویزمشرف نے، امریکہ کو اپنی خدمات کا واسطہ دے کر کہا کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو تحویل میں لینے کی ضد چھوڑ دے، وہ انہیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے علیحدہ کر دیتے ہیں اور جو معلومات ڈاکٹر صاحب سے مطلوب ہیں، وہ پاکستانی ایجنسیوں کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس سلسلے میں کیا کچھ کیا گیا؟ لیکن یہ حقیقت ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی جان بچا لی گئی۔ ڈاکٹر قدیر نے ایک قابل قدر کام کر کے اس سے کہیں زیادہ فوائد حاصل کیے۔ انہیں بے حساب دولت دی گئی، جو غریب پاکستان کے خون پسینے کی کمائی تھی۔ انہیں سربراہ مملکت جیسی پروٹوکول اور مراعات دی گئیں۔ انہیں دنیا بھر میں خرچ کرنے کے لئے بے حساب زرمبادلہ دیا گیا۔ مگر وہ اس پر بھی مطمئن نہ ہوئے اور ایٹمی رازوں کا اتوار بازار لگا دیا۔

جس کی وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہوا۔ حتیٰ کہ ہمارے ایٹمی اثاثے تک خطرے میں آ گئے۔ پاکستانی قوم نے کسی دوسرے ملک سے ایک ایٹمی راز لے کر آنے کے عوض جو کچھ ڈاکٹر صاحب کے قدموں میں نچھاور کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایٹم بم اور یورینیم کی افزودگی کے حقیقی موجدوں کو بھی، وہ کچھ نہیں ملا ہو گا، جو کچھ ڈاکٹر صاحب کو دے دیا گیا۔ اس کے باوجود ان کی خواہشیں پوری نہ ہوئیں۔ ایک عرصے سے وہ سربراہ مملکت کا منصب مانگ رہے ہیں اور جو ان کی خواہش پوری نہیں کرتا، اس کے خلاف ہو جاتے ہیں۔

کل یوم تکبیر پر انہوں نے نواز شریف کو بھی معاف نہیں کیا اور جب پوری قوم انہیں خراج تحسین پیش کر رہی تھی ’تو ڈاکٹر صاحب بیان جاری فرما رہے تھے کہ ”ایٹمی دھماکہ کر کے نواز شریف نے کوئی احسان نہیں کیا۔“ وہ اپنی ذاتی خواہشات پر کسی کی بھی عزت، شہرت اور وقار کو داغدار کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ میرا خیال ہے نواز شریف اب کارگل کے ساتھ ساتھ، ڈاکٹر صاحب کی خفیہ سرگرمیوں کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کر دیں۔ پہلے تو میڈیا کے ان حواریوں کو پکڑیں، جنہوں نے انہیں محسن پاکستان بنانے کی کوشش کی اور تحقیق کریں کہ انہیں معاوضے میں کتنے فنڈز دیے گئے؟

پاکستان کے ایٹمی رازوں سے ڈاکٹر صاحب نے عالمی بازار میں کتنا کچھ کمایا؟ اس کی رپورٹیں تمام بڑی خفیہ ایجنسیوں کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔ پاکستان کے طلب کرنے پر یہ رپورٹیں دستیاب ہو سکتی ہیں۔ پرویزمشرف کے زمانے میں پاکستانی ایجنسیوں نے ان سے جو اعترافات حاصل کیے، وہ بھی ریکارڈ پر ہوں گے۔ وقت گزرنے کے بعد ملک و قوم کے مفاد کے خلاف کی گئی حرکات کا ریکارڈ بہرحال سامنے آنا چاہیے۔ ہم صحافیوں کے کھانے اور ہوٹل میں قیام کرنے کے اخراجات شائع ہو سکتے ہیں تو اربوں روپے کی قومی رقوم اور قومی رازوں سے کمائے گئے بے شمار ڈالروں کی تفصیل کیوں سامنے نہیں لائی جا سکتی؟

کارگل کے واقعات نے اگر پاکستان اور بھارت میں امن کی کوششوں کو پیچھے دھکیلا، تو ڈاکٹر صاحب کی سرگرمیوں کی وجہ سے پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی کئی بار خطرات کی زد میں آیا۔ یہ دونوں معاملات ہی تحقیق طلب ہیں۔ چاغی پہنچ کر، ایٹم بم کے خالق کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوئیں۔ جب ہم بم کی تجربہ گاہ یعنی سرنگ کے اندر گئے تو وہاں پر رہنمائی کے فرائض ڈاکٹر اشفاق ادا کر رہے تھے۔ ڈاکٹر قدیر کے لئے یہ سرنگ بھی اسی طرح ان دیکھی تھی، جیسی ہمارے لئے۔

وہ قدم قدم پر بچنے کی کوشش کرتے ہوئے چل رہے تھے۔ انہیں کچھ پتہ نہیں تھا کہ کہاں پر کیا ہوا ہو گا؟ اور نہ ہی انہیں یہ پتہ چلا کہ بم کی تنصیب کہاں پر ہوئی تھی؟ تجربہ گاہ کہاں سے بند کی گئی تھی؟ یہ سب کچھ ڈاکٹر اشفاق بتا رہے تھے اور ڈاکٹر صاحب ہماری ہی طرح یوں سن رہے تھے جیسے انہیں پہلی بار پتہ چلا ہو۔ سرنگ سے نکل کر ہم مانیٹرنگ ہال میں گئے۔ وہاں دنیا کے جدید ترین کمپیوٹرز نصب تھے، جو ایٹمی تجربے کے مختلف پہلوؤں کی ریکارڈنگ کر کے الگ الگ رپورٹ بناتے ہیں۔

یہ میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ایسے کمپیوٹر نہ صرف یہ کہ عالمی منڈی میں دستیاب نہیں بلکہ ان کی خریدوفروخت پر بھی کڑی پابندیاں اور پہریداریاں ہیں۔ پاکستان نے یہ سب کچھ کیسے حاصل کیا؟ یہ وہی گمنام لوگ جانتے ہیں، جنہوں نے یہ کارنامے انجام دیے اور کئی بیچارے تو ایٹمی آلات کے حصول کی کوشش میں پردیس کی جیلوں اور اذیت گاہوں میں بھی چلے گئے۔ یہ گمنام لوگ ہمیں ایٹمی طاقت بنانے کے جرم میں خدا جانے کیسی تکالیف سے گزرے ہوں گے؟

ہمارے ایٹمی پروگرام کے یہ گمنام محسن بھی شکریے کے مستحق ہیں۔ اب مانیٹرنگ ہال کی سنیئے! وہاں نصب کمپیوٹروں اور دیگر پیچیدہ آلات کے بارے میں ڈاکٹرثمرمبارک مند وزیراعظم کو بریفنگ دے رہے تھے۔ اس بریفنگ کو ہم سب کی طرح ڈاکٹرقدیرخان بھی غور سے سن رہے تھے۔ جس سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ سب کچھ بھی پہلی مرتبہ ان کے علم میں آ رہا ہے۔ میں نے چاغی میں جو کچھ دیکھا، اس کے بعد تو مجھے یقین ہو گیا کہ ڈاکٹر صاحب کا حصہ صرف یورینیم کی افزودگی تک ہے، بم بنانے کے کام میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔

ایک اور بات کی وضاحت کر دوں کہ جب پاکستان کا ایٹمی پروگرام تکمیل کے قریب پہنچا تو ایسے بہت سے دعویدار پیدا ہو گئے، جو کہتے تھے کہ اس کام میں ہم نے بھی پاکستان کی مدد کی ہے۔ جب میں نے نواز شریف سے ان دعوؤں کے بارے میں دریافت کیا ’تو ان کا جواب تھا ”ہمارے ایٹمی پروگرام کا ایک ایک پیسہ پاکستان کے خزانے سے خرچ ہوا ہے۔ اس طرح کے تمام دعوے غلط اور بے بنیاد ہیں۔“ مناسب ہوتا کہ یوم تکبیر کی نسبت سے وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں پھیلائے گئے شکوک شبہات پر ایک تحقیقی کمیشن قائم کریں، جو تمام جھوٹے دعوؤں اور جھوٹی رپورٹوں کی حقیقت معلوم کر کے ’پاکستانی عوام اور دنیا کے سامنے لائے۔

Facebook Comments HS