31 مئی یوم انسداد سگریٹ نوشی


muhammad salim gujranwala

اب تو سب کے علم میں ہے کہ سگریٹ نوشی انسانی صحت کے لیے بہت ہی مضر اثرات کی حامل اور نقصان دہ ہے۔ لیکن سگریٹ نوشی میں کوئی واضح کمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔ شروع سے ہی سگریٹ نوشی کے اشتہارات اتنے دلفریب اور شاندار ہوتے تھے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی سگریٹ نوشی کرنے کو دل کرتا تھا۔ کرکٹ یا دوسرے کھیل ہوں، تعمیراتی کام ہوں یا ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنی ہو، بل فائٹنگ کرنی ہو یا کوئی مشکل مہم سر کرنی ہو دی کیپسٹن ورلڈ اوور کے ساتھ ہوتی۔

کرکٹ ولز سگریٹ کے ساتھ چلتی، ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی سر کر کے مارون گولڈ پیا جاتا تھا۔ گولڈ لیف سگریٹ کی تشہیر، انگریزی فلم دی سپائی ہو لوڈ می کا ایک منظر لگتا تھا۔

پتا نہیں چائے نوشی اور سگریٹ نوشی میں کیا دھرا ہے جو چاہتے ہوئے بھی نہیں چھوڑی جا سکتی ہیں۔ دانشوروں اور شعراء کی ساری گتھیاں سگریٹ نوشی کرتے ہوئے اور چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے ہی سلجھتی ہیں، نئی آمد ہوتی ہے اور نئے خیالات ذہن میں آتے ہیں۔ شہروں کے قہوہ اور چائے خانے انہی دو سوغاتوں، دانشوروں اور شعراء کے دم قدم سے قائم و دائم اور پر رونق ہیں۔

پھر جب تحقیقات اور تجربات سے سگریٹ نوشی کے انسانی صحت پر مضر اثرات کے متعلق علم ہوا تو سب سے پہلے سگریٹ نوشی کی دلفریب اور شاندار تشہیر ختم کی گئی، کھیلوں سے سگریٹ ساز کمپنیوں کا تعاون ختم ہوا، 18 برس سے کم عمر افراد کو سگریٹ بیچنے سے ممانعت کا قانون بنا، سگریٹ کی ڈبیا پر پہلے وزارت صحت کی جانب سے سگریٹ نوشی باعث سرطان ہے اور بعد میں کچھ کم خطرناک بیماری گینگرین کا باعث ہے جیسے انتباہی جملے شائع کیے گئے۔ کچھ لوگوں نے ڈر کے مارے سگریٹ تو چھوڑ دیے لیکن نوشی کو کبھی بھی نہ چھوڑ سکے۔

پرانے گھاگ کھلاڑی میدان میں ہی رہے اور انہوں نے کسی تنبیہ یا خطرناکی کو درخور اعتناء نہ سمجھا۔ سگریٹ پر سگریٹ سلگاتے رہے، سگریٹ پکڑنے والی انگلیاں اور پینے والے ہونٹ دھویں سے پیلے اور سیاہ ہو گئے، کھانس کھانس کے پھیپھڑے جواب دے گئے، سانس کی بیماریاں ٹی بی، دمہ، منہ، گلے اور پھیپھڑوں کا سرطان لاحق ہو گیا لیکن سگریٹ نوشی سے بالکل بے وفائی نہ کی اور حق وفا نبھاتے نبھاتے اگلے جہان چلے گئے۔ تاہم اگلے جہان جانے سے پہلے وہ ہزاروں روپے کی سگریٹ نوشی کر کے اور کئی لوگوں کو دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں میں مبتلاء کر گئے۔ اگر وہ سگریٹ نوشی نہ بھی کرتے تو ان کی یہ رقم کسی اور کام نہیں آنی تھی، اچھا ہوا اپنا شوق پورا کر گئے اور کئی دوسرے لوگوں کو بھی یہ لت لگا گئے۔

اب یہ پڑھ کر آپ زیادہ خوش نہ ہوں۔ سگریٹ نوشی واقعی ہی انسانی زندگی کے لیے سم قاتل ہے۔ سگریٹ نوشی سے پوری دنیا میں سالانہ 60 لاکھ انسان موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جن میں 6 لاکھ صرف سگریٹ نوشی کے دھویں سے متاثر ہو کر فوت ہو جاتے ہیں۔ ایک سگریٹ پینے سے انسانی زندگی کے کچھ منٹ کم ہو جاتے ہیں۔ سانس، پھیپڑوں اور دل کی کئی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں جن میں سب سے خطرناک منہ گلے اور پھیپھڑوں کا سرطان ہوتا ہے۔ سگریٹ نوشی کرنے سے کئی قسم کے زہریلے ذرات انسانی پھیپھڑوں اور خون میں شامل ہو جاتے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے نکلنے والا دھواں سگریٹ نوشی کرنے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس لیے پر ہجوم جگہوں، شفا خانوں، سیر گاہوں، جامعات اور مدارسِ، خریداری مراکز، لاری اور ہوائی مستقر، بسوں گاڑیوں، ٹرین اور ہوائی جہازوں میں سگریٹ نوشی ممنوع کر دی گئی ہے۔ ہر جگہ سگریٹ نوشوں کے لیے مخصوص جگہیں بنائی گئی ہیں تاکہ لوگوں کو اس کے مضر اثرات سے بچایا جائے۔

موجودہ دور میں خواتین میں بھی سگریٹ نوشی کا بڑھتا ہوا رجحان دیکھا گیا ہے۔ خواتین میں سگریٹ نوشی کے مضر اثرات مردوں کی نسبت زیادہ ہوتے ہیں۔ سگریٹ نوشی سے جہاں خواتین کی اپنی صحت خراب ہوتی ہے وہاں ان کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی نقاص، حمل کی پیچیدگیاں، اسقاط عمل اور غیر صحت مند بچوں کی پیدائش جیسے عوامل پیدا ہو جاتے ہیں۔

ان تمام مضر اثرات سے بچاؤ کے لیے سگریٹ نوشی کی تشہیر پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ تمباکو کی فصل کاشت کرنے کی بجائے دوسری غذائی فصلات کاشت کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ سگریٹ نوشی کافی خطرناک بیماریوں اور منشیات کے استعمال کی جڑ ہے۔ سگریٹ نوشی کر کے خطرناک بیماریوں اور ان کی پیچیدگیوں سے مرنے کی بجائے صحت مند رہ کر مرنا بہت بہتر ہے۔

Facebook Comments HS