مقبولیت یا منڈی کا مال

پاکستانی سیاست میں اگر کوئی شے مستقل رہی ہے تو وہ ہے غیر مستقل مزاجی۔ بیانیے آتے ہیں، جلسے جاتے ہیں، اتحاد بنتے ہیں، اپوزیشن بکھرتی ہے، مگر جو شے ہر موسم میں پکی فصل کی طرح اگتی ہے، وہ ہے ”عمران خان“ ۔
سیاسی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا لیڈر گزرا ہو جس کے حامیوں اور مخالفوں نے اسے اتنا ”بیچا“ ہو۔ جی ہاں، بیچا، جیسے کوئی مارکیٹ پراڈکٹ ہو۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں سیاست نظریے سے زیادہ یوٹیوب کی ویوز اور وی لاگ کی ریٹنگ پر چلتی ہے۔ اور عمران خان؟ وہ تو شاید ایک ایسا ڈیجیٹل اثاثہ بن چکے ہیں، جس پر بات کیے بغیر صحافی کا چینل نہیں چلتا، اور مخالف کی تقریر مکمل نہیں ہوتی۔
کبھی محسوس ہوا کہ پاکستانی سیاست اب کوئی نیٹ فلکس ڈرامہ بن چکی ہے؟ ہر کردار کو مخصوص تاثر میں پیش کیا جاتا ہے، کوئی ولن، کوئی ہیرو، کوئی غدار، کوئی مظلوم۔ اور عمران خان؟ وہ تو شاید ان سب کرداروں کا مرکزی محور ہیں۔
کبھی وہ سلیکٹڈ ہوتے ہیں، کبھی ڈسا ہوا سسٹم کا شکار۔ کبھی وہ تباہی کے بانی کہلاتے ہیں اور کبھی انقلاب کے امام۔
حیرت اس بات پر نہیں کہ لوگ ان سے محبت کرتے ہیں، بلکہ حیرت اس پر ہے کہ جو ان سے نفرت کرتے ہیں، وہ بھی ان پر روزانہ پانچ وی لاگ کرتے ہیں۔
تحقیقات بتاتی ہیں 2022 سے 2024 کے دوران پاکستانی یوٹیوب چینلز پر سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی سیاسی شخصیت عمران خان تھے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ رجحان ان کے اقتدار سے علیحدہ ہونے کے بعد مزید بڑھا
اب صورتحال یہ ہے کہ:
”وی لاگ کرو۔ عمران خان پر۔
تحقیق لکھو۔ عمران خان پر۔
مذاق اڑاؤ: عمران خان پر۔
مداحی کرو: عمران خان پر۔
روٹی کماؤ۔ عمران خان پر۔
سوشل میڈیا پر یہ لطیفہ زبان زد عام ہے کہ ”اگر تم عمران خان پر پانچ منٹ کا ویڈیو بنا کر اپلوڈ کرو، تو نہ صرف تمہیں ڈالر ملیں گے بلکہ اگلی صبح تم خبروں میں بھی ہو گے۔
سیاسی مخالفین جب عمران خان پر تنقید کرتے ہیں تو بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دل ہی دل میں اس مقبولیت کے قائل بھی ہیں۔ آخر وہ جانتے ہیں کہ اگر وہ ان کا نام نہ لیں تو ان کا اپنا بیان وائرل نہیں ہو گا۔
ایک سیاسی مبصر نے تو مذاقاً کہا عمران خان پر اگر پابندی لگ جائے، تو آدھے وی لاگرز روزی روٹی کے لیے ٹک ٹاکرز بن جائیں گے۔
سوال یہ ہے کیا مقبولیت خود بخود پیدا ہوئی یا اسے منظم انداز میں کمرشلائز کیا گیا؟ میڈیا انڈسٹری کے کئی ماہرین مانتے ہیں کہ عمران خان اب صرف سیاسی لیڈر نہیں، بلکہ ایک برانڈ ہیں۔ ایک ایسا برانڈ جس پر کام کرنا ہر یوٹیوبر، ہر تجزیہ کار اور ہر مخالف پارٹی کے لیے ضروری ہے۔
جیسے کوکا کولا کے بغیر فاسٹ فوڈ مکمل نہیں، ویسے ہی عمران خان کے ذکر کے بغیر پاکستانی سیاست ادھوری لگتی ہے۔
یہ سیاست ہے یا ریٹنگ گیم؟
اگر آج کوئی نیا یوٹیوبر اپنا چینل بنائے اور اسے راتوں رات مقبول کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ وی لاگ کا عنوان رکھے :
”عمران خان کا اصل چہرہ سامنے آ گیا“ اس وی لاگ میں چہرہ نہ بھی دکھائیں تب بھی ویوز آئیں گے۔
تو جناب، پاکستان کی سیاست اب ویژن اور منشور پر نہیں، بلکہ ویوز پر چلتی ہے۔ اور جب تک یہ ویوز ہیں، عمران خان پر سیاست کرنا ایک نفع بخش کاروبار ہے۔ چاہے حمایت میں ہو یا مخالفت میں۔
کہتے ہیں سیاست دان وہ ہوتا ہے جو جلسے میں عوام کے نعرے سنتا ہے، پارلیمان میں اپوزیشن کی تنقید اور گھر آ کر بیگم کی بے زاری۔ مگر عمران خان وہ سیاست دان ہیں جن پر لوگ تب بھی بولتے ہیں جب وہ خود چپ ہوتے ہیں۔
یقین نہ آئے تو کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر چلے جائیں۔ جیسے ہی ”I“ لکھیں، باقی ”mran Khan“ خود بخود آ جاتا ہے۔ لگتا ہے گوگل بھی اب خان صاحب کا حامی ہو گیا ہے۔
گزشتہ چند سالوں سے ملکی سیاست کا ایسا حال ہو چکا ہے جیسے سارا سیاسی نظام ایک ہی تھالی میں کھچڑی بن چکا ہو۔ اور اس تھالی میں سب سے زیادہ نمک، مرچ، اور مرچوں والی باتیں عمران خان سے متعلق نکلتی ہیں۔
کسی دور میں صحافت قلم سے ہوتی تھی، اب کیمرے کے زاویے سے ہوتی ہے۔ ہمارے وی لاگرز ایسے ایسے انکشافات کرتے ہیں کہ بندہ سوچتا ہے کہ اگر یہی خبریں 1971 میں آ جاتیں تو شاید تاریخ کچھ اور ہوتی۔
آج کل تو یوٹیوب چینل کی کامیابی کا فارمولا کچھ یوں ہے :عمران خان کی تصویر لگائیں۔ ویڈیو کا ٹائٹل رکھیں : ”اصل چہرہ سامنے آ گیا اندر کچھ بھی نہ دکھائیں، صرف تبصرہ کریں، غصہ کریں، یا دعائیں دیں۔
وی لاگرز کا حال کچھ یوں ہے جیسے
”اگر عمران خان سو رہے ہیں، تو وہ کیوں سو رہے ہیں؟
اگر جاگ رہے ہیں، تو کس کے خلاف جاگ رہے ہیں؟
اگر کچھ نہیں کر رہے، تب بھی خطرناک ہیں، کیونکہ کچھ نہ کرنا بھی ایک سازش ہو سکتی ہے۔
عمران خان کے سیاسی مخالفین کی بھی ایک عجیب محبت ہے۔ وہ دن میں چار تقریریں کرتے ہیں، تین میں خان صاحب کا ذکر لازم ہوتا ہے۔
ایسا لگتا ہے جیسے ان کا سیاست میں وجود خان صاحب کے تذکرے کے بغیر ادھورا ہے۔
جیسے شاعر کے کلام میں ”محبوب“ ، ویسے ان کی تقریر میں ”عمران خان“ ۔
اب تو سیاسی کارکنوں میں نیا مقابلہ چل پڑا ہے۔
کس نے عمران خان پر زیادہ زہریلا تبصرہ کیا؟
بمقابلہ کس نے زیادہ جذباتی مدح سرائی کی؟
ایک طرف ”خان کو بچانا ہے“ کے نعرے لگ رہے ہیں، دوسری طرف ”خان کو فارغ کراؤ“ کے بیانیے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی ”خان پر کمانا ہے!“ کی خاموش جنگ میں مصروف ہیں۔
عمران خان: سیاسی لیڈر یا ڈیجیٹل پراڈکٹ؟
خان صاحب اب صرف ایک سیاسی شخصیت نہیں، بلکہ ایک برانڈ بن چکے ہیں۔ جیسے ڈرائنگ روم میں ٹی وی کے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی، ویسے ہی یوٹیوب پر خان صاحب کے بغیر وی لاگ مکمل نہیں ہوتا۔ بعض یوٹیوبرز تو یہ بھی کہتے پائے گئے : یار کل ویڈیو میں نواز شریف کا ذکر کیا، تو صرف 2 ہزار ویوز آئے، لیکن جیسے ہی خان صاحب پر بات کی، 50 ہزار ویوز اور ساتھ میں سپانسر شپ بھی!
یعنی اب خان صاحب سیاسی رہنما کم، اور ڈیجیٹل سرمایہ زیادہ بن چکے ہیں۔ سیاست سے زیادہ، سوشل میڈیا کی ”ضرورت۔
ہماری سیاست میں آج کل عمران خان کا نام لینا ایسا ہے جیسے سالن میں نمک۔
اگر زیادہ ہو، تو بھی شور،
اگر کم ہو، تو بھی شور، اور اگر بالکل نہ ہو، تو کھانے والے منہ بنا کر کہہ دیتے ہیں : ”کچھ مزہ نہیں آیا۔ بس یہی حال ہمارے سیاسی منظرنامے کا ہے۔ خان صاحب کے بغیر نہ کوئی تقریر مکمل لگتی ہے، نہ کوئی طنز، نہ کوئی تحریر اور نہ کوئی یوٹیوب چینل۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں عمران خان پر کمانے کے بجائے سیاست کو سمجھنے اور سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے اور اگر یہ ممکن نہ ہو، تو کم از کم وی لاگ میں کچھ نیا دکھانے کی توفیق ہی دے دے۔

